
تحریر:سہیل دانش
یہ 27 دسمبر 2007 کی شام ہے۔ دنیا بھر کے نشریاتی اداروں کی اسکرینوں پر یہ خبر چلنے شروع ہوگئی “بے نظیر اب اِس دنیا میں نہیں رہیں”۔ موبائل بج رہے ہیں۔ دِل کی دھڑکیں جیسے رُک سی گئی ہیں۔ ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے آس پاس سب کچھ ٹوٹ رہا ہے بکھررہا ہے زبانیں گنگ ہورہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے سب کو چُپ سی لگ گئی ہے اُداسی بال کھولے پھیلتی ہی جارہی ہے امن و امان کی کرچیاں اور جمہوریت کا شیشہ ریزہ ریزہ ہوکر بکھررہا ہے۔ بھونچال سا آگیا ہے صاف نظر آرہا ہے شدت پسندی، انتہا گیری دہشت گردی ہر شے پر حاوی ہوچکی ہے۔ وہ بے نظیر بھی اب اِس دنیا میں نہیں رہیں جب وہ اپنے نامور والد کا تذکرہ کرتیں تو اُن کے چہرے پر افسردگی چھاجاتی۔ ذوالفقار علی بھٹو جو قوم کے ہر دلعزیز ممتاز لیڈر تھے جن کے نقوش پا ملک کے مختلف حصوں میں آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں اِن کی خدمات ملک کے چپے چپے پر منہ بولتی تصویروں کی طرح موجود ہیں۔ بے نظیر نے کیا کچھ نہیں دیکھا جدوجہد جیلیں نظربندیاں، موت کی کوٹھڑی میں ملاقاتیں، پارٹی رہنماؤں کی بے وفائیاں۔ غم تھے کہ اُن کا پیچھا کرتے رہے ایک بہن پر اُس وقت کیا گزری ہوگی جو پہلے ہی اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہوچکی تھیں اُن کے دونوں بھائی بھی گڑھی خدا بخش میں غیر طبعی موت کے بعد مٹی کی چادر اوڑھ کر ابدی نیند سوگئے۔ کتنی یادیں کتنی باتیں ہیں۔ کئی ضخیم کتابیں تحریر کی جاسکتی ہیں “پاکستان میرا وطن ہے، میری دھرتی ہے کسی لمحے خوشی بھی ہے اور کبھی غم بھی”۔ نہ جانے کتنی بار اُن سے بات کرنے کا موقع ملا۔ گفتگو میں ہمیشہ انکشافات ہوتے حقائق ہوتے۔ خود ہی بے شمار سلگتے سوالات کرتیں پھر منطق اور استدلال سے ہر سوال کا ہر سرا تلاش کرکے جواب دیتیں، بھرپور اعتماد کے ساتھ پورے یقین کے ساتھ ہر بات میں ذہانت اور بصیرت کی جھلک ہوتی۔ ایک عہد رخصت ہوچکا ہے۔ ایک باب بند ہوچکا ہے۔ جدوجہد کبھی نہیں رُکتی، خوش درخشیدو لے شعلہ مستجل لاو۔ بھٹو صاحب بھی جلدی میں تھے 1927 میں آئے اور 1979 میں چلے گئے۔ بے نظیر بھی جلدی میں تھیں 1952 میں آئیں 2007 میں چلی گئیں، کسی سانس آرام نہیں، کسی پل چین نہیں، پاکستان ایک انتہائی مشکل ملک ہے اسکی حکمرانی خطرات سے بھرپور ہے۔ موت اور ناکامیابی انتظار میں رہتی ہیں جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا۔ وہ شان سلامت رہتی ہے۔ بے نظیر کو اپنی ساری جوانی جمہوریت کی نذر کرنی پڑی، غم کے کتنے جنگلات دیکھے، دُکھ کے کتنے صحراؤں سے گزرنا پڑا، خون کے کتنے دریا عبور کرنے پڑے۔ لیکن اُن کی جمہوریت پسندی، روشن خیالی، حقیقت شعاری، اعتدال گزاری، کہیں تیزی و تندہی میں تبدیل نہیں ہوتی۔ مغرب و مشرق میں مقبول مستقبل کی اُمید محترمہ بے نظیر بھٹو پلک جھپکتے میں شہید کردی گئیں، چند لمحے پہلے وہ ایک انتہائی کامیاب جلسے سے خطاب کرکے سننے والوں کو دِل کی گہرائیوں تک قائل کرکے بہت خوش، بہت مطمئن ایک ملکوتی مسکراہٹ کے ساتھ اسٹیج سے اُتر کر گاڑی کی طرف جارہی تھیں اور چند لمحوں بعد قائداعظم کے پاکستان میں سانسیں رُک گئیں نبضیں تھم گئیں، پشاور سے کراچی تک ایک سکتہ چھاگیا۔ ایک صدمہ تھا، پھر یہ غم لاوا بن کر اُبل پڑا، جو بھی زد میں آیا راکھ ہوگیا۔ دختر مشرق قبر میں گزرنے والی پہلی رات سے پانچ روز پہلے گڑھی خدابخش کے قبرستان میں آئی تھیں وہ منتظمین سے کہہ رہی تھیں “خواتین کی قبروں پر نام نہیں لکھے جانے کیسے پتہ چلے گا کہ کس قبر میں کون سورہا ہے کل جب میں دفن ہوں گی کیسے علم ہوگا بے نظیر کہاں ہے۔ آج پورا جہاں جانتا ہے کہ پاکستانی عوام کی اُمید بن جانے والی بے نظیر کس لحد میں آرامیدہ ہے۔
Load/Hide Comments























