کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں ہائر ایجوکیشن فیکلٹی ڈویلپمنٹ پاکستان (ایچ ای ڈی پی) کے تحت “نیشنل آؤٹ ریچ پروگرام برائے ہائر ایجوکیشن فیکلٹی” کے افتتاحی سینشن کا انعقاد کیا گیا۔


کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں
ہائر ایجوکیشن فیکلٹی ڈویلپمنٹ پاکستان (ایچ ای ڈی پی) کے تحت “نیشنل آؤٹ ریچ پروگرام برائے ہائر ایجوکیشن فیکلٹی” کے افتتاحی سینشن کا انعقاد کیا گیا۔
بیس روز تک جاری رہنے والا تربیتی پروگرام نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن اسلام آباد کے خصوصی تعاون سے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں منعقد کیا گیا ہے جو کہ خصوصی طور پر نوجوان فیکلٹی ممبران کے مختص کیا گیا ہے جس کا مقصد ایک فیکلٹی ممبر کو کامیاب کیریئر کی تین جہتوں میں ضروری علم، مہارت اور رویوں کی منتقلی کو تیز کرنا ہے جس کے تحت تعلیم و تربیت، جدید طریقہ ریسرچ اور پیشہ ورانہ مہارت جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔
اس تربیتی پروگرام کا افتتاح وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر محمود ایاز نے کیا جنہوں نے فیکلٹی کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور جدید علوم کو سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
اس تربیتی پروگرام کے پہلے دن پروفیسر اصغر ندیم سید معروف پاکستانی ڈرامہ نگار، ٹی وی ڈرامہ سیریل کے مصنف اور شاعر نے فیکلٹی ممبران کو تربیت دی، انہوں نے “اعلیٰ تعلیم و تدریس کو بطور پیشہ” کے موضوع پر سیر حاصل لیکچر دیا۔
یہ تربیتی پروگرام رواں ماہ کے آخر تک جاری رہے گا جس میں مختلف موضوعات زیر بحث آئیں گے اور فیکلٹی ممبران کے لئے سیکھنے کا سنہری موقع ثابت ہوگا۔
=================

دنیا میں کروڑوںکا بکنے والاشاہ بلوط کا پھل پاکستان میں گلہریاں کھا رہی ہے
اسلام آباد (آئی این پی)دنیا میں کروڑوں اور اربوں میں بک سکنے والا پھل پاکستان میں صرف گلہریاں کھا رہی ہے۔اردو زبان میں اس کو شاہ بلوط اور پشتوں میں اس کو پرگی کہتے ہیں یہ پھل ایکورن (Acorn) جس سے بنائی جانے والی کافی کا 200 گرام کا پیکٹ دنیا میں 40 ڈالر کا بک رہی ہے، پاکستان کے شمالی علاقوں میں قدرتی طور پر اگنے والے شاہ بلوط یعنی اوک کے لاکھوں درخت ہیں- انکے پھل سے اب تک صرف گلہریاں استفادہ کرتی ہے۔ مراکش میں اس پھل سے قدیم زمانے سے آٹا خوردنی تیل اور کافی کا متبادل بنایا جاتا رہا ہے۔ اس کا جو پتے ہے وہ بھیڑ بکریاں بہت شوق سے کھاتے ہے۔
==================

انٹر بورڈ،نتائج پر طلبہ کے تحفظات ، انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان
کراچی(اسٹاف رپورٹر) چیئرمین اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی سید شرف علی شاہ نے انٹرمیڈیٹ حصہ اول کے سالانہ امتحانات برائے 2024ء کے نتائج پر طلبہ کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کے پیش نظر فوری طور پر انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے، یاد رہے چیئرمین انٹربورڈ کراچی سید شرف علی شاہ نے جمعہ 3جنور ی کو اپنا عہدہ سنبھالا تھا،کمیٹی کامقصد نتائج کی جانچ پڑتال اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے تاکہ طلبہ کے اعتماد کوبحال کیا جاسکے،کمیٹی اس تمام معاملے کی انکوائری کر کے ایک ماہ میں طلبہ کی شکایات کا ازالہ کرے گی، چیئرمین انٹربور ڈ نے کہا کہ طلبہ ہماری ترجیح اور مستقبل ہیں ان کی شکایات کے تدارک کے لئے ہم ہر ممکن اقدام کریں گے۔ طلبہ کے تحفظات دور کرنے کیلئے قائم کمیٹی امتحانی عمل کو مزید شفاف اور معیاری بنانے کیلئے مکمل غیرجانبداری سے کام کرے گی۔ کمیٹی پرچوں کی جانچ اور نتائج کی تیاری کے عمل میں شفافیت سمیت تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ لے گی ، طلبہ اور ان کے والدین سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے تحفظات اور تجاویزبراہ راست انٹربورڈ میں جمع کروائیں تاکہ کمیٹی ان کا بھی جائزہ لے سکے، وہ طلبہ جو اپنے نتائج سے مطمئن نہیں ہیں وہ اسکروٹنی فارم جلد از جلد بورڈ آفس میں واقع بینک بوتھ میں جمع کروادیں۔
==================

خراب موسم، کراچی جانے والی ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار
06 جنوری ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
لاہور(- شدید دھند اور موسم کی خرابی کے باعث کراچی جانے والی ٹرینیں گھنٹوں تاخیر سے روانہ ہوئیں۔ قراقرم ایکسپریس مقررہ وقت کی بجائے ڈیڑھ گھنٹہ ،بزنس ایکسپریس 6گھنٹے اورکراچی ایکسپریس 4گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہوئے جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کاسامنا رہا۔
===================

کراچی سب سوائل لائسنس کے اجراء اور پانی چوری کی تحقیقات کا حکم، ایم ڈی واٹر کارپوریشن کو کام کرنے سے روک دیا
06 جنوری ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
کراچی(اسٹاف رپورٹر)حکومت سندھ نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں سب سوائل لائسنس کے اجرا اور اس کے نام پر پانی چوری کی تحقیقات کا حکم دے دیااتوار کو محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن کے جاری کردہ اعلامیےکے مطابق انکوائری کوشفاف اور غیرجانبدار رکھنے کے لئے سی ای او/ایم ڈی سید صلاح الدین احمد کو دفتر حاضر ہونے اور فرائض انجام دینے سے روک دیا گیا ہے تحقیقات مکمل ہونے اور فائنل فیصلے تک ان کی جگہ چیف آپریٹننگ آفیسراسد اللہ خان کوادارے کے امور کی دیکھ بھال کا چارج دیا گیا ہے سرکاری حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے انکوائری چیئرمین انکوائریزاینڈ اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ سندھ کریں گے اوردو ہفتے میں اپنی رپورٹ جمع کرائیں گے دریں اثنا یاد رہے کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل سی ای اوسید صلاح الدین احمد نےسب سوائل کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ 70 میں سے57لائسنس کو معطل کر کے کمیٹی میں نئے افراد کی تقرری کر دی گئی جبکہ جن کمپنیوں یا افراد کے لائسنس معطل کئے گئے تھے انہیں ادارے کے بورڈ کے پاس اپیل کا حق دے دیا گیاتاہم اس پر تاحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آسکاواضح رہے واٹر کارپوریشن کو زیر زمین پانی کے استعمال کےلئے لائسنس جاری کرنے اور لائسنس کے عوض فیس وصول کرنے کا اختیار ہےاصل بات تحقیقات میں سامنے آسکے گی کہ آیا ان کے اجرا یا اس کے استعمال میں کوئی بے قاعدگی ہوئی یا نہیں۔
===================

عارضی وائس چانسلر کی من مانیاں،ایم این ایس زرعی یونیورسٹی بحران کا شکار
مان نہ مان ۔۔۔ عبدالرؤف مان
محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان بھی بالاآخر بحران کی لپیٹ میں آگئی،یہ بحران یونیورسٹی کے عارضی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اشتیاق رجوانہ کی ذات کے گرد گھومتا نظر آتا ہے، محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی کا قیام 2012ء میں عمل میں آیا اور ڈاکٹر محمد آصف علی اس کے پہلے ریگولر وائس چانسلر تعینات ہوئے،ان کے بعض فیصلوں پر اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر انہوں نے مجموعی طور پر اس نئی یونیورسٹی کی ترقی کیلئے بہت کام کیا،آج یہ یونیورسٹی پاکستان کی نمبر ون زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے بعد دوسرے نمبر پر کہی جاسکتی ہے،ایک برس قبل جب ڈاکٹر محمد آصف علی کی دوسرےٹینور کی معیاد ختم ہوئی تو اس میں بروقت ریگولر وائس چانسلر تعینات نہیں کیا جاسکا، یہ ہمارے حکمرانوں کی المیہ ہے کہ وہ خطابات کی حد تک تعلیم کو ہمیشہ اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہیںلیکن ایسا ہوتا نہیں ہے، کچھ عرصہ قبل صرف پنجاب کی 30سے زائد جامعات بغیر ریگولر وائس چانسلر ز کے چلائی جارہی تھیں ،گزشتہ دو حکومتیں پنجاب میں آئیں لیکن ان جامعات میں ریگولر وائس چانسلر کی تعیناتی عمل میں نہ لائی جاسکیں، ان ہی جامعات میں محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی بھی شامل تھی،مریم نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئیں تو ان جامعات پر وائس چانسلر ز کی تعیناتی کاپر کام شروع ہوا تاہم اب بھی سات سے آٹھ جامعات میں ریگولر وائس چانسلر تعینات نہیں ہوسکے ،ان میں ملتان کی محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی اور خواتین یونیورسٹی شامل ہیں،پنجاب حکومت نے محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی کے لیے وائس چانسلر کی تعیناتی کے لیے پراسس شروع کیا تاہم اس دوران پرووائس چانسلر ڈاکٹر محمد اشتیاق رجوانہ جن کو ڈاکٹر آصف علی کے جانے کےبعد عارضی وائس چانسلر تعینات کیا گیاتھا نے عدالت عالیہ سے حکم امتناعی لے لیا جس کے باعث یہاں ریگولر وائس چانسلر تعینات نہیں ہوسکا ہے،ڈاکٹر اشتیاق رجوانہ بطور عارضی وائس چانسلر کام کررہے ہیں،ملک کی تیزی سے ترقی کرنے والی محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں بحران اس وقت شروع ہوا جب عارضی وائس چانسلر نے جامعہ کی سب سے بااختیار باڈی سینڈیکٹ کے فیصلو ں کو بلڈوز کرکے اپنی مرضی کے فیصلے کرنا شروع کردیے،جس سے یونیورسٹی کے اساتذہ، افسران اور ملازمین میں اضطراب پھیلنا شروع ہوگیا،عارضی وائس چانسلر اس بحران کو بروقت نہیں سمجھ سکے یا اپنی ضد پر قائم رہے ،14دسمبر کو زرعی یونیورسٹی کی سینڈیکٹ کا اجلاس منعقد ہوا،جس میں ارکان نے پہلا اعتراض رجسٹرار آصف نواز پر