
چار سال کی مدت کے لیے تعینات کیے جانے والے انجینیئر صلاح الدین احمد نے بطور ایم ڈی اور سی ای او کراچی واٹر اینڈ سیورج کارپوریشن اپنے عہدے کی آدھی مدت پوری کر لی ہے ان کے دور میں واٹر کا اپریشن نے کیا کامیابیاں حاصل کی ہیں کہ ان چیلنجوں کا سامنا کیا کیا کھویا کیا پایا ؟ اس حوالے سے واٹر کارپوریشن کے اندر اور دیگر سرکاری حلقوں میں بات ہو رہی ہے ورلڈ بینک اور سندھ حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو اصطلاحات کے عمل سے گزار کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں تبدیل کیا جا چکا ہے ادارے کی اسٹرکچل ریفارمز کے ساتھ ساتھ اس کے کام کی نوعیت اور کارکردگی میں بہتری اور جدت لانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں اور متعدد ابھی زیر غور ہیں مختلف مراحل میں عالمی بینک سے ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کا قرضہ بھی واٹر کارپوریشن کے لیے منظور ہو چکا ہے 12 سال کا پروگرام ہے اس کے دوران کراچی واٹر کارپوریشن ایک نئے ادارے کے طور پر شہریوں کے سامنے موجود ہوگا کراچی میں پانی کی فراہمی اور نکاسی کے منصوبوں پر بہت کام ہونا ہے ۔ واٹر کارپوریشن کے ملازمین کو اپنے بہتر مستقبل کے لیے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نئے جذبے کے ساتھ کام کرنا ہے ادارے میں بہتری آتی جا رہی ہے لیکن مسائل کا ایک انبار ہے اور وسائل کی کمی ہے سب کچھ اوورنائٹ تبدیل نہیں ہوگا کسی کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ سب کچھ دیکھتے ہی دیکھتے بدل جائے وقت لگے گا میئر کراچی مرتضی وہاب جو کراچی واٹر کارپوریشن کے چیئرمین بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ واٹر کا اپریشن کی ماہانہ امدنی میں 65 فیصد اضافہ ہو گیا ہے اسی امدنی میں اضافے کے ذریعے فراہمی و نکاسی آب کی بوسیدہ اور پرانی لائنوں کو تبدیل کر رہے ہیں کچھ عرصہ پہلے تک دیکھا جائے تو واٹر کارپوریشن کی آمدنی بمشکل 100 کروڑ تھی لیکن اب یہ 186 کروڑ تک پہنچ چکی ہے اسی طرح ادارے کی ماہانہ امدنی میں اگر 65 فیصد اضافہ ہوا ہے تو اس کا صحرا اور اس کا کریڈٹ تو موجودہ انتظامیہ کے سر ہی جائے گا کراچی میں پانی اور سیوریج کے نظام کو بہتر بنانے ہیں اور انفراسٹرکچر کو ترقی دینے میں مدد ملے گی یہ موجودہ انتظامیہ ہی کا کریڈٹ ہے کہ واٹر کا اپریشن میں جدید اصلاحات اور افسران اور ملازمین کی بہترین کارکردگی اور حکمت عملی کہ 22 دو سال کی قلیل مدت میں واٹر کارپوریشن کی ماہانہ امدن میں 76 کروڑ روپے کا اضافہ ہو چکا ہے یہ واٹر کارپوریشن کی تاریخ میں سب سے زیادہ ریکارڈ امدن ہے اور میئر کراچی نے بھی کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے افسران اور عملے کو اس پر مبارک باد دی ہے ایم ڈی اور سی ای او کی حیثیت سے انجینیئر صلاح الدین احمد کا بنیادی ایجنڈا ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور ترقی کی جانب گامزن رکھنا ہے اس سلسلے میں ادارے میں کافی اصلاحات متعارف کرائی جا چکی ہیں جن کے مثبت اور اچھے نتائج سامنےآرہے ہیں مزید کامیابیوں کی توقع کی جا رہی ہے ۔ ادارے میں ملازمین کی تنخواہ اور پینشن کے کافی مسائل تھے اس کو کافی حد تک ٹریک پر لانے کی کوشش کی گئی ہے ادارے میں ڈیجیٹلائزیشن کی گئی ہے اور تمام واٹر ہائیڈرنٹس اور واٹر ٹینکرز کو ایک رجسٹریشن کے عمل کے ذریعے چلایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ادارے کے پاس ایک اچھا ڈیٹا بینک تیار ہو گیا ہے پانچوں واٹر ہائیڈرنٹس کی ٹرینڈرنگ کا عمل کیا گیا ہے اور غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس کے خلاف سخت ایکشن لیا گیا ہے یہ ایک جاری عمل ہے اور جہاں جہاں شکایت ملتی ہے جہاں جہاں پانی کی غیر قانونی فراہمی سپلائی یا لائنوں کو پنکچر کرنے کی شکایت ملتی ہیں ان پر ایکشن ہوتا ہے جب ادارے کی اصلاحات کا عمل شروع ہوا تو تین ارب 60 کروڑ کے واجبات تھے ۔ شہر میں نیلے رنگ کی چلنے والی نئی گاڑیاں بھی ادارے کی پہچان بن گئی ہیں 28 گاڑیاں پہلے مرحلے میں ائی ہیں مزید 38 گاڑیاں انی ہیں جب تمام 66 گاڑیوں کا فلیٹ چلے گا تو ظاہر ہے کہ شہر میں بہت سے مسائل خود بخود حل کرنے میں مدد ملے گی























