پاکستان میں زراعت کے شعبے کو جدید بنانے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی رہنمائی میں ساتویں زراعت شماری کا آغاز۔

وزیرِ اعظم کے ویژن ” گرین پاکستان – پائیدار مستقبل ” کو مدنظر رکھتے ہو ئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی رہنمائی میں ، وزیراعلیٰ سندھ نے پاکستان ادارہ شماریات اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام ساتویں زراعت شماری “مربوط ڈیجیٹل شمار” کے فیلڈ آپریشنز کا افتتاح کیا

1. پاکستان میں زراعت کے شعبے کو جدید بنانے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی رہنمائی میں ساتویں زراعت شماری کا آغاز۔
2. پاکستان ادارہ شماریات نے زرعی پالیسی سازی کے بارے میں بہترین فیصلہ سازی کے لیے 7ویں زراعت شماری”مربوط ڈیجیٹل شمار” کا آغاز کر دیا گیا۔
3. فیلڈ آپریشن یکم جنوری 2025 سے شروع ہو گا اور پورے ملک میں 10 فروری 2025 تک جاری رہے گا۔
4. وزیراعلیٰ سندھ، سید مراد على شاھ کی ہدایات پر وزیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محترم جناب محمد علی ملکانی صاحب اور وزیر برائے منصوبہ بندی محترم سید ناصر حسین شاہ صاحب نے “ز ش” کا نمبر لگا کر ڈیجیٹل زراعت شماری کا باقائدہ افتتاح کیا اور ٹیبلیٹ میں موجود دونوں اپلیکیشن کا بھی بغور جائزہ لیا ۔
5. پاکستان ادارہ شماریات نے GIS ٹیکنالوجی سے منسلک زرعی، لائیو سٹاک اور مشینری کی شماری کو یکجا کرنے والی ڈیجیٹل مشق کا آغاز کیا۔
6. وزیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محترم جناب محمد علی ملکانی صاحب نے کسانوں کی بہبود کے لیے زرعی ڈیٹا کی اہمیت پر زور دیا۔
7. ساتویں زراعت شماری میں سندھ کا کلیدی کردار اور ملکی معیشت میں اس کا اہم کردار ہے۔
8. پاکستان ادارہ شماریات اور سندھ حکومت نے ڈیٹا پر مبنی زرعی پالیسیوں کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی تعاون پر زور دیا۔
9. پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کی گئی ساتویں زراعت شماری 2024 ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور زراعت کے شعبے کی بہتر منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔
10. سندھ کی ڈیجیٹل زراعت شماری کے لیے 1,695 شمار کنندگان کو تربیت دی گئی۔


Headlines
.1 وزیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محترم جناب محمد علی ملکانی صاحب اور وزیر برائے منصوبہ بندی محترم سید ناصر حسین شاہ صاحب نے ساتویں زراعت شماری 2024 کا افتتاح کیا۔ اس زراعت شماری کا مقصد زرعی شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے ” مربوط ڈیجیٹل شمار ” کے ذریعےبہترین فیصلہ سازی کے لیے درست اور جامع ڈیٹا فراہم کرنا ہے۔
2. زرعی شعبہ ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کا جی ڈی پی میں 24 فیصد حصہ ہے۔
3. پاکستان کی ڈیجیٹل زرعی مردم شماری ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل میں ایک انقلاب برپا کرنے کے لیے تیار ہے، جو زراعت کے شعبے کو مضبوط بنانے اور پالیسی سازی کے لیے جدید اور درست معلومات فراہم کرے گی۔ ۔
4. پاکستان ادارہ شماریات (PBS) نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں کی معاونت کو بڑھانے کے لیے زرعی زمین ، مال مویشی، اور مشینری کی تاریخی مربوط زراعت شماری کا آغاز کیا ہے۔
5. سندھ کا زرعی شعبہ ڈیجیٹل زراعت شماری میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
6 کسانوں کے لیے بھرپور تعاون کا وعدہ کرتے ہوئے زراعت کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
7. ساتویں زراعت شماری پاکستان کے غذائی تحفظ اور زراعت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے اہم ڈیٹا فراہم کرے گی۔
8. پاکستان ادارہ شماریات (PBS) اور سندھ حکومت کسانوں کو بااختیار بنانے کے لیے اہم زراعت شماری میں قریبی تعاون کر رہے ہیں، جس کا مقصد زراعت کے شعبے میں ترقی اور مؤثر پالیسی سازی کو فروغ دینا ہے۔