لگایا کہ وہ رولز سے ہٹ کر تعینات کیے گئے ہیں ،لہٰذاء وہ بطور سیکرٹری اس جلاس میں نہیں بیٹھ سکتے،سینڈیکیٹ کے دوٹوک موقف پر آصف نواز کو اجلاس سے باہر بھیج دیا گیا،یونیورسٹی کے ٹریثرار رفیق فاروقی کو عارضی طور پرآصف نواز کی جگہ عارضی طور پر سیکرٹری کی حیثیت سے اجلاس میں بٹھایا گیا،سینڈیکٹ نے ہدایت کی کہ جب تک ریگولر رجسٹرار تعینات نہیں ہوتے اس وقت تک ایڈیشنل رجسٹرارمس سومیہ عنبرین کو عارضی طور پر رجسٹرار تعینات کردیاج ائے، لیکن عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق رجوانہ نے ’’ کمال بہادری‘‘ کا ثبوت دیتے ہوئے20اگست کو سینڈیکٹ کے اس فیصلے کی بلڈوز کرتے ہوئے رجسٹرار کا چارج مس سومیہ عنبرین کو دینے کی بجائے ڈاکٹر اشتیاق کو دے دیا،اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے رجسٹرار آفس کے تمام ملازمین کے تبادلوں کے احکامات جاری کردیے، ان احکامات نے جلتی پر تیل کا کام کیا، یونیورسٹی کے تین مرکزی انتظامی دفاتر رجسٹرار آفس،کنٹرولر امتحانات آفس اور ٹریثرار آفس کے تمام افسران اور ملازمین نے ہڑتا ل کردی جس سے ان دفاتر میں کام ٹھپ ہوگیا، یوں عارضی وائس چانسلر کی ضد کے باعث تیزی سے ترقی کرتی ہوئی زرعی یونیورسٹی بحران کی لپیٹ میں آگئی،تین روز کی مسلسل ہڑتال کے باعث صورت حال جب خراب ہوئی تو ڈاکٹر اشتیاق رجوانہ نے پروفیسر ڈاکٹر محمد اشفاق، پروفیسر ڈاکٹر ناصر ندیم، ڈاکٹر عمر فاروق اور ڈاکٹر مبشر مہدی پر مشتمل4رکنی مذاکراتی کمیٹی بنائی اور ہڑتال ختم کرانے کی ذمہ داری سونپی،مذاکرت میں ڈاکٹر اشتیاق رجوانہ نے یقین دہانی کرائی کہ وہ سینڈیکٹ کے تمام فیصلوں کا احترام کریں گے، ملازمین کے کیے گئے تبادلوں کے احکامات واپس اور مس سومیہ عنبرین کو عارضی رجسٹرار لگا دیں گے تاہم جمعہ 3جنوری تک ان احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوسکا،ذرائع کا کہنا ہے کہ آج سوموار کو ان احکامات پر عمل درآمد ہونے کا امکان ہے، یونیورسٹی میں اصل مسئلہ ریگولر وائس چانسلر کی تعیناتی کا ہے، پنجاب حکومت کو چاہیے کہ وہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت کرے کہ وہ اس کیس کی فوری طور پر خود پیروی کرکے اس کا حل کریں تاکہ یونیورسٹی میں ریگولر وائس چانسلر کی جلد از جلد تعیناتی کی جاسکے، عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جب جب جامعات میں ریگولر وائس چانسلر تعینات نہیں ہوتے اور طویل عرصہ تک عارضی وائس چانسلر تعینات رہتے ہیں ان جامعات کو انتظامی،مالی اور تدریسی مشکلات کا سامنا رہتا ہے ،ایم این ایس زرعی یونیورٹی ملتان اس کی ایک مثال ہے، پہلی بار اس سال یونیورسٹی میں40فیصد طلباء کے داخلے کم ہوئے ، علاوہ ازیں 65کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والا پاکستان کا پہلا نیشنل جنامکس اینڈ سپیڈ بریڈنگ سنٹر کا منصوبہ بھی رکا ہوا ہے جس سے اس کی لاگت بڑھ کر اب تقریباً 80
https://e.jang.com.pk/detail/825797کروڑ بتائی جا رہی ہے ، اسی طرح ایک ارب 36کروڑ روپے کی خطیر رقم سے بننے والا ایچ ای سی کا پروویژن آف بیسک فیسیلیٹیز پراجیکٹ جس میں گرلز و بوائز ہاسٹلز اور آڈیٹوریم شامل ہیں التواء کا شکارہیں۔