حکومت میں آنے سے پہلے سب کہتے ہیں کہ وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کریں گے لیکن جب ایسا کرنے کا موقع ملتا ہے تو لوگ بھول جاتے ہیں ۔ اس تصویر میں دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے وی آئی پی صوفے کو چھوڑنے کے لیے کوئی تیار نہیں اور ہر صورت میں پہلی قطار میں ہی بیٹھنا لازم ہے چاہے تنگ ہو کر بیٹھنا پڑے ۔ ان میں وزیر بھی ہے اور صحافی بھی ۔ کوئی بھی چاہے تو پیچھے جا کر عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے کسی کی شان میں کمی نہیں ہوگی عام لوگوں کے ساتھ بیٹھنے سے کوئی چھوٹا نہیں ہوتا لیکن یہ سوچ کا فرق ہے ۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی راولپنڈی میں نئی بسوں کے دوسرے فیس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر لی گئی یہ تصویر وی ائی پی مائنڈ سیٹ کی منہ بولتی تصویر ہے ۔ ان میں سے کسی بھی مرد کو خود اٹھ کر پیچھے چلے جانا چاہیے تھا یا خود خاتون کو یہاں بیٹھنے کے بجائے پیچھے جا کر کسی عام نشست پر بیٹھ جانا چاہیے تھا اس حصے میں اپ کی کیا رائے ہے کمنٹس میں بتا سکتے ہیں
Load/Hide Comments























