سندھ حکومت کا واش پروگرام کیا ہے ؟ کن کن علاقوں میں کون کون لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں ؟
تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت غریب لوگوں کی مدد کے لیے بہت سے پروگراموں پر کام کر رہی ہے جن میں سے ایک کا نام واش پروگرام ہے یہ واش پروگرام کیا ہے کہ ان علاقوں میں اس کے ذریعے کون لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ جاننا ضروری ہے صوبائی حکومت کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 31 فیصد لوگ ایسے ہیں جن کی امدن 10 ہزار روپے سے بھی کم ہے حالانکہ یہ کم سے کم 32 ہزار یا 38 ہزار روپے تک ہونی چاہیے بلکہ خود صدر زرداری کہہ چکے ہیں کہ امدن کم سے کم 50 ہزار روپے تک ہونی چاہیے جو مہنگائی کا حال ہے ۔ لیکن سندھ میں ابھی بھی بڑی تعداد میں لوگ ایسے ہیں جو 10 ہزار روپے مہینہ سے بھی کم کماتے ہیں بمشکل چھ فیصد لوگ ایسے ہیں جن کی امد 20 ہزار سے اوپر ہے حکومت نے غریبوں میں سے غریب ترین لوگوں کی مدد کرنے کے لیے واش پروگرام بنایا ہے ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے اس مد میں 100 ملین ڈالر برائے واش فراہم کرنے کا معاہدہ کیا ہے وفاقی حکومت کی منظوری سے ایکنک کے ذریعے یہ رقم ملنی ہوتی ہے یہ قرضہ ہے جو حکومت سندھ نے واپس کرنا ہے 2022 کے سلاب متاثرین کے لیے جب مجموعی طور پر اے ڈی بی نے 500 ملین ڈالر کا قرضہ منظور کیا تھا اس میں 100 ملین ڈالر واش پروگرام کے لیے رکھے کی کوشش ہے کہ صلاح متاثرین کے لیے جہاں پکے مکانات تعمیر کیے جا رہے ہیں وہیں انہیں واش پروگرام کے ذریعے زندگی کی بنیادی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں واش روم بنا کر دیا جائے ۔ جن علاقوں میں سیلاب کی وجہ سے تباہ کاری ہوئی اور لوگوں کے مکانات گر گئے تھے وہاں مکان تو دوبارہ تعمیر کیے جا رہے ہیں لیکن واش روم کی سہولت نہیں پروگرام کے تحت مختلف علاقوں میں سندھ کے تمام اضلاع میں واش روم بنائے جائیں گے اور حکومت اس کے لیے فنڈز کا بندوبست کر رہی ہے جب سے حکومت نے دنیا بھر میں سب سے بڑا 21 لاکھ مکانات کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا ہے اور اٹھ لاکھ مکانات کی تعمیر مکمل کر کے ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے تب سے لوگوں کی یہ ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے کہ اب ان مکانات کے ساتھ ساتھ واش روم کی سہولت بھی مہیا کی جائے اور صوبائی حکومت کا اپنا پروگرام ہے کہ واش پروگرام کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو واش روم کی سہولت مہیا کر دی جائے اس کے نتیجے میں صحت عامہ کہ بہت سے بنیادی مسائل سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے بیماریوں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے اور وہ بجٹ جو بعد میں مریضوں کے علاج معالجے پر ہسپتالوں میں خرچ کرنا پڑتا ہے اس کو بچایا جا سکتا ہے اگر لوگ کم تعداد میں بیمار ہوں اور کم تعداد میں ہسپتالوں پر ائیں تو حکومت کے انفراسٹرکچر پر کم بوجھ پڑے گا لوگوں کی صحت بہتر ہوگی لوگوں کی زندگی بہتر ہوگی اور ان کا لائف سٹائل اور معیار زندگی بہتر ہوگا ضروری ہے کہ لوگوں کے پاس پختہ پکے تعمیر اتی مکانات ہوں بارشوں اور سیلاب میں انہیں سڑکوں پر جا کر نہ بیٹھنا پڑے اور وہ اپنے گھروں میں محفوظ رہیں جب بارشوں اور سلاب میں وہ کھلے مقامات پر یا کیمپوں میں یا اسکولوں اور سرکاری عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں تو وہاں پر بھی باتھ روم اور واش روم کے مسائل ہوتے ہیں اور بیماریاں جنم لیتی ہیں بڑی تعداد میں مچھر ان پر حملہ اور ہوتے ہیں اور خاص طور پر بچے اور عورتیں صحت کے مسائل سے دوچار ہو کر ہسپتال پہنچ جاتے ہیں اور اس حکومت کے انفراسٹرکچر پر کافی دباؤ بڑھ جاتا ہے اگر لوگوں کو کچے گھروں کے بجائے پکے مکانات مل جائیں تو ان کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے اور ان کو اپنے مکانات کے ساتھ ہی واش روم مل جائیں تو ان کی صحت بہتر ہو سکتی ہے واش روم اور پانی کی فراہمی اور صفائی اور بہتر خوراک کے ذریعے بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے ۔ سندھ حکومت اس حوالے سے مختلف قرضہ جاتی پروگرام کے ذریعے اپنے عوام کو پختہ مکانات تعمیر کر کے دے رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ واش روم تعمیر کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے واش پروگرام ایک بہت ہی مفید اور ضروری پروگرام ہے اور اس کی اہمیت اور افادیت کو ڈونر ایجنسیاں بھی تسلیم کرتی ہیں اور اس پر فنڈنگ ہو رہی ہے اب وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ جو باہر سے فنڈز منظور ہوں ان کو جلدی سے اگے بڑھایا جائے 2022 کے سیلاب سے سندھ میں ایک کروڑ 60 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے ان کے لیے 21 مکانات کی تعمیر کا کام جاری ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ باہر بیٹھے اور صاحب حیثیت شخصیات کی جانب سے سندھ میں چار ہزار لوگوں کے لیے مکان نعت عطیہ کیے گئے ہیں یعنی انہوں نے فنڈز یا رقم فراہم کی ہے اور لوگ اپنے گھر خود بنا رہے ہیں لوگوں کی جانب سے اس طرح کی رقم عطیہ کرنا حکومت سندھ کے منصوبوں پر بھرپور اعتماد کی عکاسی کرتا ہے ۔حکومت صلاح متاثرین کے مکانات کی تعمیر میں ملکیتی حقوق بھی دے رہی ہے اور خواتین کے نام پر ملکیتی حقوق دیے جا رہے ہیں ۔ 8 لاکھ افراد کے بینک اکاؤنٹ پہلی مرتبہ کھولے گئے اور براہ راست رقم ان کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی اور وہ خود اپنے گھر بناتے ہیں ۔ 90 فیصد لوگ ایسے تھے جنہوں نے زندگی میں پہلے کبھی بینک اکاؤنٹ نہیں کھولا تھا ۔ حکومت کے پاس ایک بہت بڑا ڈیٹا بھی اگیا ہے جس کے ذریعے اس سے مکمل معلومات ہے کہ کس علاقے میں کتنے لوگ ہیں اور کس گھر میں کتنے افراد رہتے ہیں ان کی امدن کیا ہے اور ان کی عمریں کیا ہیں اور ان کے ذرائع امدن کیا ہیں ۔ یہ ڈیٹا حکومت کے لیے مختلف حوالوں سے بہت مفید ثابت ہو رہا ہے اور حکومت مختلف منصوبوں میں اس ڈیٹا کی مدد سے لوگوں کی بہتر مدد کرنے کے قابل ہو گئی ہے
https://www.youtube.com/watch?v=t4DOD9SYM9w























