نئے رولز کا مقصد عدالتی نظام میں بہتری اور عوام کو سستا و جلد انصاف فراہم کرنا ہے

وفاقی حکومت نے 6ججوں کو وفاقی آئینی عدالت کا جج مقرر کردیاہے، جسٹس امین الدین، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی نے حلف اٹھا لیا، جبکہ جسٹس مسرت ہلالی نے آئینی عدالت کا جج بننے سے معذرت کرلی، آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین سے صدر مملکت آصف علی زرداری نے حلف لیا، تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈمارشل عاصم منیر بھی موجود تھے، تقریب میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5اور عدالت عظمی کے کسی جج نے تقریب میں شرکت نہیں کی، چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس ہوا، جس میں اپ ڈیٹڈ رولز 2025 کی منظوری دی گئی، اعلامیہ میں کہا گیا ہےکہ نئے رولز کا مقصد عدالتی نظام میں بہتری اور عوام کو سستا و جلد انصاف فراہم کرنا ہے، اجلاس میں سپریم کورٹ کے 19میں سے17جج شریک ہوئے دو ججوں جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک نے شرکت نہیں کی، صدر مملکت نے جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ کے استعفے منظور کرلئے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے 6ججوں کو وفاقی آئینی عدالت کا جج مقرر کردیاہے، پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت کے تین ججز نے حلف اٹھا لیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے تینوں ججز سے حلف لیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ اور سپریم کورٹ کے کسی جج نے حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کی۔ وفاقی آئینی عدالت کے تین ججز کی حلف برداری کی تقریب اسلام آباد ہائیکورٹ بلڈنگ میں منعقد ہوئی۔ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان نے اپنی عدالت کے تین ججز جسٹس حسن اظہر رضوی ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی سے حلف لیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر بھی حلف برداری تقریب میں اسٹیج پر موجود تھے۔

=====================

پارلیمنٹ کی ترمیم کے بعد 2 ججز کی غیرت جاگی، وزیر دفاع خواجہ آصف
15 نومبر ، 2025
اسلام آباد( نامہ نگار)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عدلیہ کا کردار بڑا تاریک رہا، ان ججز کا ضمیر دہائیوں سے سویا ہوا تھا کل پارلیمنٹ کی ترمیم کے بعد 2 ججز کی غیرت جاگی، لیکن جب کینگرو کورٹس بنے اور نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا، اس وقت کسی جج کی غیرت نہیں جاگی۔ جس دن نواز شریف کیخلاف کیس ہوتا تھا یہ ججز اپنے گھر والوں کو بھی بلالیتے تھے کہ کیسے ہم نواز شریف کیخلاف فیصلہ دیتے ہیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آج ایوان میں بیٹھے ہوئے لوگ اپنا ماضی بھول گئے اور جمہوریت کے علمبرادار بنے بیٹھے ہیں۔ ماضی میں نواز شریف کو سازش کر کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔خواجہ آصف نے اپوزیشن اور عدلیہ کو مخاطب کیا اور کہا کہ اِنہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ آئین کے وفادار ہیں یا ایک شخص کے؟ دہشت گردوں کو تحفظ دینے والے بھی یہی ہیں، اب کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جائیگی۔
====================

صدر مملکت نے جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کرلیے,جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا تھا. جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کےساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا کہ 27 ویں ترمیم کی منظوری سے پہلے میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ اس میں تجویز کردہ شقوں کا ہمارے آئینی نظام پر کیا اثر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگرآنے والی نسلیں انہیں کسی مختلف نظر سے دیکھیں گی، تو ہمارا مستقبل ہمارے ماضی کی نقل نہیں ہو سکتا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ ججوں کا لباس آخری بار اتارتے ہوئے سپریم کورٹ جج کے عہدے سے رسمی استعفیٰ پیش کرتا ہوں جو فوری طور پر مؤثر ہوگا۔