
اسلام آباد: 27 دسمبر 2024
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا.
*وفاقی کابینہ ریونیو ڈویژن کی سفارش پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2024 میں بینکنگ کمپنیز کے حوالے سے ترامیم کی منظوری دے دی-
*وفاقی کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر سوسائیٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 میں ترامیم کی منظوری دے دی۔
*وفاقی کابینہ نے وزارت موسمیاتی تبدیلی و موسمیاتی کوارڈینیشن کی سفارش پر کاربن مارکیٹ میں تجارت کے حوالے سے پالیسی گائیڈ لائینز کی منظوری دے دی۔
*وفاقی کابینہ نے معزز پشاور ہائی کورٹ کے احکامات اور وفاقی وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر صوبہء خیبر پختونخوا کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو انشورنس ٹریبیونل کا اضافی کے اختیارات تفویض کرنے کی منظوری دے دی۔
=======================
اسلام آباد: دسمبر 27، 2024۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں انسانی سمگلنگ کے سد باب کے حوالے سے جائزہ اجلاس
اجلاس میں دسمبر 2024 میں یونان کے قریب تارکین وطن کی کشتی کو پیش آنے والے حادثے کے پیش نظر مشتاق سکھیرا کی سربراہی میں تشکیل کی گئی کمیٹی کی رپورٹ پیش
وزیراعظم کا جامع رپورٹ مرتب کرنے پر مشتاق سکھیرا کا شکریہ
ایک ہفتے کے اندر انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث تمام افراد کو حراست میں لیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، وزیراعظم کی ہدایت
وزیراعظم کی انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف استغاثہ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت
انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے سہولت کار سرکاری افسران کے خلاف اب تک تادیبی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ وزیراعظم کا استفسار
بیرون ملک جانے والے تمام افراد کے لیے ویزا کی جانچ پڑتال اور دیگر قواعد و ضوابط کو مؤثر بنایا جائے، وزیراعظم
حکومت پاکستان ملک سے انسانی سمگلنگ کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے، وزیراعظم
وزیراعظم کی وزیر داخلہ کی سربراہی میں انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت
اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں انسانی سمگلنگ کے خلاف لیے گئے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی
اجلاس میں دسمبر 2024 کو یونان کے قریب تارکین وطن کی کشتی کو پیش آنے والے حادثے میں پاکستانیوں کی شناخت اور ان کے جسد خاکی کی وطن واپسی کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے























