
ْجن پولیس افسران کا کام سیکیورٹی دینا ہے وہ وزیراعلی کے پروگرام میں ان کے پیچھے خود وی آئی پی بن کر کرسیوں پر بیٹھ جاتے ہیں دنیا میں کہیں کسی آفیشل پروگرام میں ڈیوٹی پر مامور سیکیورٹی افسران کرسیوں پر نہیں بیٹھے ہوتے
یہ امر حیران کن ہے کہ ہمارے یہاں وزیراعلی جب کسی پروگرام میں پہنچتے ہیں تو ان کی سیکیورٹی پر ساتھ انے والے پولیس افسران بھی وی ائی پی بن جاتے ہیں ۔ وزیراعلی کلری بگھاڑ کینال کہ معائنے پر پہنچے تو وہاں ان کے ساتھ پولیس افسران اور اہلکاروں کی ایک بڑی نفری بھی موجود تھی اور جب وزیراعلی میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے تو یہ پولیس افسران بھی ان کے پیچھے وی ائی پی بن کر کرسیوں پر بیٹھے تھے ۔ دنیا بھر میں سکیورٹی افسران اور اہلکار کسی بھی آفیشل پروگرام میں کرسیوں پر نہیں بیٹھتے بلکہ چاک و چوبند اپنی پوزیشن پر ہوتے ہیں ۔ وزیراعلی اور ان کے سٹاف کو بھی ان باتوں کا دھیان رکھنا چاہیے اول تو ایسی تقریبات اور پروگراموں میں اتنے بڑے کلیس افسران کی موجودگی کی ضرورت کیا ہوتی ہے علاقہ پولیس اور نفری کو وہاں پر سکیورٹی ڈیوٹی دینی چاہیے اور بس ۔ لیکن جب بڑے بڑے پولیس افسران وزیراعلی کو شکل دکھانے آ جاتے ہیں تو مقام انتظامیہ ان کی آؤ بھگت میں لگ جاتی ہے وزیراعلی یا وزیر تو تھوڑی دیر میں تقریر اور معائنہ کر کے چلے جاتے ہیں لیکن افسر شاہی وہاں پر پورا پروٹوکول لیتی ہے اور اس کی خدمت پر بہت سے لوگ مامور ہو جاتے ہیں ۔ دوسری طرف مختلف علاقوں میں ا سٹریٹ کرائمز اور دیگر جرائم جاری رہتے ہیں اگر پولیس افسران وی ائی پی بن کر وزیراعلی کے ساتھ کرسیوں پر بڑا جوان ہونے کی بجائے اپنی سیکیورٹی ڈیوٹی کو اولین ترجیح دیتے رہیں تو سیدھا انے والے غیر ملکی سیاحوں کو کوئی لوٹ نہیں سکتا لیکن غیر ملکی سیاح سجاول میں اس لیے لٹ گئے کہ وہاں پولیس اپنی ڈیوٹی درست انداز سے انجام نہیں دے رہی تھی خود وزیراعلی نے اس بات پر کہا کہ
اس واقعے سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے ۔ وزیر اعلی کے نوٹس لینے پر تو سجاول پولیس حرکت میں آگئی لیکن خود وزیر اعلی کے ساتھ جو پولیس افسران گھومتے پھرتے رہتے ہیں وہ کیا ڈیوٹی دیتے ہیں عوام تو پہلے ہی ڈاکوں کے ہاتھوں لٹ لٹ کر بیزار آچکے ہیں سال ختم ہو رہا ہے لیکن سال 2024 میں جتنے لوگ ڈاکوں کی مزاحمت میں قتل ہوئے یا جینا جب ٹی اور لوٹ مار کی وارداتوں میں قتل یا زخمی ہوئے ان کے لیے یہ پولیس کس کام آئی ؟
سابق وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کو 34 سال قید کی سزا
گلگت بلتستان کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیرِ اعلیٰ جی بی خالد خورشید کو 34 سال قید کی سزا سنا دی۔
سابق وزیرِ اعلیٰ جی بی کے خلاف سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے کیس کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے سابق وزیرِ اعلیٰ جی بی پر 6 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔
سابق وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کی راہداری ضمانت منظور
عدالت نے آئی جی پولیس کو حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجرم کو گرفتار کر کے جیل منتقل کیا جائے۔
عدالت نے ڈی جی نادرا کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ مجرم کا شناختی کارڈ بلاک کر دیا جائے۔
واضح رہے کہ ملزم پر 26 مئی 2024ء کو جلسے میں سیکیورٹی اداروں کو سنگین نتائج کی دھمکی دینا کا الزام تھا۔
ملزم خالد خورشید پر چیف سیکریٹری اور چیف الیکشن کمشنر جی بی کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کا الزام تھا۔
خالد خورشید کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سٹی تھانہ گلگت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
سابق وزیرِ اعلیٰ جی بی خالد خورشید مقدمے کی کارروائی سے غیر حاضر اور روپوش رہے۔























