
سندھ بھر کو سولر کرنے کا سفر پاک بھارت سرحدی علاقے کھپرو ضلع سانگڑ کے دو دیہات سے شروع کیا گیا 7 لاکھ سولر ہوم سسٹم کہ پروجیکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے

سارا سال یہاں سورج خوب چمکتا ہے ہزاروں سال قدیم تہذیب اسی علاقے میں ملتی ہے ساری دنیا میں سے ان اپنی مخصوص پہچان رکھتا ہے حکومت سندھ نے صوبے بھر کو سولر کرنے کے پروجیکٹ پر کام تیزی سے شروع کر رکھا ہے سندھ بھر کو سولر کرنے کے سفر کا آغاز پاکستان اور بھارت کے سرحدی علاقے کھپرو ضلع سانگڑ کے دو دیہات کو سولر کرنے سے شروع کیا گیا دو گوٹھوں سے شروع ہونے والا یہ سفر اب سندھ کے کونے کونے تک پھیل رہا ہے ویسے تو لوگوں نے اپنے طور پر بھی سولر پروجیکٹ لگا لیے ہیں لیکن حکومت سندھ ان کو مفت سولر لگا کر دینے کے پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے گزشتہ دنوں سکھر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت نے 12 سال پہلے ہی سولر پر کام شروع کر دیا تھا

اور کھپرو ضلع سانگڑ کے دو گاؤں سولر کیے گئے تھے سندھ حکومت کا یہ ویژن ہے کہ سستی سولر بجلی بنا کر گرڈ کو دیں گے تاکہ پورے ملک کو یہ سستی بجلی ملے پیپلز پارٹی کے ویژن کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے کراچی میں دو اور جامشاروں میں ایک سولر پارک بنانے کا فیصلہ کیا یہاں سے سستی سولر بجلی بنے گی اور گرڈ کو مہیا کی جائے گی اور لوگوں کو مہنگی بجلی سے نجات ملے گی سندھ اپنی بجلی بنا رہا ہے اور سولر کے پروجیکٹ بہت کامیاب ہیں
وزیراعلی کے مطابق 2 لاکھ سولر ہوم سسٹمز اور غریبوں کو فراہم کر رہے ہیں اور مزید پانچ لاکھ سولر ہومز سسٹم کا پروجیکٹ شروع کرنے والے ہیں مفت سولر سسٹم مہیا کیا جائے گا یہ سن کر سندھ کے عوام بہت خوش ہیں خاص طور پر غریب طبقہ اس کا انتظار کر رہا ہے کیونکہ مہنگی بجلی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے اور بل ادا کرنا لوگوں کے بس کی بات نہیں رہی اب حکومت سولر پروجیکٹ سسٹم پر کام کر رہی ہے جب یہ لوگوں کے گھر گھر تک پہنچ جائیں گے تو لوگوں کو سہولت ملے گی

پہلے مرحلے میں حکومت نے سرکاری اداروں اور عمارتوں کو سولر کرنے پر کام کیا ہے اب ساتھ ساتھ لوگوں کے گھروں تک بھی پہنچا جائے گا
























