جیکب آباد ڈائری رپورٹ ایم ڈی عمرانی


جیکب آباد کی ڈائری جیکب آباد کی سول سوسائٹی، وکلاء، صحافیوں اور سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے جیکب آباد میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیکب آباد میں امن و امان کی صورتحال، صحت، تعلیم، پینے کے پانی کی عدم دستیابی، بنیادی انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی ابتر ہوچکی ہے، لوگوں کا جیکب آباد میں رہنا مشکل ہوگیا ہے، اقلیتی برادری غیر محفوظ ہوکر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوچکی ہے، فورم میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے اور بنیادی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ ان خیالات کا اظہار سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب جیکب آباد میں انسانی حقوق کی صورتحال اور مسائل کے عنوان پر منعقدہ پروگرام سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین اقبال ڈیتھو نے کہا کہ جیکب آباد کے شہریوں نے مزاکرے میں جن مسائل کی نشاندہی کی ہے وہ انتہائی سنگین ہیں، اس کے لیے کمیشن اپنے مینڈٹ کے مطابق حکومت کے سامنے ان مسائل کو اٹھائے گی تاکہ ان بنیادی اور انسانی حقوق کے مسائل کو حل کیا جاسکے اور اس کے ساتھ فورم میں سرگرم شہریوں پر مشتمل انسانی حقوق کے دفاع کا فورم تشکیل دیا جائے گا جوکہ مستقل بنیادوں پر ان مسائل کو نشاندہی اور کمیشن کے ساتھ ان مسائل کے حل کے لیے رابطہ رکھے، انہوں نے کہا کہ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے جیکب آباد میں خواتین کے مسائل کے حل کے لیے سٹی تھانہ پر وومن اینڈ چلڈرن اسٹیشن کا قیام منظور کرایا جس پر کام چل رہا ہے، ڈسٹرکٹ جیل کے دیگر مسائل کے ساتھ جیل میں سولر سسٹم لگانے کے لیے حکومت سے بات کی جس پر آئی جی جیل خانہ جات نے دوسرے فیز میں جیکب آباد جیل کو مکمل سولر پر منتقل کیا جائے گا، جبکہ دارلامان کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے جیکب آباد دارلامان کا کام مکمل کرایا جس کو چلانے کے لیے دارلامان کو وومن ڈولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے حوالے کیا گیا ہے، منعقدہ تقریب سے سندھ کے نامور فنکار اور سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے رکن ایوب کھوسہ نے کہا کہ ضلع جیکب آباد کے جو مسائل آج پیش کئے گئے ہیں ان کا مجھے ادراک ہے خصوصاً اقلیتوں سے وابستہ مسائل کو کمیشن کے اقلیتی رکن کے سامنے پیش کرکے مشترکہ طور پر سندھ حکومت کے سامنے اٹھائیں گے کیوں کہ اقلیتی برادری جیکب آباد سمیت سندھ کے کاروبار کا اہم جز ہے، ان کی نقل مکانی سے سندھ خصوصاً جیکب آباد کے کاروبار کو شدید نقصان ہوگا، سماجی رہنما جان اوڈھانو نے کہا کہ بچوں سے جبری مشقت کی وجہ سے ہماری آنے والی نسل تباہی کی طرف جارہی ہے بچوں کو تعلیم سے دور رکھ کر ان کے مستقبل سے کھیلا جارہا ہے، ایڈوکیٹ زبیدہ جکھرانی، ایڈوکیٹ صوفیہ شاہد نے کہا کہ جیکب آباد میں خواتین کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مردوں کی نسبت زیادہ پیش ہورہی ہیں، خواتین وکلاء بھی امتیازی سلوک کا شکار ہیں، سرکاری اسپتالوں میں خواتین کے علاج خصوصاً زچگی کے لیے آنے والی خواتین کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مسیحی رہنما برونر بی نیوٹن ٹونی نے کہا کہ جیکب آباد ضلع میں جہاں اقلیتی برادری کے ساتھ ذیادتیاں ہورہی ہیں وہیں اکثریتی برادری بھی ان ہی مسائل کا شکار ہے، انسانی حقوق کی خلاف وزریاں روکنے کے