دنیا میں بینکنگ کی تاریخ کی سب بہت بڑی غلطی میں 31 کھرب روپے کی انتہائی بڑی رقم غلط اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیے گئے۔
بینکوں میں یومیہ اربوں کھربوں روپے کی لین دین ہوتی ہے اور اس میں خیال رکھا جاتا ہے کہ کوئی غلطی نہ ہوں کیونکہ معمولی سی غلطی بینک عملے کو مصیبت میں ڈال سکتی اور صارف کا قیمتی نقصان کرا سکتی ہے۔ اس کے باوجود کچھ نہ کچھ چھوٹی موٹی غلطیاں سامنے آتی رہتی ہیں۔
تاہم ایک بینک نے تو غلطی کی حد کر دی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کر دی اور کھربوں روپے ایک غلط اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیے۔
یہ انوکھا واقعہ بھارتی ریاست کرناٹک کے ایک بینک میں رونما ہوا جہاں بظاہر ایک معمولی غلطی نے سمجھو بینک عملے پر لرزا طاری کر دیا۔ کیونکہ اس بینک سے 10 کھرب روپے (پاکستانی کرنسی میں 31 کھرب 70 ارب روپے) غلط اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیے گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بینک سے تیکنیکی غلطی ہوئی اور 10 کھرب انڈین روپے ایک غلط اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے گئے۔ تاہم خوش قسمتی سے یہ اکاؤنٹ غیر فعال تھا اور بینک حکام کو بھی فوری اس غلطی کا احساس ہو گیا۔
بینک حکام نے اس کا علم ہوتے ہی فوری طور پر کارروائی کی۔ تاہم رقم کی مکمل واپسی میں تقریباً تین گھنٹے لگے۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ دو سال قبل اگست میں پیش آیا تھا۔ تاہم بینک کی حالیہ آڈٹ رپورٹ کے اجرا کے بعد یہ خبروں کی زینت بن گیا ہے۔
مذکورہ معاملے پر ریزرو بینک آف انڈیا نے بھی نوٹس لیا ہے اور اس نے کرناٹک بینک کے رسک منیجمنٹ نظام پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں اس طرح کی غلطیوں سے محفوظ رہنے کے لیے بینک انتظامیہ کو اپنی خامیاں دور کرنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب بینکنگ کی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کی بنیادی وجہ (Fat-Finger Error) بتایا جا رہا ہے۔ یعنی کوئی ٹائپنگ کے دوران غلط بٹن دبا دیتا ہے یا غلط رقم درج کر دیتا ہے۔
واضح رہے کہ اسی نوعیت کا ایک واقعہ 10 سال قبل 2015 میں جرمنی کے ایک بینک میں پیش آیا تھا، جہاں ایک جونیئر ملازم کی غلطی سے 6 ارب ڈالر (پاکستانی تقریباً 17 کھرب روپے) ایک ہیج فنڈ کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے تھے۔ تاہم یہ رقم اگلے دن واپس حاصل کر لی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق، ایسی غلطیوں سے بچنے کے لیے بینکوں کو آٹومیشن، ایرر ڈٹیکشن سسٹمز، اور بڑی رقم کی منتقلی سے قبل دوہری منظوری (Authorization) جیسے حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا چاہیے۔