9. ڈیجیٹل ٹولز اور GIS ٹیکنالوجی پاکستان کی سب سے بڑی زراعت شماری کی کامیابی کو نئی بلندیوں تک لے جا رہی ہیں، جس سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل میں جدت اور درستگی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔


Press Release
کراچی یکم جنوری 2025: وزیرِ اعظم کے ویژن ” گرین پاکستان ¬ ¬¬- پائیدار مستقبل ” کو مدنظر رکھتے ہو ئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی رہنمائی میں ، وزیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محترم جناب محمد علی ملکانی صاحب اور وزیر برائے منصوبہ بندی محترم سید ناصر حسین شاہ صاحب نے پاکستان ادارہ شماریات اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام ساتویں زراعت شماری “مربوط ڈیجیٹل شمار” کے فیلڈ آپریشنز کا افتتاح کیا۔
پاکستان ادارہ شماریات (PBS) نے آج ساتویں زراعت شماری کے آغاز کے لیے ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا۔ اس اقدام کا مقصد زرعی شعبے کے متعلق جامع اور مستند ڈیٹا جمع کرنا ہے، جو پائیدار ترقی کے لیے مستقبل کی پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ یہ تقریب وزیراعلیٰ سیکریٹیریٹ اولڈ کیبنٹ ہال کراچی میں منعقد ہوئی۔ پاکستان ادارہ شماریات کی نمائندگی کرتے ہوئے جناب منور علی گھانگھرو ڈائریکٹر انچارچ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس اور فراز مسلم ڈویژنل کوآردینیٹر ایگریکلچرل سینسس کراچی نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا اور خوش آمدید کہا۔ ڈاکٹر نعیم الظفر صاحب چیف اسٹیٹسٹیشن، ادارہ شماریات پاکستان نے مہمانِ خصوصی وزیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محترم جناب محمد علی ملکانی صاحب اور وزیر برائے منصوبہ بندی محترم سید ناصر حسین شاہ صاحب کا اور دیگر مہمانوں کا باقائدہ شکریہ ادا کیا اور زراعت شماری کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ادار ہ شماریات بروقت اور قابل اعتماد ڈیٹا فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ باخبر فیصلہ سازی کی جا سکے۔ 34علاقائی اور 125 ضلعی دفاتر کے نیٹ ورک کے ذریعے، پاکستان ادارہ شماریات نے قومی سطح کے اہم منصوبوں کی تکمیل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جن میں جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 شامل ہے، جس میں 250 ملین افرادکی گنتی اور 40 ملین عمارتوں کو جیو ٹیگ کیا گیا۔ انہوں نے زرعی شعبے کی ملکی معیشت میں اہمیت کو اجاگر کیا، جو مجموعی معیشت کا 24 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے، اور یہ بھی وضاحت کی کہ لائیو اسٹاک اس شعبے میں سب سے بڑا حصہ رکھتا ہے۔ جناب نے ملک بھر، بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر، میں زراعت شماری کے انعقاد میں پاکستان ادارہ شماریات کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد درست اعداد و شمار پر مبنی پالیسی سازی کی حمایت کرنا ہے۔
زراعت شماری کے ماضی میں تاخیر کے باوجود، پاکستان ادارہ شماریات نے اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (UNFAO) کے بین الاقوامی رہنما اصولوں کے مطابق زراعت، لائیو اسٹاک، اور مشینری کے شعبوں کو شامل کرنے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل طریقہ کار اپنایا ہے۔ ساتویں زراعت شماری میں GIS ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ڈیٹا کے معیار اور درستگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
زراعت شماری کی کامیابی کو یقینی بنانے میں Agriculture Extension, Crop Reporting Service, Livestock, and the Revenue Department, Bureau of Statistics Sindh کے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کی زراعت میں سندھ کے اہم کردار پر روشنی ڈالی، جو 8.2 ملین ایکڑ زرعی اراضی اور 5,976 مواضعات پر مشتمل ہے۔ سندھ گندم، چاول، گنا، اور کپاس جیسی اہم فصلوں کی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتا ہے اور یہاں کی 23 فیصد آبادی کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے۔
ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیےسندھ بھر میں 1,695 شمار کنندگان اور سپروائزرز کو تربیت دی گئی ہے، جو یکم جنوری سے 10 فروری 2025 تک اہم زرعی ڈیٹا کو ڈیجیٹل طور پر جمع کریں گے۔ اس شماریاتی مہم کے نتائج اگست 2025 تک مرتب کرنے کا ہدف ہے۔ یہ ڈیٹا خوراک کے عدم تحفظ سے نمٹنے اور پاکستان کے زرعی شعبے کو تقویت دینے کے لیے پالیسیاں بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محترم جناب محمد علی ملکانی صاحب اور وزیر برائے منصوبہ بندی محترم سید ناصر حسین شاہ صاحب نے اس تقریب کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
ساتویں زراعت شماری اور مانیٹرنگ ڈیش بورڈز کا افتتاح وزیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محترم جناب محمد علی ملکانی صاحب اور وزیر برائے منصوبہ بندی محترم سید ناصر حسین شاہ صاحب نے فیلڈ آپریشنز کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ انہوں نے اعداد و شمار کی درستگی کو بہتر بنانے میں ڈیجیٹل ٹولز کی اہمیت پر زور دیا اور “ز ش” کا نمبر 001 لگایا۔
اپنے خطاب میں، وزیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محترم جناب محمد علی ملکانی صاحب نے سندھ کے کسانوں کو بااختیار بنانے اور پائیدار زرعی ترقی کو آگے بڑھانے میں زراعت شماری کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ زراعت کا شعبہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے گندم، چاول، گنے اور کپاس ملک کی قومی پیداوار میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں اور 37 فیصد آبادی کے روز گار کا داراو مدار زراعت پر ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ اس زراعت شماری کے ذریعے جمع کیا گیا ڈیٹا ایسی پالیسیوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا جو کسانوں کو درپیش اہم چیلنجز، جیسے وسائل کے منصفانہ تقسیم، فصلوں کے نمونوں اور غذائی ضروریات سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوں گی۔
وزیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محترم جناب محمد علی ملکانی صاحب اور وزیر برائے منصوبہ بندی محترم سید ناصر حسین شاہ صاحب نے مزید اس بات پر زور دیا کہ یہ ڈیٹا زرعی برادری کے لیے ٹارگٹ سپورٹ فراہم کرے گا، اور ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرے گا جو پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں اور کسانوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنائیں۔ انہوں نے سندھ کے کسانوں کو پائیدار ترقی کے لیے ضروری وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومت کے عزم کا دوبارہ اعادہ کیا۔
یہ زراعت شماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں، تعلیمی اداروں، اور متعلقہ محکموں کے تعاون سےسندھ اور ملک بھر میں زراعت کو مضبوط بنانے کے لیے شواہد پر مبنی حکمت عملیوں کے لیے ایک بنیاد فراہم کرے گی۔انہوں نے زراعت شماری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر خوراک کی حفاظت کو بہتر بنانے، کسانوں کو بااختیار بنانے، اورسندھ کے زرعی شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر پالیسیوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محترم جناب محمد علی ملکانی صاحب اور وزیر برائے منصوبہ بندی محترم سید ناصر حسین شاہ صاحب نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت سندھ کے کسانوں کی زندگی کو بہتر بنانے اور زرعی شعبے کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جامع اقدام، حکومت اور صنعت کے درمیان مضبوط تعاون کے ساتھ، پاکستان کی زراعت اور کسانوں کے روشن مستقبل کو محفوظ بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