دھرتی کے ہیرو سردار بھگت سنگھ کی یاد میں پونچھ ھاؤس لاھور میں تاریخی گیلری کا قیام


رپورٹ ۔۔۔۔شہزاد بھٹہ
لاھور پاکستان کا دل ھے جس کی تاریخی حیثیت پوری دنیا میں مسلمہ ھے لاھور کی سرزمین قدم قدم پر عظیم تاریخی ورثے سے بھری پڑی ھے لاھور نے مختلف ادوار میں زمانے کے نشیب و فراز دیکھے ہیں لیکن اپنی تاریخی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے دنیا بھر میں اپنی پہچان کو منوایا

لاہور صوبہ پنجاب، پاکستان کا دار الحکومت اور پاکستان کے گنجان آباد شہر کراچی کے بعد سب سے بڑا شہر ہے۔ لاھور پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز اور پاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔
لاھور دریائے راوی کے کنارے واقع ہے۔ اس شہر کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔
لاھور صدیوں پرانا ھونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ہوئے ہیں لاھور میں مختلف تاریخی اہمیت کی لاتعداد عمارات موجود ہیں جو آج بھی قائم و دائم دنیا کی نظروں کے سامنے ھیں ان نمایاں تاریخی مقامات کے علاوہ تاریخی طور اہمیت کی حامل کئی عمارات زمانے کی ستم انگیریزی کا شکار ھو چکی تھی ان میں پونچھ ھاؤس جسٹس شادی لال بلڈنگ وغیرہ شامل ہیں
محکمہ آرکیالوجی پنجاب حکومت نے کچھ سال پہلے اپنے جواں سالہ نہایت متحرک پرجوش اور دھرتی سے پیار کرنے والے سیکرٹری ڈاکٹر محمد احسان بھٹہ کی والہانہ انگیز قیادت میں لاھوری ورثے کو محفوظ کرنے اور اس کو اپنی حقیقی اصل شکل میں بحال کرنے کا بیڑہ اٹھایا انہوں نے مختلف محکموں کے باھمی تعاون سے لاھور شہر کی کئی تاریخی اھمیت کی خستہ و تباہ حال عمارتوں کو ان کی اصل شکل میں بحالی کا پروگرام شروع کیا جن کی ایک لمبی فہرست ھے
آج ھم پونچھ ھاؤس لاھور کی تاریخی بلڈنگ کو ازسرنو تعمیر و مرمت اور پونچھ ھاؤس میں دھرتی پنجاب کے بیٹے سردار بھگت سنگھ شہید کی آزادی کے لیے کئی گئی جدوجہد کو نمایاں کیا گیا ھے پونچھ ھاؤس لاھور اور سردار بھگت سنگھ شہید کا آپس میں گہرا تعلق ھے انگریز دور حکومت میں سردار بھگت سنگھ کے خلاف بغادت کیس کی سماعت کی گئی اور سزا موت دی گئی اس تاریخی تعلق کو نئی نسل کو آگاہ کرنے کے لیے ڈاکٹر محمد احسان بھٹہ نے پونچھ ھاؤس کو اصل حالت میں بحال کرنے کے ساتھ ساتھ سردار بھگت سنگھ کیگری بنانے کا فیصلہ کیا گیا


ڈاکٹر محمد احسان بھٹہ کی خصوصی ہدایت پر پونچھ ھاؤس کی ازسر تزہین ؤ آرائش اور ضروری تعمیر و مرمت کے دوران اس بات پر خصوصی طور پر توجہ دی گئی کہ تعمیر و مرمت کے دوران قدیمی طرز تعمیر کے اصولوں کو مدنظر رکھا جائے تاکہ اس کے حقیقی حسن کو بحال رکھا جائے
