
تحریر: اطہر اقبال
———————–
زندگی کو اگر کوئی دوسرا نام دیا جائے تو ہم اسے مختلف زبانوں میں علیحدہ علیحدہ ناموں سے بھی یاد کر سکتے ہیں جیسے زیست، عمر، جیون، حیات، زِندَگانی، ایک نام اور بھی ہو سکتا ہے جو یقیناً زندگی کی بھرپور ترجمانی اور عکاسی کرتا نظر آئے گا اور وہ نام ہے ”سیکھنا“، زندگی سیکھنے سے ہی بدلتی ہے اس لیے ہم میں سے چاہے کوئی بھی ہو اسے سیکھنے والا رویہ ہی اپنانا ہوگا۔
سیکھ نہیں پایا میں میٹھے جھوٹ کا ہُنر
کڑوے سچ نے کئی لوگ چھین لیے مجھ سے
سیکھنے کا عمل ہی ہماری زندگی کو خوب صورت بنا سکتا ہے، پھر چاہے وہ رشتے ہوں یا خود ہماری اپنی ذات، ہم سب ہی کو اچھے سے سمجھ پاتے ہیں، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ”انسان کو بولنا سیکھنے میں دو سال لگتے ہیں لیکن کون سا لفظ کہاں بولنا ہے یہ سیکھنے میں پوری زندگی گزر جاتی ہے“۔
انسان کی زندگی میں سیکھنے کا عمل ساری عمر ہی جاری رہتا ہے، سیکھنے کے اس عمل میں جہاں ایک جانب رشتوں کی پہچان ہوتی ہے وہیں دوسری جانب ہماری اپنی ذات اور شخصیت کی بھی، جو لوگ اپنی زندگی کا مقصد سمجھ جاتے ہیں زندگی بھی اُن کو سمجھ جاتی ہے،نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) NIPA ایک ایسا ہی ادارہ ہے جہاں سیکھنے سکھانے کا عمل جاری رہتا ہے،نیپا ملک کا انتہائی اہم تربیتی ادارہ ہے جہاں سرکاری افسران کو پبلک ایڈمنسٹریشن کے حوالے سے خصوصی تربیت فراہم کی جاتی ہے، یہ ادارہ پاکستان میں بیوروکریسی کی تربیت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے،نیپا سرکاری اور انتظامی افسران کو جدید ترین انتظامی مہارتوں سے آراستہ کرنے اور حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے تربیتی عمل میں شریک ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی منصوبہ بندی کے مختلف کاموں پر تحقیق اور تجاویز کو بھی فروغ دے رہا ہے، نیپا کی تعلیمی اور تربیتی خدمات ہمارا قومی اثاثہ ہیں خاص طور پر اس وقت کہ جب انتظامی معاملات کی بہتری اور پالیسی سازی کی بات کی جائے، اس ادارے کے قیام کا مقصد حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانا اور پبلک پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کو فروغ دینا بھی ہے ؎
قسمتِ نوعِ بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں
اِک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) NIPAایک ایسا ادارہ جہاں زندگی کو محض زندگی یا صرف زندہ رہنے تک ہی محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ زندگی کو اس کے اصل مطلب یعنی سیکھنے سکھانے کے عمل تک لے جایا جاتا ہے،ہمیں اس بات پر یقین رکھنا چاہیے ہم اتنا ہی مضبوط ہوں گے جتنا ہمارے خیالات مضبوط ہوں گے اورا تنا ہی کم زور جتنا ہمارے خیالات کم زور ہوں گے، سیکھنے کے عمل سے گزرنے کے بعد یقینا ہر فرد اپنے ماضی سے مختلف ہوسکتا ہے، اگر ہم اپنی تلاش میں سنجیدہ رہیں گے تو وہ سب کچھ حاصل ہوگا جس کی ہمیں خواہش ہے، کامیابی ہر کام کو خوشی خوشی سے کرنے والوں کے ساتھ سفر کرتی ہے اگر ہم پرُ عز م ہیں تو یقینا کام یابی ہمارے لیے ہی ہوگی۔ جو لوگ اپنے جینے کا مقصد سمجھ جاتے ہیں زندگی ان پر مہربان ہوتی ہے، رہنمائی اور مواقع ہمارے لیے کسی نا کسی شکل میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور اس رہنمائی اور مواقع کے ساتھ جب یہ سیکھنے سکھانے کا عمل کچھ اس طرح ہو کہ آپ خود بھی سیکھ رہے ہوں اور جو اس عمل سے گزر چکے ہیں وہ بھی سیکھنے کے مرحلے میں آپ کے ساتھ شریک ہوں اور آپ کو سکھا رہے ہوں، اپنی زندگی کے تجربات اور مشاہدات سے آپ کو آگاہ کر رہے ہوں تو اس شمولیت کے اثرات بہت مثبت نکلتے ہیں لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ کسی بھی ادارے میں ایسی بنیاد(Platform)ضرور موجود ہو جو پرانے اور نئے لوگوں کو قریب لانے اور ان کے درمیان آپس کے رابطوں کو مضبوط بنائے اور یقینا ایسا پلیٹ فورم ”المنائی“ کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے جہاں نئے اور پرانے ساتھیوں کو جوڑنے اور ان میں قُربتیں بڑھانے کے لیے المنائی ایسوسی ایشن ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ؎
زندہ رہنے کے بہانے ڈھونڈیں
آؤ کچھ دوست پرانے ڈھونڈیں
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) NIPAکراچی کے آڈیٹوریم میں اسی حوالے سے 13 دسمبر 2024 ء کو ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا اور یہ وہ موقع تھا کہ جب نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) NIPAکراچی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سید سیف الرحمن (PAS, TI)کی نگرانی میں نیپا کراچی میں المنائی فورم کی بنیاد رکھی گئی اور ساتھ ہی ساتھ ”المنائی ریلیشن اینڈ اینگیجمینٹ آفس“ (AREO) بھی بنا یا گیا، اس موقع پر منعقدہ تقریب سے سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ نیاز احمد صدیقی، فارن سروس آف پاکستان کے گیان چند، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے دھرمو بھوانی،پاکستان کسٹم سروس سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر رئیسہ کنول اور نیپا کراچی کے انسٹرکٹرعبدالخالق شیخ نے بھی خطاب کیا، قبل ازیں تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد قومی ترانہ پڑھا گیا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) NIPAکراچی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ادارے یا درس گا ہ کے لیے اس کے فارغین قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں، نیپا کراچی بھی اپنے فارغ التحصیل افسران کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، انہوں نے فارغین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ادارے کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً ادارے سے رجوع ہو کر اپنے مفید مشوروں اور تجاویز سے نوازتے رہیں، ادارے میں المنائی کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ وہ تمام افسران، ساتھی اور دوست اس ادارے میں آکر اپنے مشاہدات اور تجربات سے اس ادارے میں سیکھنے کے لیے آنے والے نئے افسران سے گفت گو کریں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی پرانی یادوں کو بھی تازہ کریں، انہوں نے کہا کہ پرانے ساتھیوں اور دوستوں سے مل کر بہت اچھا لگتا ہے جس ادارے سے آپ نے کچھ سیکھا ہو وہاں کچھ ایسے دوست آپ کو طویل مدت بعد مل جائیں تو وہ خوشی دیدنی ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ ادارے میں المنائی ایسوسی ایشن کے قیام سے سیکھنے کو بہت کچھ ملے گا، یہ ہم سب کی انجمن ہے اور آپ سب یہاں ایک کہکشاں کی مانند ہیں ؎
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہے
سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ نیاز احمد صدیقی نے کہا کہ نیپا کراچی میں آکر خوشی محسوس کر رہا ہوں، نیپا ایک ایسا ادارہ ہے جہاں افسران آتے گئے اور کارواں بنتا گیا، مثبت سوچ انتہائی ضروری ہے جہاں بدلا لینا حق ہے وہاں معاف کردینا اس سے کہیں زیادہ افضل ہے، انہوں نے کہاکہ اگر ہم کردار میں بڑے ہیں تو عظیم ہیں، جس میں انسانیت نہیں وہ انسان بھی نہیں، انسان کی عظمت ایک دوسرے کی مدد کرنے میں ہے، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر سید سیف الرحمن ایک وژن کے لیڈر ہیں ا ور جہاں وژن نہ ہو وہاں ترقی ممکن نہیں، ہم سب مل کر ہی اس معاشرے کو خوب سے خوب تر بناسکتے ہیں۔
جب نیاز احمد صدیقی ڈاکٹر سید سیف الرحمن کو ایک وژن کا لیڈر قرار دے رہے تھے تو راقم الحروف کی نظروں میں وہ تمام کام ایک لمحے کے لیے کسی فلم کی طرح گھوم گئے جو ڈاکٹر سید سیف الرحمن کی جانب سے مختلف محکموں کی بہتری کے لیے کیے گئے تھے، ڈاکٹر سید سیف الرحمن جہاں جہاں بھی اور جس جس محکمے میں بھی تعینات ہوئے وہاں وہاں اپنے وژن کے ساتھ گئے، وژن زندگی کے مقصد کی ترجیحات طے کرنے کا نام ہے، ہم اپنی ترجیحات کے مطابق ہی زندگی اور کسی ادارے کو بہتر بناسکتے ہیں، وژن کا ہونا ہی ہمیں عام سے خاص انسان بناتا ہے ہر فیلڈ کے بڑے بڑے لوگوں میں یہ خوبی ضرور ہوتی ہے کہ ان کے پاس ان کی زندگی کی ایک خاص بصیرت ہوتی ہے، کسی بھی ادارے کو بہتر بنانے کے لیے دور اندیشی اور خاص بصیرت کا ہونا نہایت ضروری ہے۔
نیپا کراچی میں کیلنڈر سال 2025 ء کے لیے فارغینِ نیپا کی مصروفیات کا احاطہ کرتے ہوئے شیڈول بھی مرتب کیا جا رہا ہے، ساتھ ہی ساتھ سابق افسران کی مختلف مصروفیات، تقریبات اور دیگر متفرق سرگرمیوں کے لیے بھی کام کیا جائے گا، امید ہے کہ نیپا کراچی سے سابق افسران کے روابط قائم اور موثر بنائے جائیں گے اور ان کے تعاون کو مستقل بنیادوں پر مضبوط کیا جائے گا جب کہ فارغین المنائی نیپا کراچی کے ساتھ فعال شمولیت کو بھی فروغ دیا جائے گا، نیپا کراچی سے ریٹائرڈ اور حاضر سروس سینئر افسران کے پیشہ ورانہ مسائل کو اعتماد کے ساتھ نمٹانے کے لیے افسران کو قابل اعتماد اور مستقبل کے لیے مشورے فراہم کیے جائیں گے، کھیلوں میں دل چسپی رکھنے والے افسران کے لیے مختلف کھیلوں کے مقابلوں کے ساتھ ساتھ تفریحی پروگرام بھی منعقد کرائے جائیں گے تاکہ ان کے درمیان گہرے خاندانی تعلقات کو مضبوط کیا جاسکے اور صحت و تندرستی کے عنصر کو فروغ دیا جاسکے، ادارے کے ممتاز سابق افسران کی خدمات کو جانا جائے گا جنہوں نے عوامی مسائل کے حل کے لیے بڑھ چڑھ کر خدمات انجام دیں، نیپا کراچی کے تحت المنائی ڈائریکٹری بھی ترتیب دی جائے گی جو وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ ہوتی رہے گی تاکہ ایک دوسرے تک پہنچنے اور ان سے رابطہ کرنے کے لیے آسانی ہو اور اس ڈائریکٹری تک سب افسران کی رسائی بھی ہو، نیپا کراچی میں ایک سابق طلبا ء / کمیونٹی کلب (NCC)قائم کیا جائے گا جو تمام سماجی معاملات کے لیے مطلوبہ پلیٹ فورم فراہم کرے گا، این سی سی کو مختلف خدمات پیش کرنے کے لیے منظم بھی کیا جائے گا، ان میں نیپا آڈیٹوریم، لائبریری، کھیلوں کی سہولیات، کھانے کی خدمات، خصوصی تقریبات/ اجتماع کی تنظیم اور دیگر تعاون اور تقریبات کا استعمال شامل ہوسکتا ہے، اسی طرح سابق افسران کے ساتھ مل کر موضوعاتی کانفرنسوں، پالیسی، مکالموں اور مباحثوں کی منصوبہ بندی بھی کی جائے گی اور سابق افسران کو گفت گو اور مکالمے میں شرکت کی دعوت دی جائے گی تاکہ وہ اپنی علمی بصیرت اور زندگی کے اسباق کانئے آنے والے افسران کے ساتھ اشتراک کرسکیں ؎
شرطیں لگائی جاتی نہیں دوستی کے ساتھ
کیجیے مجھے قبول مِری ہر کمی کے ساتھ
Load/Hide Comments























