
……………………………………………..
جبار مرزا ملک کے معروف لکھاری, سینئر صحافی, قلم کار ,کالم نگار اور دو درجن سے زائد اخبارات کے ایڈیٹر رہے ہیں – ان کی کتاب”مزاح نگاری کے کمانڈر ان چیف سید ضمیر جعفری “پر جب ہم نے کالم لکھا تو موبائل پر ان سے گھنٹہ بھر بات ہوئی, یوں لگا کہ ان سے برسوں کی شناسائی ہے -گفتگو میں علم وادب کے نئے گوشے واں ہوئے -ان کی گفتگو کے مختلف اشارے بتا گئے کہ یہ معمولی آدمی نہیں -گزشتہ سے پیوستہ ہفتے اپنے مہربان ومشفق پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی دعوت پر شاہینوں کے شہر سرگودھا میں “ختم نبوت کنونشن “میں ماہر تعلیم برادرم اکرام اللہ سلیمی کی معیت میں حاضری ہوئی – سٹیج پر جونہی راقم کو بٹھایا گیا, آنکھوں کے بالکل سامنےجناب جبار مرزا کا نظارہ ہوا- انھوں نے زیر لب مسکراہٹ اورنیم واں آنکھوں سے جب ہم کو پہچانا تو انکی آنکھوں کی چمک سے ماتھا ٹھنکا -محسوس ہوا ,یہ کوئی معمولی شخص نہیں ہے -وہ بہت سے رازوں کے امین اور گہرے آدمی محسوس ہوئے -َ محقق ودانش ور ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی وسیع اکادمی میں جناب جبار مرزا سے ہماری پہلی ملاقات ہوئی, یہی ملاقات ہمیں ان کا اسیر کر گئی -ایک طرف کتابوں کا حیرت کدہ اور تبسم صاحب کے میڈلز, شیلڈ اور تمغوں کی بھر مار, دوسری طرف جبار مرزا کی ساحرانہ شخصیت, ہم تو اسیر ہوکر رہ گئے – آپ نے اپنی یادوں سے معمور اور انکشافات سے بھر پور کتاب “صحافتی یادیں ” اور قبلہ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے اپنی درجن بھر کتب راقم کو عنایت کیں – واپسی پر بھیرہ انٹر چنیج تک گاڑی میں جبار مرزا صاحب کے ساتھ سفر ہوا- درجن بھر موضوعات پر آپ سے گفتگو بھی اک داستان علم وحکمت ہے -اس دوران علمی و تاریخی حوالے سے وہ انکشافات سامنے آئے کہ ہمیں اپنی کم علمی کا کئی بار احساس ہوا -“صحافتی یادیں “یادوں کے علاوہ قاری کے لئے انکشافات کی بھر مار بھی ہے -اس کے ساتھ ساتھ اس کتاب میں کچھ تاریخی واقعات کی درستگی کی طرف اشارات بھی ملتے ہے – یہ کتاب ہمیں ایسے شخص کا پتا دیتی ہے جو اپنے ہم مزاج سے ربط رکھتے ہیں -خوشنود علی خان نے کڑے وقت میں اپنے اخبار روزنامہ “صحافت “کے لئے انھیں بطور ایڈیٹر پیشکش کی -اسی طرح ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے برے وقت میں انھیں ودود قریشی کے ساتھ بہترین تنخواہ پر ایڈ جسٹ کرنا چاہا لیکن ہم مزاج نہ ہونے پر انھوں نے معذرت کر لی -وہ برے اور کڑے حالات میں ثابت قدم رہے- تین ہزار ہاکروں نے جب ان کے خلاف جلوس کی ٹھانی تو نہ ان کے قدم ڈگمگائے اور نہ ہی وہ اصولوں پر جھکے, بلکہ انھوں نے ٹکا خان کو ایسے لاجواب مشورے دیئے جن کو پڑھ کر قاری ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجاتا ہے -“صحافتی یادیں “ہمیں ایسے شخص سے ملواتی ہے جس نے اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا -مجید نظامی, میر جاوید رحمان, عارف نظامی, مجیب الرحمن شامی, غلام اکبر اور ضیاء شاھد ایسے کہنہ مشق صحافیوں کی موجودگی میں انھوں نے جو حق جانا اس پر ڈٹ گئے -کوئی عہدہ اور لالچ ان کو اصولوں سے ہٹا نہ سکا-

صحافتی تاریخ میں شورش کی کتاب “اس بازار میں “انکشافات سے بھر پور ہے جبار مرزا نے “صحافتی یادیں “کتاب میں” اس بازار “کو اک نئے اور اچھوتے رنگ میں پیش کیا ہے- جہاں اس حمام میں ایک طرف بہت سے معتبر ننگے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف مذہب سے لگاؤ رکھنے والوں کی بے بسی سے بھی آگاہی ملتی ہے -اس کے علاوہ مرزا صاحب نے” صحافتی یادیں “میں اس بزنس سے متعلق افراد کے ایسے گھناؤنے ہتھکنڈوں سے بھی پردہ اٹھایا جاتا ہے جس سے عام قاری آگاہی نہیں رکھتا -کتاب میں” اللہ پاک نے نبی پاک سے کیا وعدہ پورا کرادیا! “ایک اہم باب ہے جس میں عاشق صادق کے در محبوب تک رسائی کے انوکھے لیکن رسیلے واقعات ہیں -جو حب نبی کے ساتھ ساتھ اللہ پر یقین کامل کا پتا بھی دیتے ہیں -کتاب میں بہت سی ایسی باتوں کی نفی ہوتی ہے جو عوام کے ساتھ خواص میں بھی زبان زد عام ہے -مثلا یہ کہ ضیاءالحق اور امام خمینی میں عداوت تھی, لیکن مرزا صاحب کے مطابق ان میں محبت کا رشتہ تھا-ان کے مطابق اسلم بیگ اور راحیل شریف حکومتی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے تھے -کتاب میں اسامہ بن لادن کے حوالے سے اہم معلومات کے ساتھ ساتھ کرتار پور راہ داری کے بارے میں صاحب کتاب الگ سے صائب رائے رکھتے ہیں -“صحافتی یادیں ” میں جبار مرزا نے کمال کے انکشافات کئے ہیں-جیسا کے بہت سے نام نہاد بڑے لوگوں کے بارے میں ہمیں پتا چلتا ہے کہ یہ کتنے چھوٹے اورکم ظرف لوگ تھے -ان میں سے کئی ایک وہ ہیں جن کے بت بنا کر آج تک ہم پوجتے آئے ہیں -لیکن جبار مرزا نے بت شکن بن کر ان کی شخصیت کو یوں واضح کیا کہ یہ بت ریزہ ریزہ نظر آئے بہرحال مجھ سمیت کسی میں وہ جرآت نہیں جو صاحب کتاب نے دکھائی ہے – اس فقرے نے ہم سب کو ڈرا ہی دیا ہے کہ
“دنیا میں یا ہمارے گرد وپیش جہاں کہیں پاکستان کے فیصلے ہوتے ہیں وہاں یہ فیصلہ ہوچکا کہ…… ڈاکٹر عبدالقدیر خان بیڈ روم میں سسک سسک کے مر جائے گا….. اور جبار مرزا وطن کی گلیوں میں رل کے مرجائے گا “-“صحافتی یادیں “بہت سے معروف افراد کی بے حسی کا نوحہ بھی ہے جنھوں نے شرافت کے لبادے میں اپنے غلیظ باطن کو چھپایا ہوا ہے -پروفیسر احسان اکبر, اثر چوہان, طاہرالقادری, ایس ایم ظفر, ایسے معروف لوگوں کو جبار مرزا نے قریب سے دیکھا انھوں نے جو مشاہدہ کیا اس کو قلم قرطاس کی زینت بنا کر تاریخ میں اہم اضافہ کیا -جبار مرزا نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان, سردار عبدالقیوم, عبدالقادر حسن اور گلوکارہ عابدہ پروین کے حوالے سے بھی بہت سی پتے کی باتیں کتاب مزکورہ میں کی ہے جس سے اس کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے -جبار مرزا نے اپنا ایک کالم”فرض یا قرض”بھی اس کتاب میں شامل کیا ہے جو اس قلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے فرد کی خاندانی وجاہت اور وضع داری کا پتا دیتا ہے -“صحافتی یادیں “ذاتی یادوں پر بھی مشتمل ہے -جو فاضل مصنف کی زندگی کے بہت گوشے بھی بے نقاب کرتی ہے -مثلا یہ کہ ان کی زندگی میں سانپوں کا عمل دخل رہا ہے, وہ بہت سے روحانی تجربات سے دور چار ہوئے, بہت سے پامسٹ کو انھوں نے لاجواب کیا, الطاف حسن قریشی اور صادق ملک کے حوالے سے جو کچھ مرزا صاحب نے لکھا وہ بھی چشم کشا ہے -معروف صحافی محمود شام کی کتاب “شام بخیر “کے تناظر میں انھوں نے بہت سی اہم باتیں لکھیں جن میں سے ایک یہ کہ مشرقی پاکستان میں ہماری 90ہزار فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کی بات درست نہیں -یہ نوے ہزار قیدی تھے فوجی نہیں -جن میں بچے, بوڑھے, کلرک, شہری, نرسیں, ڈاکٹر اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے احباب بھی تھے -ان کے مطابق لڑاکا فوجی محض 36 ہزار تھے جن کے مقابلے میں بھارت کے ساڑھے پانچ لاگھ فوجی تھے -کتاب “صحافتی یادیں” میں فاضل مصنف کی ابتدائی تعلیمی زندگی کے علاوہ بہت سے دل چسپ واقعات بھی ہیں جیسے “اوکاڑہ کا مولوی ہاتھ ملتا رہا “افضل شیرازی سے مقصود جعفری تک ” “بھارہ کہو کا مولوی ” الحمراء فیسٹیول ” “مسرت شاہین اور راول پنڈی کی ٹانگہ یونین ” “قلمی اور علمی معرکہ:ڈاکٹر عبدالقدیر خان بنام عطاءالحق قاسمی حاضر ہو!! ” “مرکز کی کچہریاں, چھاپے اور دربار “ایسے عنوانات پڑھ کر قاری قہقہے لگانے پر مجبور ہوجاتا ہے-بہرحال جبار مرزا کی یہ کتاب تاریخ اور صحافت کے طالب علم اور محقق کے لئے راہ نما کا کردار ادا کرسکتی ہے -کتاب کا ٹائیٹل اور کاغذ بھی دیکھنے سے متعلق ہے -خوب صورت گیٹ اپ اور 360 صفحات پر مبنی یہ کتاب ناشر علامہ عبدالستار عاصم کی کتاب دوستی کا منہ بولتا ثبوٹ ہے -اس خوب صورت یادوں, یاداشتوں اور سنسی خیز انکشافات پر مبنی کتاب کی اشاعت پر میں قلم فاؤنڈیشن انٹر نیشل کے تمام متعلقین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں























