صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ کی سین پیٹرک چرچ، کرسمس میلے میں شرکت

بشپ آف لاہور ندیم کامران اور دیگر مختلف مذہبی رہنماؤں کی بھی شرکت

ملک پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں

لاہور، 27 دسمبر:صوبائی وزیر اقلیتی امور، رمیش سنگھ اَروڑہ نے بشپ آف لاہور ندیم کامران کے ہمراہ ضلع قصور کے نواحی گاؤں کلارک آباد میں واقع سین پیٹرک چرچ میں منعقدہ سالانہ مسیحی کرسمس میلے میں شرکت کی۔ صوبائی وزیر کے کلارک آباد پہنچنے پر فقید المثال استقبال کیا گیا، مسیحی کمیونٹی نے پھول نچھاور کیے اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کا مظاہرہ کیا گیا۔ صوبائی وزیر نے میلے کا باقاعدہ آغاز کیا جبکہ میلے میں مختلف ثقافتی پروگرامز اور کھیلوں کی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ کبڈی کے شاندار مقابلے بھی اس میلے کا حصہ تھے، جنہوں نے شرکاء کی بھرپور توجہ حاصل کی اور اس کھیل کے روایتی جوش و جذبے کو اجاگر کیا۔
صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اَروڑہ نے کرسمس میلے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “پنجاب حکومت اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ کرسمس جیسے مذہبی تہواروں کی اہمیت صرف ایک دن تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے درمیان محبت، بھائی چارے اور ہم آہنگی کے پیغام کو پھیلانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اقلیتی کمیونٹی کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں جن میں خصوصی گرانٹس کی تقسیم ، اقلیتی اسکالرشپ پروگرام اور تعلیمی مواقع فراہم کرنا شامل ہیں جبکہ جنوری میں پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مینارٹیز کارڈ کا اجراء کرنے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتی کمیونٹیز کے حقوق کا تحفظ ہر شہری کا فرض ہے اور ہم سب کو ایک ساتھ مل کر معاشرتی ہم آہنگی کی کوششوں کو تقویت دینی چاہیے۔
بشپ آف لاہور ندیم کامران نے اپنے خطاب میں کہا کہ “کرسمس ہمیں انسانیت کی خدمت اور محبت کا پیغام دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے تمام انسان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ “مسیحی کمیونٹی اپنے حقوق کے تحفظ اور فلاح کے لیے حکومت پنجاب کے اقدامات کی قدر کرتی ہے اور ہم اس بات کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ پنجاب حکومت نے ہمیشہ ہماری مدد کی ہے۔
بیشپ نے تمام مسیحی برادری کے لیے خوشی اور سکون کی دعا کی اور دعا کی کہ یہ کرسمس ہمیں امن، محبت اور یکجہتی کا پیغام دے۔ اس موقع پر مختلف مکاتب فکر کے مذہبی رہنماؤں اور مسیحی کمیونٹی کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