پاکستان کا آئین مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کی مکمل ضمانت دیتا ہے، آصف زرداری

پاکستان کا آئین مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کی مکمل ضمانت دیتا ہے، آصف زرداری

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یوم برداشت پر قوم کو اتحاد اور ہم آہنگی کا پیغام دیا اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان رواداری، امن اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

وزیراعظم اورشاہ عبداللہ دوم کی تاریخی ملاقات، دونوں ممالک کے درمیان کئی مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط

انہوں نے کہا کہ اسلام انسانیت، شفقت اور عدل کا درس دیتا ہے، حکومت سماجی و مذہبی استحصال کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔ صدر نے کہا کہ ہر شہری کیلئے مساوی حقوق بانی پاکستان قائداعظمؒ کا ویژن ہے۔

صدر آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان کا آئین مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کی مکمل ضمانت دیتا ہے، مسلم شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہماری ترجیح ہے، ان کا کہنا تھا کہ بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی پر بھرپور عملدرآمد جاری ہے۔

نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس بل 2025 اہم پیشرفت ہے،انہوں نے کہا کہ اقلیتی حقوق کے تحفظ کیلئے پارلیمانی منارٹیز کاکس کا قیام خوش آئند ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی، روس نے ثالثی کی پیشکش کر دی

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ نوجوان تعصب اور نفرت کے خلاف کھڑے ہوں، محبت، برداشت اور وحدت کے پیغام کو عام کریں، صدر نے کہا کہ پاکستان کو رواداری اور سماجی ہم آہنگی کی علامت بنائیں گے

=======================

پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کیخلاف آرٹیکل کو کردارکشی قرار دیتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی سے متعلق برطانوی جریدے دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والے آرٹیکل کو بے بنیاد، جھوٹ پر مبنی اور کردار کشی کی ایک سوچی سمجھی مہم قرار دے دیا، اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب بشریٰ بی بی جیل میں ہیں، ایسے گھناؤنے الزامات پر مبنی آرٹیکل شائع کرنا بدنیتی پر مبنی اقدام ہے جس کا مقصد بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ کی شہرت کو نقصان پہنچانا ہے، ہم اس آرٹیکل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے اور وقت ثابت کرے گا کہ یہ تمام دعوے جھوٹ، بدگمانی اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ دی اکانومسٹ کا آرٹیکل واضح طور پراسپانسرڈ ہے اور اس میں پیش کی گئی کہانیوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس سے قبل بھی عدت سے متعلق بے بنیاد الزامات گھڑے گئے جن سے بشریٰ بی بی باعزت بری ہوئیں اوراب نئے الزامات گھڑ کراسی کردار کشی کے سلسلے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے، عمران خان کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے بشریٰ بی بی کوانتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ بہادری اور ہمت کے ساتھ تمام مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
خیال رہے کہ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے سرکاری فیصلوں پر ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے روحانی اثر کا دعویٰ کیا ہے، اس حوالے سے اپنی رپورٹ میں برطانوی جریدے نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ان کے سیاسی اثر و رسوخ اور سرکاری فیصلوں میں مداخلت ہوتی تھی، اس ضمن میں جریدے کے صحافی اوون بینیٹ کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی اہم تقرریوں اور سرکاری فیصلوں میں اثرانداز ہونے کی کوشش کرتی تھیں اور عمران خان کی فیصلہ سازی پر روحانی مشاورت کا رنگ نظر آیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ عمران خان اور فوج کے تعلقات 2021ء میں خراب ہونا شروع ہوئے، جب انہوں نے آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی تعیناتی پر حمایت سے انکار کیا، اس دوران عمران خان فرح گوگی پر اعتماد کرنے لگے جو ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر اثرانداز تھیں، فرح گوگی نے وزیر اعظم تک رسائی حاصل کی اور بعض الزامات کے مطابق حکومتی عہدوں پر تقرریوں اور کنٹریکٹس پر بھی اثرانداز ہوئیں۔