لیے قانون پر عملدرآمد کرانے کی ضرورت ہے، صحافی زاہد حسین رند نے کہا کہ جیکب آباد میں ہندو برداری کو بھتہ کے لیے تنگ کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ہندو برادری نقل مکانی کررہی ہے، ہندو رہنما بابو مہیش کمار کو بھتہ کے لیے مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں لیکن پولیس ملزمان کے خلاف کاروائی نہیں کررہی، صحافی عبدالغنی کھوسو نے کہا کہ جیکب آباد میں خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعات میں اضافہ لمحہ فکریہ ہے خواتین کے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی کے ملزمان کو سزا نہیں مل رہی جس کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں،سماجی رہنما ندیم بہرانی نے کہا کہ جیکب آباد زرعی ضلع ہے جہاں سینکڑوں ملز موجود ہیں اور ہزاروں مزدور وہاں کام کرتے ہیں لیکن وہ سوشل سیکورٹی سے محروم ہیں اور انہیں محنت کے باوجود اجرت بھی کم دی جارہی ہے، ہزاروں مزدور غیر رجسٹرڈ ہیں جس کی وجہ سے ان کے مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں، شفا ویلفیئر کے گل بلیدی نے کہا کہ غیرت کے نام پر بے گناہ لوگوں کا قتل کیا جارہا ہے، گزشتہ 6 ماہ کے دوران 22 خواتین و مردوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے، 10 خواتین اور بچیوں کو زیادتی اور حراساں کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، ضلع میں کئی قبائلی جھگڑے چل رہے ہیں جس کی وجہ سے درجنوں لوگ قتل ہوئے ہیں اور قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے ہزاروں بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے، ڈسٹرکٹ بار کے رہنما طاہر رند، نہال خان دستی نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں عوام کو صحت کی سہولیات میسر نہیں پینے کا صاف پانی نہیں جس کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں، اس موقع پر خادم اوڈھانو، برکت کھوکھر، زلیخان ابڑو، ماہ جبین ابڑو،منصب شیخ، عبدالرشید کھوسو، نثار گورشانی، میر امین خان کھوسو، محسن شیخ، حفیظ بھٹی اور دیگر نے بھی انسانی حقوق کے مسائل کے حوالے سے گفتگو کی۔

جیکب آباد پی پی شہید بھٹو کا دریائے سندھ سے کینال نکالنے کے لیے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی جانب سے دریائے سندھ سے 6 کینال نکالنے کے منصوبے کے خلاف ایک احتجاجی جلوس ندیم قریشی، نور محمد منجھو، بابل کوریجو کی قیادت میں نکالا گیا، مظاہرین نے جلوس نکال کر شہر میں مارچ کیا اور نعریبازی کی، مظاہرین نے پریس کلب کے سامنے پہنچ کر دھرنا دیا، اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ سے 6 کینال نکالنے کا منصوبہ سندھ کو بنجر بنانے کی سازش ہے، سندھ میں پہلے ہی پانی کی قلت ہے مزید کینال نکال کر عوام کو معاشی طور پر قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ سندھی کسی صورت کینال نکالنے نہیں دیں گے کینالوں کا منصوبہ ختم کرکے سندھ کی عوام میں پھیلی بے چینی کو دور کیا جائے۔

