
عمران خان ریائی سے خوفزدہ۔
مذاکرات کے نتیجے میں رہائی قبول نہیں نواز شریف نہیں بنوں گا
مسلم لیگ کو احساس ہو چکا ہے کہ انہوں نے عمران کو لیڈر بنا دیا ہے
عمران خان جیل میں نہیں ہوتے تو دو تہائی اکثریت بھی نہیں ملتی
رہائی سے حکومت مضبوط اور پی ٹی ائی کمزور ہو جائے گی عمران خان
کراچی اسٹاف رپورٹر
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان مذاکرات کے نتیجے میں اپنی رہائی نہیں چاہتے ذرائع نے بتایا ہے کہ وہ کسی حد تک اپنی رہائی سے خوفزدہ بھی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر مذاکرات کے نتیجے میں ان کو ریا کیا گیا یا بنی گالاشفٹ کیا گیا تو وہ نواز شریف بن جائیں گے ذرائع نے بتایا ہے کہ 26 نومبر کو مذاکرات کے نتیجے میں عمران خان کو رہائی کی پیشکش کی گئی تھی جو کہ انہوں نے مسترد کر دی تھی انہی ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائی عمران خان کا مسئلہ نہیں ہے وہ جب چاہیں رہا ہو سکتے ہیں لیکن عمران خان کا یہ بھی خیال ہے کہ رہائی کے نتیجے میں پی ٹی ائی کی پوزیشن کمزور ہو جائے گی اور حکومت کی مشکلات ختم ہو جائیں گی اور وہ ڈرائیونگ سیٹ پر ا جائے گی سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب تک عمران خان جیل میں ہیں سسٹم اور حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بنے رہیں گے ہیں دوسری جانب اسلام اباد کے بعض سینیر صحافیوں نے بھی عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بنی گالہ شفٹ مت ہوں اگر بنی گالہ شفٹ ہوئے تو ان کی سیاست ختم ہو جائے گی سیاسی پنڈتوں کے مطابق اب حکومت کی سمجھ میں بھی اگیا ہے کہ عمران خان کو جیل میں رکھنے سے اس کی پوزیشن بہت زیادہ خراب ہو رہی ہے اور اس نے عمران خان کو جیل میں رکھ کر ناقابل تسخیر بنا دیا ہے انہی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان جیل سے الیکشن نہیں لڑتے تو پی ٹی ائی کو دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہوتی اتنا ہی مسلم لیگ نون سیاسی طور پر برباد ہوتی مسلم لیگ نون کے بعض رہنما تو صاف صاف کہتے ہیں کہ عمران خان کو کسی منصوبے کے تحت لیڈر بنایا جا رہا ہے اور شہباز شریف کیہوسس اقتدار نے مسلم لیگ نون کے تابوت میں اخری کیل ٹھونک دی ہے جس پر مسلم لیگ کے صدر نواز شریف بھی بہت ناراض ہیں نواز شریف نے اٹھ فروری کے الیکشن کے بعد حکومت لینے کی مخالفت کی تھی لیکن شہباز شریف اور مریم نواز نے نواز شریف کو ویٹو کر دیا
===================
سب کچھ لٹانے کے بعد ہوش میں ائے تو کیا کیا۔ کراچی اسٹاف رپورٹر
سب کچھ لٹانے کے بعد تحریک انصاف کو سیاسی اتحاد بنانے کا خیال ا گیا اور اس مقصد کے لیے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اختر مینگل اور محمود خان اچکزئی کی عمران خان سے ملاقات کرانے کے انتظامات کیے جا رہی ہیں سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹھ فروری کے انتخابات کے بعد تحریک انصاف کو مختلف سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر تحریک چلانے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن عمران خان نے یہ مشورہ نہیں مانا حالانکہ اس وقت جماعت اسلامی سمیت مختلف جماعتیں تحریک انصاف کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے کے لیے تیار تھیں اگر عمران خان اس وقت تحریک چلانے پر رضامند ہو جاتے تو اب تک حکومت گر چکی ہوتی