پونچھ ھاؤس دراصل ایک رہائشی عمارت تھی جو 1849ء میں مہاراجہ دلیپ سنگھ کے عہد میں فرانسیسی جنرل لارڈ لارنس کی قیام گاہ کے طور پر اس وقت تعمیر کی گئی جب وہ سکھ فوج کے ساتھ لاہور میں مقیم تھا۔
ریونیو ریکارڈ کے مطابق پونچھ ھاوس کی زمین خسرہ نمبر 4552 پر مشتمل ھے جو راجہ جگت دیو سنگھ مہاراجہ ریاست پونچھ کی ملکیت تھی، اس لئے اس بلڈنگ کو پونچھ ھاؤس کا نام دیا گیا
انگریز دور حکومت میں پونچھ ھاؤس چیف کورٹ کے بیرسٹر چارلس بولنوائس کے قبضے میں رہا جس کے بعد یہ چیف جج سرمیڈتھ پلوڈن کے زیرِ تصرف رہا۔
سیکرٹری انڈسٹری احسان بھٹہ کی خصوصی کاوشوں سے محکمہ انڈسٹری اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آرکیالوجی نے پونچھ ھاؤس کی عمارت کی کنزرویشن بحالی تزئین و آرائش کا کام مختصر عرصے میں مکمل کیا اور عوام کے لیے کھول دیا گیا پونچھ ھاؤس لاھور کی ازسرنو بحالی میں عمارت کی لکڑی کے سیڑھیوں کے کیس، فریسکو ورک روم کی بحالی، ڈی جی ہیلتھ فاؤنڈیشن کی عمارت میں لائبریری کی بحالی، لیبارٹری کی بحالی، پرانی عمارت کو گرانے والے علاقے میں گراؤنڈ بنانا، ماربل فرش کی پالش، ملحقہ پل کی ترقی، چھت کی صفائی وغیرہ بھی کی گئی
برصغیر کی جدوجہد آزادی کا ہیرو شہید اعظم بھگت سنگھ سوشلسٹ انقلاب کا حامی تھا۔ طبقات سے پاک برابری کی سطح پر قائم ہندوستانی معاشرہ چاہتا تھا۔
بھگت سنگھ ضلع لائل پور کے موضع بنگہ میں 1907 میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق جٹ خاندان سے تھا۔کاما گاٹا جہاز والے اجیت سنگھ ان کے چچا تھے۔ جلیانوالہ باغ قتل عام اور عدم تعاون کی تحریک کے خونیں واقعات سے اثر قبول کیا۔ بھگت سنگھ نے 1921ء میں اسکول چھوڑ دیا اور نیشنل کالج میں تعلیم شروع کی۔ لاہور میں 1927ء دسہرہ بم کیس کے سلسلے میں گرفتار ہوئے اور شاہی قلعہ لاہور میں رکھے گئے۔ ضمانت پر رہائی کے بعد نوجوان بھارت سبھا بنائی اور پھر انقلاب پسندوں میں شامل ہو گئے۔
دار الحکومت دہلی میں سردار بھگت سنگھ نے اور ان کے دوست بٹو کیشور دت( بی کے دت ) نے مرکزی اسمبلی ہال میں دھماکا پیدا کرنے والا بم پھینکا جب اسمبلی کا اجلاس جاری تھا دونوں گرفتار کرلیے گئے عدالت نے عمر قید کی سزا دی۔
1928ء میں سائمن کمیشن کی آمد پر لاہور ریلوے اسٹیشن پر زبردست احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس میں لالہ لاجپت رائے زخمی ہو گئے۔ اس وقت لاہور کے سینئر سپرٹینڈنٹ پولیس جیمز سکاٹ تھے۔ انقلاب پسندوں نے ان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن ایک دن پچھلے پہر جب مسٹر سانڈرس اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ پولیس لاہور اپنے دفتر سے موٹر سائیکل پر دفتر سے نکلے تو شیو رام راج گرو اور بھگت سنگھ وغیرہ نے ان کو گولی مارکر ہلاک کر دیا۔ حوالدار جین نے سنگھ کا تعاقب کیا۔ انھوں نے اس کو بھی گولی مار دی اور ڈی اے وی کالج ہاسٹل میں کپڑے بدل کر منتشر ہو گئے۔

