کراچی کو مزید 1200 کیوسک پانی دینے کے لیے کوٹری بیراج سے نکلنے والی تین نہروں کی زمینی سطح اور کناروں کی پختگی کا منصوبہ کیا ہے کب مکمل ہوگا کتنی لاگت آئے گی ؟

بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے کراچی میں پانی کی ضروریات ہر سال مسلسل بڑھ رہی ہیں جن کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو کافی چیلنجوں اور مشکلات کا سامنا ہے اس حوالے سے مختلف منصوبوں پر صوبائی اور وفاقی سطح پر کام جاری ہے لیکن فل وقت کراچی کے لیے اضافی پانی سسٹم میں دستیاب نہیں ہے دریائے سندھ سے پانی کو ک*** جھیل میں لایا جاتا ہے اور وہاں سے پمپنگ کر کے کراچی پہنچایا جاتا ہے کراچی کو پانی کی فراہمی کا دوسرا بڑا ذخیرہ حب ڈیم ہے جہاں بارشوں کا پانی جمع ہو کر آتا ہے کراچی کا بنیادی ذریعہ کینجھر جھیل ہے آنے والے وقت میں کراچی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کوٹری بیراج سے نکلنے والی تین نہروں کی زمینی سطح اور کناروں کی پختگی کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے ذریعے 1200 کیوسک پانی بچانے کا اندازہ ہے آپ پاشی کے ماہرین اس حوالے سے اپنی اسٹڈی کر چکے ہیں اور مختلف مواقع پر اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ بھی لیا جا چکا ہے ۔


واٹر ایکسپرٹس نئے جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کوٹری بیراج سے نکلنے والی نہروں سے جو پانی بچایا جا سکتا ہے اسے کراچی کے کام میں لایا جا سکتا ہے یہ پانی کیسے بچایا جائے گا اس کے لیے کنال بیڈ اینڈ بینک لائننگ کی تجاویز دی گئی ہے اس حوالے سے تفصیلی اسٹڈی کی گئی اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد صوبائی اور وفاقی سطح پر فنڈنگ کا انتظام کرنے پر زور دیا گیا ۔


ماہرین کے مطابق کوٹری بیراج سے نکلنے والی پھلیلی اور بنیاری کنال کی لائننگ کر لی جائے تو 700 کیو سے پانی بچایا جا سکتا ہے اور یہ پانی اضافی طور پر کراچی کو منتقل کیا جا سکتا ہے اس سے پہلے کے بی فیڈر کینال کی لائننگ کا کام مکمل کرنا ضروری ہے جو کوٹری سے ٹھٹا تک جاتی ہے اور کراچی کے لیے کینجھرجھیل میں مزید پانی پہنچاتی ہے کے بی فیڈر جسے کلری بگھار KB فیڈر کا نام دیا جاتا ہے کی اپنی لائننگ کا کام بھی جاری ہے یہ 38 کلومیٹر لمبی لائننگ کا کام ہے جس پر 39 سے 40 ارب روپے لاگت کا اندازہ ہے اس کام کے لیے ادھی ادھی رقم وفاق اور صوبہ دے رہا ہے یہ 1200 کیو سے پانی لے کر جاتی ہے اگر اس کی لائننگ مکمل ہو جائے تو 1700 کیوسک تک جا سکتا ہے یعنی اس فیڈر کی لائننگ سے 500 کیوسک پانی بچانے کا اندازہ ہے تو کراچی کے لیے 1200 کی بجائے 1700 کی اس سے پانی ہو سکتا ہے اسی طرح باقی دونوں نہروں کی پختگی سے مزید 700 کی اسے پانی مل سکتا ہے تو مجموعی طور پر مزید وارثوں کے اسے پانی ا سکتا ہے کراچی کے لیے 2400 کیوسک پانی کی ضرورت ہے جبکہ 1200 کیوسک پانی مل رہا ہے موجودہ ضرورت بھی اندھی پوری ہوتی ہے اس لیے کراچی میں پانی کی راشن بندی کرنی پڑتی ہے روزانہ تمام شہریوں کو تمام لوگوں تک پانی پہنچانا مشکل ہے دریائے سندھ میں پانی کم ہے سسٹم میں مزید پانی ا نہیں رہا اگر سندھ کے حصے کا پانی بڑھ جائے گا تو کراچی کا حصہ بھی بڑھ سکتا ہے لیکن عرصہ نے یہ سارا بندوبست کرنا ہوتا ہے اور اسے دیکھنا ہوتا ہے کہ سسٹم میں پانی ہے کتنا ؟ جب بارشیں زیادہ ہوں یا سیلاب کی صورتحال ہو تو پانی کافی ہوتا ہے بلکہ ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے لیکن جب خشک سالی ہوتی ہے بارشیں کم ہوتی ہیں تو پھر مسائل بڑھ جاتے ہیں پنجاب یا بالائی علاقوں کے لوگ سمجھتے ہیں کہ پانی دریا کے ذریعے سمندر میں پھینکا جا رہا ہے یعنی کہ ضائع کیا جا رہا ہے لیکن قدرتی عمل سے زیادہ واقفیت نہ رکھنے یا لاعلمی کی وجہ سے یہ باتیں سمجھی یا کہی جاتی ہیں دنیا بھر میں دریاؤں سے پانی سمندر میں گرانا ضروری ہے سمندر میں دریا اپنے ساتھ ریت سیلٹ مٹی لے کر جاتے ہیں اگر اس میں کمی اتی ہے تو سمندر ساحلوں کی زمین نگل لیتے ہیں جتنا پانی سمندر میں جا رہا ہے دریائے سندھ کے ذریعے وہ کم ہے اس سے زیادہ پانی جانا چاہیے ۔ یہ ایک لمبی بحث ہے اور اس میں ہر ایک کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہو سکتا ہے لیکن سمندر میں پانی بہرحال دریا کے ذریعے ہی جاتا ہے ۔
پانی سمندر تک جانے سے پہلے کتنا بہتر اور مفید طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے اس پر بحث ہو سکتی ہے ۔ کراچی کے لیے پانی کی ضروریات بڑھتی جا رہی ہیں کراچی میں پانی کا مسئلہ بہت بڑھ چکا ہے صوبائی حکومت وفاقی حکومت کی مدد سے کے فور پروجیکٹ کے ذریعے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن یہ پروجیکٹ غیر معمولی تاخیر کا شکار ہو چکا ہے اس کی لاگت بھی بڑھ چکی ہے اور اب اس کا انتظار کیا جا رہا ہے کہ کم مکمل ہوگا ۔اس دوران سسٹم میں پانی نہ بڑھنے کی صورت میں موجودہ نہروں کی پختگی کے منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے تاکہ اپنے حصے کے پانی کو زیادہ بہتر اور اسمارٹ طریقے سے روئے کار لایا جا سکے کچی نہروں کے پانی کو بچایا جا سکے اور بچے ہوئے پانی کو بہتر طریقے سے ابادی تک پہنچایا جا سکے