برطانیہ میں جعلی ایڈمرل کی تقریب نے تہلکہ مچا دیا

برطانیہ میں ایک شخص جعلی نیول یونیفارم اور تمغے پہن کر ایک یادگاری تقریب میں شریک ہو گیا جس کے بعد سابق فوجیوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

مذکورہ شخص نے ریئر ایڈمرل کا یونیفارم پہن رکھا تھا اور دعویٰ کیا کہ وہ لارڈ لیفٹیننٹ کے دفتر کی نمائندگی کر رہا ہے۔

تصاویر میں اسے جنگی یادگار پر سلامی دیتے اور تقریب کے دوران پھولوں کی چادر چڑھاتے دیکھا گیا۔ بعد ازاں انکشاف ہوا کہ وہ اس سے پہلے شمالی ویلز کے مختلف شہروں، خصوصاً کائرنارون میں بھی اسی وردی میں شرکت کر چکا ہے۔

رائل نیوی نے اس حرکت کو ’’سابق فوجیوں کی تضحیک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ یادگاری دن کی سنجیدگی اور وقار کو مجروح کرتا ہے۔

جعلی ایڈمرل نظروں میں کیسے آیا؟

شک اس وقت گہرا ہوا جب اس کی غیر معیاری یونیفارم، غلط شرٹ اور بے جوڑ تمغوں نے شرکا کی توجہ کھینچی۔ ان کے مطابق وہ ایسے تمغے پہن کر آیا تھا جو ایک ہی شخص کو نہیں مل سکتے۔

مثال کے طور پر ڈسٹنگشڈ سروس آرڈر (DSO)، جو 3 دہائیوں سے نیوی افسروں کو نہیں دیا گیا، اور رضاکار ریزرو تمغہ، جو کسی بھی DSO حاصل کرنے والے کو کبھی نہیں ملا۔

لیفٹیننٹ کمانڈر ٹیری اسٹیورٹ نے الزام لگایا کہ اس شخص کی موجودگی کے باعث وہ تقریب میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ کہ اس جعلی کردار نے میرا وقت ضائع کرایا، میں اس سے بات کرنے کے لیے پیچھے ہو گیا تھا۔

اس واقعے کی اطلاع ’’والٹر مٹی ہنٹرز کلب‘‘ کو بھی دی گئی ہے، جو جعلی فوجی دعوؤں کی جانچ کرتا ہے۔

لینڈڈنو ٹاؤن کونسل کے مطابق جب پریڈ مارشل نے تقریب کے دوران اس شخص سے سوال کیا تو اس نے دعویٰ کیا کہ وہ لارڈ لیفٹیننٹ آف کلویڈ کی جانب سے آیا ہے، لیکن کونسل کی مہمانوں کی فہرست میں اس کا نام نہیں تھا۔

رائل نیوی نے واضح کیا کہ برطانیہ کے قانون کے تحت جعلی تمغے پہننا جرم نہیں جب تک اس کا مقصد فراڈ نہ ہو، اسی لیے اس واقعے کی باضابطہ تحقیقات نہیں ہوں گی۔

تاہم ایک سابق رائل نیوی افسر نے کہا کہ ’’میں نے کبھی کسی کے سینے پر اتنا سونا نہیں دیکھا، یہ انتہائی حیران کن ہے۔‘‘