آخر خان بہادر شیخ عبد العزیز نے کشمیر بلڈنگ لاہور سے ایک رات تمام انقلاب پسندوں کو گرفتار کر لیا۔پونچھ ھاؤس لاہور کے کمرۂ عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ بھگت سنگھ اور دت اس سے قبل اسمبلی بم کیس میں سزا پا چکے تھے۔ مقدمہ تین سال تک چلتا رہا۔ حکومت کی طرف سے خان صاحب قلندر علی خان اور ملزمان کی طرف سے لالہ امرد اس سینئر وکیل تھے۔
بھگت سنگھ اور سکھ دیو کو سزائے موت کا حکم دیا گیا اور 23 مارچ، 1931ء کو ان کو پھانسی دے دی گئی۔ فیروز پور کے قریب دریائے ستلج کے کنارے، ان کی لاشوں کو جلا دیا گیا۔ بعد میں یہاں ان کی یادگار قائم کی گئی۔
ڈاکٹر محمد احسان بھٹہ سیکرٹری صنعت و تجارت پنجاب نے ایک ملاقات میں بتایا کہ دھرتی کے بیٹے سردار بھگت سنگھ شہید کی انگریز سامراج کے خلاف کئی گئی جدوجہد سے نئی نسل کو آگاہ کرنے کے لیے پونچھ ھاؤس میں تاریخی گیلری قائم کی گئی ھے جس میں بھگت سنگھ سے متعلقہ تصاویر تاریخی دستاویزات رکھی گئی ھیں
بھگت سنگھ گیلری میں شہید کی پچین سکول زندگی خاندانی درخت سامراج کے جدوجہد قید اور کورٹ کاروائی سزائے موت اور پھانسی دینے کے بارے معلومات رکھی گئی ھے کیگری میں سردار بھگت سنگھ کے بارے لکھی گئی مختلف کتب بھی رکھی گئی ھیں ڈاکٹر احسان بھٹہ نے پونچھ ھاؤس بلڈنگ کی بحالی اور دھرتی کے بیٹے سردار بھگت سنگھ شہید گیلری کی تکمیل میں چیف سیکرٹری پنجاب، ظہیر عباس کھوکھر ڈی جی آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ،محمد حسن ڈائریکٹر آرکیالوجی پنجاب مقصود احمد سابقہ ڈائریکٹر آرکیالوجی پنجاب آصف انصاری و دیگر ٹیم ممبرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تاریخ لاھور کو ازسر نو زندہ کرنے میں ھماری تمام ٹیم ممبرز کی انتھک اور شب و روز محنت کا نتیجہ ھے
محمد احسان بھٹہ نے بنگہ 105 جڑانوالہ فیصل آباد کے رھائشی محمد ثاقب ورک کا بھی شکریہ ادا کیا جہنوں نے سردار بھگت سنگھ شہید کی تاریخی تصاویر گیلری کے لیے عطیہ کیں
قومیں وھی زندہ رہتی ہیں جو اپنی تاریخ ورثے اور دھرتی کے ہیروز کو یاد رکھتی ھے پنجاب کی دھرتی میں ھزاروں تاریخی عمارات موجود ہیں اس کے ساتھ ساتھ اس دھرتی نے بڑے بڑے ہیروز پیدا کئے ہیں جہنوں نے ظلم و استہزاء کے خلاف جدوجہد کی اور تاریخ میں امر ھو گئے
حکومت پنجاب چاھے تو اپنی تاریخی ورثے سے سیاحت کو فروغ دے کر سالانہ اربوں روپے کما سکتی ھے
ڈاکٹر محمد احسان بھٹہ نے دھرتی پنجاب کے تاریخی ورثے کو ازسر نو تعمیر و مرمت اور محفوظ کرنے کے لیے تاریخی خدمات انجام دی ہیں