
کراچی ( رپورٹ جوہر مجید شاہ) واٹر کارپوریشن کی کالی بھیڑوں کا نیاء جال تیار ‘ نئی بوتل پرانی شراب ‘ شہریوں کے پانی پر ڈاکہ زن و پانی مافیا کا نام چین ڈان ‘ شکیل مہر ‘ کی زیر نگرانی و سرپرستی ‘ نئی یونین ‘ گراونڈ واٹر آپریٹرز ایسوسی ایشن ‘ کے بینر تلے پانی چوری مافیا کو قانونی تحفظ مل گیا نئی بنائی گئی یونین کے پس پردہ اور اصل کھلاڑی’ شکیل مہر ‘ قرار دئے جارہیں ہیں مبینہ طور پر افتتاح کرنے والوں سمیت شامل دیگر عناصر مختلف سنگین الزامات کی زد میں رہیں یونین میں ترجمان سائٹ لمیٹیڈ ‘ اویس اقبال ‘ قیوم زئی جنرل سکریٹری لیبر فرنٹ ‘ جمیل سندھ ‘ ق لیگ صدر ‘ شامل ہیں نئی یونین کا افتتاح جمیل نے کیا جو کہ سندھ ق لیگ کے صدر ہیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مزکورہ بنائی گئی یونین میں شہر بھر میں پانی چوری کا قدیم اور سب سے بڑا نیٹ ورک چلانے والا ‘ شکیل مہر ‘ بھی شامل ہے ذرائع کا دعویٰ ہے جس پر متعدد ‘ ایف آئی آرز بھی درج ہوئیں اور جو گرفتار بھی ہوا شکیل مہر کے تعلقات اور اثر رسوخ کا کمال یہ ہے کہ مزکورہ یونین میں اسکا نام اور سکہ چل رہا ہے بنائی گئی یونین کو ابھی ایک ہفتہ ہی گزرا ہے مگر اس یونین میں شامل دیگر عناصر اس یونین کے اغراض و مقاصد کو ظاہر کر رہیں ہیں مزکورہ یونین محکمہ ‘ سوشل ویلفیئر ‘ سے قانونی طور پر رجسٹرڈ ہے کہ نہیں ابھی اسکی تصدیق تو نہیں ہوسکی مگر ‘ لمبے ہاتھ و باریک کام اتارنے والوں کیلے رجسٹریشن کوئی معنی و بڑی بات نہیں ‘ سب سوئل پانی کے نام پر یونین بنانے والوں میں اویس اقبال بھی شامل ہے جسکے پاس سب سوئل کے لائسنس کا ہمیشہ شور رہا ہے اویس اقبال بھی پانی چوری نیٹ ورک کا مرکزی کردار رہا ہے جمیل نامی شخص جو کہ سندھ ق لیگ کی صدارت کے منصب پر فائز ہیں انکی شہرت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مزکورہ یونین کے مرکزی کرداروں سے کون واقف نہیں ایسے عناصر کی مزکورہ یونین سیاسی و سرکاری اداروں کے کرتا دھرتاؤں کیساتھ شہریوں کیلے بھی ‘ الرٹ ‘ ہے جسکا سدباب و تدارک ضروری ہے ارض انوسٹیگیشن سیل اپنی اگلی اشاعت میں ایک اور ہوشرباء انکشافات سے لبریز اسٹوری فائل کریگا مختلف سیاسی سماجی مذہبی جماعتوں اور شخصیات نے سپریم کورٹ وزیر اعلیٰ سندھ گورنر سندھ وزیر بلدیات سندھ مئیر و ڈپٹی ایم ڈی و چیف آپریٹنگ آفیسر واٹر کارپوریشن سمیت تمام وفاقی و صوبائی تحقیقاتی اداروں سے اپنے فرائض منصبی اور اٹھائے گئے حلف کے عین مطابق سخت ترین قانونی و محکمہ جاتی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے
=================
کراچی سب سوائل لائسنس کے اجراء اور پانی چوری کی تحقیقات کا حکم، ایم ڈی واٹر کارپوریشن کو کام کرنے سے روک دیا
06 جنوری ، 2025
کراچی(اسٹاف رپورٹر)حکومت سندھ نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں سب سوائل لائسنس کے اجرا اور اس کے نام پر پانی چوری کی تحقیقات کا حکم دے دیااتوار کو محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن کے جاری کردہ اعلامیےکے مطابق انکوائری کوشفاف اور غیرجانبدار رکھنے کے لئے سی ای او/ایم ڈی سید صلاح الدین احمد کو دفتر حاضر ہونے اور فرائض انجام دینے سے روک دیا گیا ہے تحقیقات مکمل ہونے اور فائنل فیصلے تک ان کی جگہ چیف آپریٹننگ آفیسراسد اللہ خان کوادارے کے امور کی دیکھ بھال کا چارج دیا گیا ہے سرکاری حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے انکوائری چیئرمین انکوائریزاینڈ اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ سندھ کریں گے اوردو ہفتے میں اپنی رپورٹ جمع کرائیں گے دریں اثنا یاد رہے کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل سی ای اوسید صلاح الدین احمد نےسب سوائل کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ 70 میں سے57لائسنس کو معطل کر کے کمیٹی میں نئے افراد کی تقرری کر دی گئی جبکہ جن کمپنیوں یا افراد کے لائسنس معطل کئے گئے تھے انہیں ادارے کے بورڈ کے پاس اپیل کا حق دے دیا گیاتاہم اس پر تاحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آسکاواضح رہے واٹر کارپوریشن کو زیر زمین پانی کے استعمال کےلئے لائسنس جاری کرنے اور لائسنس کے عوض فیس وصول کرنے کا اختیار ہےاصل بات تحقیقات میں سامنے آسکے گی کہ آیا ان کے اجرا یا اس کے استعمال میں کوئی بے قاعدگی ہوئی یا نہیں۔
























