سندھ کے دیہی علاقوں میں گڑ بنانے کے روایتی فن

بشکریہ RJ علی منور کی اس خوبصورت کوشش کا جنہوں نے سندھ کے دیہی علاقوں میں گڑ بنانے کے روایتی فن کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہ ویڈیو نہ صرف گڑ کی تیاری کے مراحل کو دکھاتی ہے بلکہ ان محنت کشوں کی داستان بھی سناتی ہے جو صدیوں پرانی اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

**خوشخبری! سندھ کے دیہی علاقوں میں گڑ کی پیداوار نے مقامی معیشت کو نیا جلا بخشا ہے**

سندھ کے دیہی علاقوں میں گڑ کی روایتی تیاری نے نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط بنایا ہے بلکہ صدیوں پرانے ورثے کو بھی محفوظ کر لیا ہے۔ RJ علی منوار کی تازہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح گنے کو کچل کر، ابال کر اور سونے کی مانند چمکدار گڑ کی شکل دی جاتی ہے۔

یہ محنت کش جنہوں نے نسلوں سے یہ ہنر سینہ بہ سینہ محفوظ کیا ہے، اب ان کی محنت کو پوری دنیا میں پزیرائی مل رہی ہے۔ ویڈیو کے ذریعے نہ صرف خالص گڑ کی پہچان کرنا سکھایا گیا ہے بلکہ ان دیہاتی کاریگروں کے کام کو سراہا بھی گیا ہے۔

اس ویڈیو کا مقصد نہ صرف پاکستان کی ثقافتی روایات کو اجاگر کرنا ہے بلکہ ان محنت کشوں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے جو اپنے ہنر سے نہ صرف اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں بلکہ ملک کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ خوش آئند بات ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف روایتی ہنر کو تحفظ مل رہا ہے بلکہ نئی نسل بھی اپنے ثقافتی ورثے سے روشناس ہو رہی ہے۔

کیا بات ہے تازہ گڑ کی خوشبو یہاں تک آ رہی ہے

سماجی خدمت اور عطیات:

ویڈیو کے دوسرے حصے میں ویسیم قریشی بھائی اور ان کے خاندان کی جانب سے 6 بکریوں کی قربانی کے عطیات کو دکھایا گیا، جس کا گوشت تقریباً 150 ضرورت مند خاندانوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس کے علاوہ، مقامی ضرورت مند خاندانوں اور بیمار افراد کی مالی معاونت بھی کی گئی، جس سے برادری میں باہمی تعاون اور ہمدردی کی ایک خوبصورت مثال قائم ہوئی۔

ایک اور خوشخبری: انیس صدیقی کی کامیاب ہارٹ سرجری

ایک اور خوشخبری یہ ملی کہ انیس صدیقی بھائی کی ہارٹ سرجری کامیابی سے ہو گئی ہے اور وہ اب بہتر ہیں۔ اس خوشی میں ویڈیو میں مرغ بریانی تقسیم کی گئی۔

آخر میں:

یہ ویڈیو نہ صرف پاکستان کی ثقافتی روایات کو اجاگر کرتی ہے بلکے ان محنت کشوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے جو اپنے ہنر سے نہ صرف اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں بلکہ ملک کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف روایتی ہنر کو تحفظ مل رہا ہے بلکہ نئی نسل بھی اپنے ثقافتی ورثے سے روشناس ہو رہی ہے۔

دعا:
اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کے تمام محنت کشوں اور کاریگروں کے حالات بہتر فرمائے، ان کے روزگار میں برکت عطا فرمائے، اور ہم سب کو اپنے ثقافتی ورثے کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین