سندھ کے نامکمل منصوبے کب تک نامکمل ہی رہیں گے ؟ صوبائی حکومت اپنے حصے کی رقم دے کر بھی وفاق کی طرف دیکھنے پر مجبور کیوں ؟

سندھ کی شاہراہوں پر سفر کیا جائے تو شاباش دینی پڑتی ہے کہ صوبائی حکومت نے صوبائی نیٹ ورکنگ سڑکوں کو شاندار بنا دیا ہے لیکن سندھ کا المیہ یہ ہے کہ جتنی بھی وفاقی سڑکیں ہیں وہ سب کا منہ چڑاتی ہیں کراچی سے پشاور تک لوگ یہی پوچھتے ہیں کہ سندھ کے نامکمل منصوبے کب مکمل ہوں گے یا ایسے ہی نامکمل ہی رہیں گے اور ان پر صرف باتیں سننے کو ملیں گی ؟ صوبائی حکومت اس حوالے سے ہر فورم پر اور

بار بار صفائی دیتی ائی ہے کہ وہ تو اپنے حصے کی رقم بھی مختلف منصوبوں کے لیے مختص کر چکی اس کے باوجود تاخیر وفاق کی جانب سے ہوتی ہے وفاقی ادارے سندھ کے شاہراہوں کے منصوبوں میں نہ جانے کیوں تاخیر کرتے ہیں موٹروے کو دیکھ لیں یا جام شورو سیہون روڈ کا ذکر کیا جائے ہر طرف تاخیر ہی تاخیر نظر آتی ہے اور حادثات الگ ہیں جن میں قیمتی جانی نقصان ہوتا ہے بعض لوگ تو کہتے ہیں کہ جان بوجھ کر سندھ کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور این ایچ اے کے افسران جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں لیکن انہیں کیا فائدہ ہوتا ہے ؟
کسی بھی تعمیراتی منصوبے میں تاخیر ہونے سے اس کی تعمیراتی لاگت میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوتا ہے وقت ضائع ہونے سے جو منصوبہ سستا بن سکتا تھا وہ مہنگا ہو جاتا ہے سن سے گزرنے والی موٹروے پہلے جس ریٹ پر فی کلومیٹر بننی چاہیے تھی یا پتہ نہیں کتنے میں بنے گی ہر سال مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے دو یہ ریٹ خود بخود بڑھ جاتا ہے ۔
کراچی سے اسلام کوٹ چلے جائیں یا کراچی سے نواب شاہ سانگھڑ خیرپور یا لاڑکانہ سکھر شکارپور دادو جامشورو کے علاقوں میں سفر کریں تو جہاں جہاں صوبائی سڑکیں ہیں ان کا نیٹ ورک بہت اچھا ہے کافی محفوظ اور اچھی سڑکیں بن چکی ہیں لیکن جہاں جہاں وفاقی شاہراہیں گزر رہی ہیں وہاں حالت خراب ہے ۔
سندھ کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فارمولا اس حوالے سے بہت کامیاب رہا ہے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے جو سڑکیں بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے وہ بہت عمدہ رہا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا فارمولا دیگر محکموں اور شعبوں میں بھی اپلائی کیا گیا اور وہاں بھی کافی کامیابی سمیٹی گئی ہے

وفاقی وزرا نے سندھ حکومت کی طرز پر سندھ میں موٹروے کو بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے بنانے پر اصرار کیا حالانکہ وزیراعظم شہباز شریف نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ ممکن نہیں ہو سکے گا اور ایسا ہی ہوا فنڈز کا بندوبست نہیں ہو سکا اور مزید تاخیر ہوئی خواہ مخواہ وقت ضائع کیا گیا
===========


موجودہ حکومت میں سندھ کو وفاقی فنڈز میں اضافہ ہوا ہے، وزیراعلیٰ

پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ کے عوام کے مفاد کےلیے آگے بڑھ کر بات کرتی ہے۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ ان کے باقاعدہ احتجاج کے بعد ہی وفاقی حکومت نے اس سال سندھ کی ترقیاتی اسکیموں کےلیے 180 ارب روپے مختص کیے ہیں ورنہ تو پچھلے سال تک یہ رقم کم ہو کر پانچ چھ ارب روپے تک رہ گئی تھی تاہم انہوں نے فنڈز کے اجرا میں تاخیر پر تنقید کی اور مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
نامکمل منصوبوں پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ جامشورو سیہون روڈ 2017 میں شروع کیا گیا جس کےلیے آدھے فنڈزجو حکومت سندھ نے اپریل 2017 میں دے دیے تھے ، اس کے باوجود منصوبہ ابھی تک نامکمل ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے سمیت ادھورے منصوبے وفاقی فنڈنگ سے جلد مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی حیدرآباد موٹروے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر کیا گیا تاہم دوسرے صوبوں میں ایسے ہی منصوبے سی پیک کے ذریعے وفاقی فنڈنگ سے تعمیر کیے گئے۔ یہ امتیازی سلوک عمران خان حکومت کے دوران شروع ہوا۔
مراد علی شاہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا تھا کہ سکھر حیدرآباد موٹروے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر نہیں کیا جاسکتا جبکہ ان کے وزرا کا اصرار تھا کہ ایسا ممکن ہے لیکن فنڈز کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے منصوبہ ناکام ہوگیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ چینی فنڈنگ کو استعمال کرتے ہوئے وفاقی فنڈنگ سے سکھر حیدرآباد موٹروے کی تعمیر کریں کیونکہ یہ صرف سندھ کا منصوبہ نہیں ہے بلکہ یہ بندرگاہ سے پورے ملک کے کمرشل ٹریفک کےلیے ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور کے تاجروں نے بھی ان سے شکایت کی ہے کہ سکھر حیدرآباد موٹروے کیوں نہیں بنایا جا رہا۔
مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ حکومت سندھ کے پاس وسائل محدود ہیں اور مالی چیلنجز کی وجہ سے وہ بڑے منصوبے نہیں بنا سکتے۔ اس کے باوجود ٹھٹھہ کراچی دو رویہ وفاقی روڈ حکومت سندھ نے بنایا اور جامشورو سیہون روڈ کےلیے پچاس فیصد فنڈنگ مہیا کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے خوشگوار ماحول میں گورنر سندھ کو جواب دیا کہ کراچی میرا شہر ہے اور ان کی درخواست پر ہی وزیراعظم نے پانی کے منصوبوں کےلیے فنڈز دیے جن میں کے 4 منصوبے کےلیے 25 ارب روپے اور 40 ارب روپے کی لاگت والے کے بی فیڈر منصوبے کے لیے آدھی رقم وفاقی حکومت نے ادا کی۔
اس سے پہلے وزیراعلیٰ سندھ نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی سالگرہ کی مناسبت سے مزار قائد پر پھولوں کی چار چڑھائی، فاتحہ پڑھی اور مہمانوں کی کتاب میں تاثرات درج کیے۔

عبدالرشید چنا
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