مشتاق سرکی اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جہاز میں ملاقات!! ابسام اور افہام نے ایسا کیا کردیا ؟؟

Team Mushtaq Sarki
کل مورخہ 28-12-2024 بوقت رات آٹھ بجے میں اپنی فیملی کے ساتھ کراچی سے اسلام آباد کے لئے ایئر بلیو کی پرواز پی اے 204 سے سفر کر رہا تھا
ہم جیسے ہی جہاز میں داخل ہوئے تو میری سیٹ کے ساتھ والی سیٹ پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی پہلے سے بیٹھے ہوئے نظر آئے
ان کی نظر مجھ پر پڑی اور میری نظر ان پر تو ہم نے ایک دوسرے سے کوئی سلام دعا نہ کی
جب دونوں کی طرف سے سلام دعا نہ ہوئی تو میں نے مناسب سمجھا کہ اب ساتھ بیٹھ کے کراچی سے اسلام آباد کا ایک گھنٹہ 40 منٹس کا سفر ناخوشگوار ہونے سے ڈاکٹر کا اور میرا موڈ خراب ہو تو اچھا ہے سیٹ تبدیل کر لیں
پھر میں نے اپنے بیٹوں ابسام اور افہام کو ان سیٹوں پر بٹھایا اور خود زوجہ اور بیٹی کے ساتھ ان کے ساتھ والی سیٹوں پر بیٹھ گیا
میرے بچوں نے تمام صورتحال کو نوٹ کیا اور مجھ سے پوچھا کہ بابا یہ سب کیا ہے؟
میں نے ابسام اور افہام کو بتایا کہ وہ مہاجروں کے جماعت کے بڑے ہیں اور میں اپنی سندھی قوم کی بات کرتا ہوں تو ہم میں کبھی کبھی نظریاتی اختلافات کے باعث سوشل میڈیا پر گرما گرمی والا ماحول پیدا ہو جاتا کے جس کے اثرات ہماری عام زندگیوں پر بھی پڑتا ہے اور پھر ہم جب سامنے آ جاتے ہیں تو بات یا سلام دعا تک نہیں کرتے
اس کے بعد سفر شروع ہوا میں اپنی بیٹی پریشئے کے ساتھ سفر کے دوران کھیلنے لگ گیا اور اپنی زوجہ سے بات چیت کرنے لگ گیا ادھر ابسام اور افہام ڈاکٹر خالد مقبول کے ساتھ تمام سنجیدہ گفتگو میں لگ گئے جبکہ ڈاکٹر شاید کسی انگریزی کتاب “The Next” کے مطالعے میں مصروف تھے لیکن ابسام اور افہام کی گفتگو میں انہوں نے کتاب سائیڈ پر رکھ دی
مجھے نہیں تھا معلوم کہ ان کے درمیان کیا گفتگو ہو رہی تھی بس اتنا معلوم تھا کہ پوری گفتگو انگریزی میں ہو رہی تھی
گفتگو کے آدھے گھنٹے بعد اچانک ابسام نے مجھے کہا بابا ہماری ایک تصویر انکل کے ساتھ لیں اور آپ ڈاکٹر انکل کے ساتھ ہاتھ بھی ملائیں باقی بات آپ کو بعد میں بتاتے ہیں جب ابسام مجھ سے مخاطب تھا تو اس کی باتیں سن کر ڈاکٹر خالد مقبول کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور وہ میری طرف دیکھ رہے تھے
بس پھر ابسام کا حکم تھا تو میں نے ہاتھ ملانے کے لئے آگے بڑھایا تو ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بھی گرم جوشی سے ہاتھ میری طرف بڑھایا اور ہم دونوں نے ایک دوسرے کو سلام کہ کر ہاتھ ملائے
اسی دوران ابسام نے کہا کہ ڈاکٹر انکل بہت پیار کرنے والے اور نفیس انسان ہیں انہوں نے آپ کا نام بتانے ہر ہمیں یہ کہا کہ مشتاق سرکی کو لوگ جئے سندھ کے رہنما کے طور پر جانتے ہیں جبکہ ابسام نے ان کو بتایا کہ بابا کا کسی بھی سیاسی یا قومپرست جماعت سے تعلق نہیں بس یہ سندھی قوم کے لئے آواز اٹھاتے ہیں
ڈاکٹر خالد مقبول نے ابسام اور افہام کو کہا کے آپ کے بابا سوشل میڈیا پر حکمرانی کرتے ہیں اور ہم سے ناراض رہتے ہیں
یہ بات سن کر میرے بیٹوں نے ڈاکٹر جو کہا کہ آپ دونوں کی دوستی ابھی ہم کروا دیتے ہیں آپ بھلے مہاجروں کے حقوق کی بات کریں بابا سندھیوں کے حقوق کی مگر اپنا سماجی تعلق قائم رکھیں بس
جب ہم اسلام آباد پہنچے تو ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی بھائی نے مجھے مسکراتے کہا کہ مشتاق بھائی مجھے اندازہ نہیں تھا کہ مشتاق سرکی کے بچے اتنے شعوری اور اچھی انگریزی بولنے والے بچے ہیں ہوں گے مجھے یہ جان کہ خوشی ہوئی کہ آپ ایک اچھے والد ہیں
واعدہ کریں بچوں کو آپ بہادرآباد مجھ سے دوبارہ ملوانے آئیں گے
بس اس کے بعد وہ اپنی گاڑی کی طرف روانہ ہوئے اور ہم اپنی گاڑی کی طرف