
یہ کوئی معمولی بات نہیں ، پاکستان کی تاریخ میں پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا ، پہلی مرتبہ ڈبلیو ایس ایس سیکٹر جسے واٹر سپلائی اینڈ سینیٹیشن سیکٹر کہا جاتا ہے اس کے لیے ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی رقم منظور کی گئی ہے یہ ورلڈ بینک کا بہت بڑا پروجیکٹ ہے جو کراچی میں پانی کی فراہمی اور نکاسی کے منصوبوں کی شکل بدل کر رکھ دے گا اس رقم کی منظوری کے بعد بہت سی اسٹرکچرل ریفارمز کی ضرورت محسوس کی گئی اور اس پر مرحلہ وار کام شروع کیا گیا ۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو کارپوریٹ کلچر میں ڈھالنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی اور اب اپ کو وہاں پر سی ای او سی ای او او اور سی ایف او جیسے عہدے بھی نظر اتے ہیں اور بورڈ بھی کام کر رہا ہے اس طرح کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں سی لیول کو متعارف کرایا گیا اور یہ کام بڑی کامیابی سے اور تیزی سے کیا گیا کارپوریٹ لیول پر انے کے بعد ہی ان اصلاحات کی روشنی میں مزید سرمایہ کاری ہونی ہے عالمی بینک جو رقم فراہم کر رہا ہے وہ ایک قرضہ ہے جو کراچی کے لوگوں نے ہی واپس کرنا ہے لیکن یہ رقم نہ ملتی تو پھر اتنے بڑے منصوبے کی جانب قدم نہیں بڑھایا جا سکتا تھا کراچی کا انفراسٹرکچر کافی قدیم ہو چکا ابادی نہ صرف بڑھ چکی بلکہ انفراسٹرکچر پر سنگل اسٹوری سٹرکچر کی بجائے ملٹی سٹوری اسٹرکچر کا بوجھ پڑ چکا جو علاقے گراؤنڈ پلس ون بینگلوز کے لیے مختص ہوئے تھے وہاں بھی بینگلوز ٹوٹ کر کمرشل پلازے بن چکے ہر ہر علاقے میں ہائی رائز بلڈنگز بن رہی ہیں پانی کی فراہمی اور نکاسی کے نظام کو بہتر بنانا بڑا چیلنج ہے پرانا سسٹم یقینی طور پر بوسیدہ ہو چکا ہے اس کی جگہ نئے سسٹم کی ضرورت ہے زیادہ پانی

کی فراہمی اور زیادہ پانی کی نکاسی کے لیے بڑے پائپ درکار ہیں کہ سارے سسٹم کو موجودہ اور انے والے وقت کی ضروریات کے مطابق بنانا بڑا چیلنج ہے اس کے لیے بہت زیادہ رقم درکار تھی اور یہ رقم کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے اپنے وسائل کے تحت ممکن نہیں تھی نہ حکومت سندھ کے پاس اتنا پیسہ تھا لہذا ورلڈ بینک کے پاس جو منصوبہ پیش کیا گیا اور وہاں سے بڑا قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی اور ورلڈ بینک کی ہدایات کی روشنی میں پہلے اصلاحات نافذ کرنے کا پلان بنایا گیا اور اسلحاتی ایجنڈے کو اگے بڑھاتے ہوئے مزید مرحلہ وار رقم خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی اس پر کام جاری ہے مختلف مراخل میں 2032 تک کام مکمل ہونے ہیں اور باقی رقم خرچ کی جانی ہے اس پر کام تیزی سے جاری ہے ۔

اس منصوبے کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مختلف ملکوں کے بڑے بڑے سفارت کار اور انٹرنیشنل بینکوں کی بڑی بڑی شخصیات اب اس منصوبے کے پروجیکٹ افس کا دورہ کرتی ہیں پہلے کبھی ان اداروں اور ان سفارت کاروں نے واٹر بورڈ کے دفاتر کا اس تواتر سے رخ نہیں کیا تھا اب ان کو یہاں پر بہت بڑا پوٹینشل نظر ا رہا ہے اور وہ اس منصوبے کے بارے میں زیادہ اگاہی چاہتے ہیں اور اس میں ہونے والی پیش رفت سے باخبر رہنا چاہتے ہیں اور مختلف تجاویز بھی سامنے ارہی ہیں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ واٹر سیکٹر میں کتنا پوٹینشل ہے اور اس میں غیر ملکی زبانت کر رہا ہوں اور بینکوں کی کتنی دلچسپی ہے ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی رقم کسی منصوبے میں ا رہی ہو تو اس کی اہمیت خود بخود بڑھ جاتی ہے اور اس میں مقامی اور غیر ملکی شخصیات کی دلچسپی بھی ایک قدرتی امر ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس منصوبے کی افادیت سے لوگوں کو اگاہی دی جائے اور ان کو بتایا جائے اور اس معاملے کو شفاف رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں لوگوں کا اعتماد جیتنا زیادہ ضروری ہے کیونکہ سارے کام ان کے لیے ہو رہے ہیں انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ان کے لیے حکومت کیا کچھ سوچ رہی ہے کہ اپ کچھ کر رہی ہے انہیں کیا فائدہ ہوگا























