پاک فرینڈز آسٹریا کی جانب سے کشمیر بلیک ڈے کے سلسلہ میں سیمینار کا انعقاد…

رپورٹ محمد عامر صدیق ویانا اسٹریا۔۔۔۔

پاک فرینڈز آسٹریا کی جانب سے کشمیر بلیک ڈے کے سلسلہ میں سیمینار کا انعقاد تاریخ 28 اکتوبر بروز ھفتہ بوقت۔ 17:30 VHS) Volks Hochschule میں انعقاد پذیر ہوا۔ جس میں قائم مقام سفیرِ پاکستان عدیل خان آفریدی مہمان خصوصی تھے اور خصوصی طور پر انٹرنیشنل کمیونٹی کے مہمانوں جن میں ڈاکٹر ایمان مراد،پروفیسر عزت ایواڈ، ڈاکٹر انجینیئر محمد علی المغربی، ماگ سنجی زان یلدرم،سابق ایمبیسیڈر حیات مہندی،انجلیکا خواجہ، پاک فرینڈ آسٹریا کے صدر غلام مصطفی بلوچ، کشمیر افیئر کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر شوکت عوان،پاک فرینڈ آسٹریا کے ممبران ،عہدیدار اور پاکستانی و کشمیری کمیونٹی نے بھرپور شرکت کی۔ پروگرام اغاز قران مجید کی تلاوت سے کیا گیا جس کی سعادت قاری شبیر نے حاصل کی اور نعت شریف رانا ادریس نے پڑھی۔اسٹیج سیکرٹری کے فرائض علامہ غلام مصطفی بلوچ نے انجام دیے۔مقررین نے جرمنی زبان انگلش زبان اور اردو زبان میں اپنے خطابات کیے مقررین نے اس موقع پر مسلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی. انہوں نے معصوم اور بے گناہ افراد پر ہونے والے والے خوفناک بھارتی ظلم و ستم کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا – مقررین نے کہا کہ کشمیر بلیک ڈے کو ہر سال 27 اکتوبر کو مقبوضہ جموں کشمیر کے لوگوں کی جانب سے اس وجہ سے منایا جاتا ہے، کہ پوری دنیا کو یاد کروایا جائے کہ27 اکتوبر 1948 کو بھارت کی جانب سے جموں کشمیر پر جبری تسلط کیا گیا تھا. اس جبری تسلط کے دوران معصوم کشمیریوں کا قتل عام کیا گیا، انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی گئی اور عورتوں اور بچوں کو بھی ریاستی جبر کا نشانہ بنایا گیا. بھارتی فوج کی جانب سے 1989 سے لے کر اب تک تقریبا ایک لاکھ بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا گیا، جبکہ 8000 افراد کو حراست میں رکھا. 11000 کشمیری خواتین کی بھارتی فوج کی جانب سے بے حرمتی کی گئی. بھارتی فوج کی بربریت سے ہزاروں کشمیری بچے بھی زخمی ہوے، تقریبا 50000 سے زائد افراد جن میں مرد، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں بھارتی فوج نے پلیٹ گن کا استعمال کیا جس کی زد میں آ کر کئی افراد ایک آنکھ جبکہ کئی افراد اپنی دونوں آنکھوں سے محروم ہو گئے. بھارت کی جانب سے کیے جانے والے اس جبر کا مقصد مقبوضہ جموں کشمیر کے لوگوں کی آواز کو دبانا ہے، جو کہ ان کا بنیادی حق ہے. بھارت عالمی برادری کی توجہ اس مسلہ سے ہٹانے کے لیے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتا ہے جس سے بین اقوامی کمیونٹی کی توجہ اس اہم مسلہ سے ہٹائی جا سکے. پاکستان بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں کشمیر میں کی جانی والی ریاستی بربریت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے، اور کشمیریوں کی آواز کو اقوام متحدہ سمیت ہر بین اقوامی فورم پر اٹھاتا ہے. مزید مقررین کا کہنا تھا۔ کہا کہ27 اکتوبر 1948 کو بھارت نے کشمیر جارحیت کرکے ناجائز قبضہ کیا تھا جس کے بعد آج تک کشمیریوں پر مظالم اور ناجائز قبضہ جاری ہے بھارت نے کشمیر کو ایک فوجی چھاونی بنا دیا ہے اور کشمیر کو خون آلود کردیا ہے لیکن اس کے باوجود کشمیر کا دل نہیں جیت سکے ہیں کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں کیونکہ پاکستانیوں اور کشمیریوں کا دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے آج کا دن بلیک ڈے کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہے اور رہے گے اور کشمیریوں کی آزادی تک کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا اور کندھے سے کندھا ملا کر کشمیریوں کی آزادی تک آواز بلند کریں گے۔اج کے دن پاکستانی عوام اس عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور ان کی خواہشات کے مطابق ان کے حق خودارادیت کے حصول تک کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ 05 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کو ان کی منصفانہ جدوجہد آزادی سے نہیں روک سکتے۔ انہوں نے عالمی برادری سے جموں و کشمیر کے تنازعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پرامن حل کرنے پر زور دیا تقریب کا اختتام علامہ غلام مصطفی بلوچ کی دعا کشمیری و فلسطینی شہداء کے لیے خصوصی دعائیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق تنازعہ کشمیر کے جلد حل کے لیے ہوا۔اور انہوں نے تمام لوگوں کا پاک فرینڈز آسٹریا کی جانب سے کشمیر بلیک ڈے کے سلسلہ میں سیمینار پر انے کا شکریہ ادا کیا۔
=========================================

https://www.youtube.com/watch?v=ak0DHASC