وزیر اعلی سندھ نے 30 دسمبر کی تاریخ دی تھی اور آج 30 دسمبر ہے لیکن پروگریس کیا ہے ؟

13 دسمبر کو سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا تھا کہ کراچی کے لیے مزید پانی کی فراہمی کے منصوبے کے فور K IV توسیعی کام کا اغاز 30 دسمبر کو ہوگا آج 30 دسمبر ہے لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ اس منصوبے کی پروگریس کیا ہے اور وزیر اعلی اج کیا بتاتے ہیں واضح رہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیورج کارپوریشن میں اپریشنل ریفارمز اور پانی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ورلڈ بینک کے تعاون سے سندھ حکومت ایک بہت بڑا منصوبہ شروع کر چکی ہے جس میں وزیراعلی کے مطابق سندھ حکومت نے اپنے حصے کے491 ملین روپے جاری کر چکے ہیں اور ورلڈ بینک نے اپنے فنڈز جاری کرنے ہیں جس کے لیے ورلڈ بینک کے اجلاس نے ان کو کہا گیا تھا کہ فنڈز جاری کریں یاد رہے کہ کے فور کی توسیع کے لیے گڈاپ میں اراضی اور متاثرین کی اباد کاری کا منصوبہ مکمل کیا گیا ہے مجموعی طور پر پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی بہتری کے لیے جو پروجیکٹ شروع کیا گیا اسے کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروس امپروومنٹ پروجیکٹ کہا جاتا ہے اس کے تحت سال 2032 تک ورلڈ بینک کی جانب سے مختلف مراحل میں مسلسل ڈالرز میں قرضہ سندھ حکومت کو ملتا رہے گا اس حوالے سے متعدد سوالات گردش کرتے رہتے ہیں لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ قرضہ واپس کیسے ہوگا واٹر کارپوریشن کے پاس آمدن کے ذرائع کیا ہیں کس طرح عوام کی جیب سے پیسہ نکال کر یہ قرضہ واپس کیا جائے گا اس کی پلاننگ کیا ہے اور روڈ میپ کیا ہے ؟ کراچی کے شہری جو ابھی پانی کا سادہ بل ادا نہیں کر رہے ادھے سے زیادہ کسٹمرز بل ادا نہیں کرتے ان سے ورلڈ بینک کے ڈالرز میں وصول ہونے والے بھاری قرضے کی واپسی کے لیے رقم کیسے وصول کی جا سکے گی بتایا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں گھر گھر پانی کے بل مزید مہنگے ہو جائیں گے اور ان بلوں کی عدم ادائیگی پر پراپرٹی سیل کرنے کے اختیارات بھی مل جائیں گے اور واجبات ادا نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی ایکشن لیا جائے گا اور عدم ادائیگی پر صرف پانی کا کنکشن یا سیوریج کے حوالے سے مسائل نہیں پیدا کیے جائیں گے بلکہ پوری پراپرٹی کے لیے قانونی مسائل پیدا کیے جائیں گے گویا انے والے دنوں میں کراچی شہر میں مزید واویلا اور ہنگامہ ہو سکتا ہے ابھی تو کہ الیکٹرک کے واجبات شہریوں کے لیے مسئلہ بنے ہوئے ہیں اور مہنگی بجلی کی وجہ سے وہ جب بھی لگا نہیں کر پاتے تو ہنگامے شروع ہو جاتے ہیں یا گھر کا کنکشن کاٹنے کے لیے گاڑیاں آجاتی ہیں جب پانی کی بلوں کی عدم ادائیگی پر ایسی صورتحال ہوگی تو کیا ہوگا ایک تو شہریوں کو پانی مل نہیں رہا اوپر سے جب ان کو بھاری بل ملیں گے اور وہ ادا نہیں کر پائیں گے تو کیا ہوگا کیا واجبات قدم ادائیگی پر حکومت پھر کوئی نیا قرضہ ادا کر کے شہریوں کی طرف سے پرانا قرضہ ادا کرنے کے لیے سود پر سود ادا کرتی رہے گی ؟