جیکب آبادمجلس وحدت مسلمین ضلع جیکب آباد کی جانب سے تیسرے روز بھی پاراچنار اور ضلع کرم کے مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے ڈی سی چوک پر احتجاجی دھرنا جاری رہا۔ احتجاجی دھرنے سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ مقصود علی ڈومکی، ضلعی صدر نذیر حسین جعفری، سید غلام شبیر نقوی، مولانا منور حسین سولنگی، جماعت اسلامی جیکب آباد کے امیر حاجی دیدار علی لاشاری، سماجی رہنما رحمدل ٹالانی، مجلس علماء مکتب اہل بیت کے رہنما مولانا ارشاد علی سولنگی و دیگر نے خطاب کیا اور مظلومین پارا جنار سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ پارا چنار کے عوام کو مستقل امن چاہیے پارا چنار کا مسئلہ فرقوں کی لڑائی نہیں بلکہ ایک دہشت گرد ٹولے کی پرامن شہریوں کے خلاف شر پسندی ہے حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ پارا چنار کے عوام گزشتہ تین ماہ سے محاصرے میں ہیں پارا چنار کے راستوں کو ناامن بنا کر آئے روز مسافروں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہم ضلع کرم میں شیعہ سنی تمام مکاتب فکر کے لئے امن کے خواہاں ہیں یہ حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو مستقل امن فراہم کریں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ضلعی صدر ایم ڈبلیو ایم جیکب آباد نذیر حسین جعفری نے کہا کہ جب تک پارا چنار کے مظلوموں کے مطالبات پورے نہیں ہوتے اس وقت تک ہمارا دھرنا جاری رہے گا قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے حکم پر پورے پاکستان میں لاکھوں عاشقان اہل بیت پارا چنار کے عوام کے لئے دھرنا دے کر بیٹھے ہیں حکومت اور ریاستی ادارے جتنا جلد پارا چنار کے عوام کے مطالبات تسلیم کریں اتنا ہی بہتر ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی جیکب آباد کے امیر حاجی دیدار علی لاشاری نے کہا کہ ہم پاراچنار کے مظلوم عوام کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں پارا چنار میں معصوم انسانوں کا قتل عام روکا جائے اور ضلع کرم کے روڈ اور راستے کھولے جائیں تمام مسلمان شیعہ سنی آپس میں بھائی بھائی ہیں جن کے درمیان اسلامی اخوت کا رشتہ قائم ہے۔

جیکب آبادپارا چنار کا انسانی المیہ حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے، مدارس بل کی منظوری جے یو آئی کی فتح ہے، کینالز کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور سندھ میں امن کی ابتر صورتحال پر جے یو آئی کی کانفرنس میں احتجاج کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جمعیت علماء اسلام ضلع جیکب آباد کی جانب سے ایک عظیم الشان ”اسلام زندہ باد کانفرنس“ ضلعی امیر ڈاکٹر اے جی انصاری کی صدارت میں مقامی ہال میں منعقد کی گئی۔ کانفرنس میں خواتین، سیاسی و سماجی رہنماؤں، تاجروں، وکلاء، ڈاکٹروں اور ہندو برادری سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر جے یو آئی کے مرکزی سالار انجینئر عبدالرزاق عابد لاکو، صوبائی انفارمیشن سیکریٹری ڈاکٹر عبدالغنی انصاری، مولانا سلیم اللہ بروہی، مولانا اسداللہ کھوڑو، مولانا صبغت اللہ جوگی، حاجی محمد عباس بنگلاانی، انجینئر حماداللہ انصاری، اظہار الحق صدیقی اور اسداللہ حیدری نے خطاب کیا۔ مرکزی سالار انجینئر عابد لاکو نے خطاب میں پارا چنار میں بچوں سمیت دیگر افراد کی ہلاکتوں کو حکومتی ناکامی قرار دیا انہوں نے کہا کہ سندھ جرائم کی آماجگاہ بن چکا ہے اور امن سولی پر لٹکا ہوا ہے۔ سندھ پر کینالز بنانے کی سازش اس کی زمینوں اور انفراسٹرکچر کو تباہ کر دے گی۔ جے یو آئی سندھ کے پریس سیکریٹری ڈاکٹر اے جی انصاری نے کہا کہ جے یو آئی امن، خوشحالی، انسانی حقوق، اقلیتوں اور خواتین سمیت تمام طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں ایکڑ زمین ملٹی نیشنل کمپنیوں کو دینے کے بجائے وہی سہولیات کسانوں اور ہاریوں کو دی جائے تو زیادہ ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اغوا انڈسٹری اور قبائلی جھگڑوں نے علاقوں کو نو گو ایریا بنا دیا ہے۔