گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل کے اعزاز میں گزشتہ رات سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں جام قائم علی شاہ کی جانب سے عشائیہ دیا گیا

خبرنامہ نمبر8334/202
کراچی3 نومبر۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل کے اعزاز میں گزشتہ رات سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں جام قائم علی شاہ کی جانب سے عشائیہ دیا گیا جس میں پاکستان اور بیرون ملک سے معزز مہمانوں نے شرکت کی جن میں امریکی قونصل جنرل ، چینی قونصل جنرل، جرمن قونصل جنرل ڈپٹی برطانوی ہائی کمیشنر، امریکی ڈپٹی قونصل جنرل، چائنیز ڈپٹی قونصل جنرل، سابق گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی اور پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نثار کھوڑو نے شرکت کی۔ دریں اثناء معزز مہمانوں نے پورے خطے کی تازہ ترین سیاسی و معاشی صورتحال سمیت پاکستان کے موجودہ حالات اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کے مواقعوں پر بات چیت کی۔ اس موقع پر گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے اور میں اسے پاکستان کیلئے بہت بڑا اعزاز سمجھتا ہوں کہ ہم نے آج یہاں امریکہ، چائنا، برطانیہ اور جرمنی کے اہم سفارتی نمائندوں کو کامیابی کے ساتھ اکٹھا کیا ہیں۔ بلوچستان کے اسٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع اور قدرتی وسائل و معدنیات کی کثرت پر روشنی ڈالتے ہوئے صوبے میں موجود منافع بخش سرمایہ کاری کے امکانات پر زور دیا اور حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ ان دستیاب سرمایہ کاری کے مواقعوں سے فائدہ اٹھائیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ان قدرتی وسائل و معدنیات کو بروئے کار لانا ہم پورے خطے کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8335/202
کراچی 3 نومبر.۔ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں آج بروز سموار وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے “پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس ” (PIMEC) کا باقاعدہ افتتاح کیا. گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کو اس تین روزہ ایونٹ میں خصوصی طور پر مدعو تھے. چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وفاقی وزراء اور اعلیٰ سول و ملٹری آفیسران سمیت دنیا کے 45 ممالک سے ہزاروں مہمانانِ گرامی موجود تھے. گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایک منفرد حیثیت کا حامل ملک ہے. یہ کئی براعظم کیلئے ایک اہم مرکز کا کردار ادا کی صلاحیت رکھتا ہے. علاوہ ازیں پاکستان قدرتی وسائل اور قیمتی معدنیات سے مالا مال ہونے کے باعث دنیا بھر کے سرمایہ کار یہاں موجود سرمایہ کاری کے مواقعوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے اور یہ بہت جلد خطے میں معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8336/202
کراچی3 نومبر: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل کے اعزاز میں گزشتہ رات سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں جام قائم علی شاہ کی جانب سے عشائیہ دیا گیا جس میں پاکستان اور بیرون ملک سے معزز مہمانوں نے شرکت کی جن میں امریکی قونصل جنرل ، چینی قونصل جنرل، جرمن قونصل جنرل ڈپٹی برطانوی ہائی کمیشنر، امریکی ڈپٹی قونصل جنرل، چائنیز ڈپٹی قونصل جنرل، سابق گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی اور پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نثار کھوڑو نے شرکت کی۔ دریں اثناء معزز مہمانوں نے پورے خطے کی تازہ ترین سیاسی و معاشی صورتحال سمیت پاکستان کے موجودہ حالات اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کے مواقعوں پر بات چیت کی۔ اس موقع پر گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے اور میں اسے پاکستان کیلئے بہت بڑا اعزاز سمجھتا ہوں کہ ہم نے آج یہاں امریکہ، چائنا، برطانیہ اور جرمنی کے اہم سفارتی نمائندوں کو کامیابی کے ساتھ اکٹھا کیا ہیں۔ بلوچستان کے اسٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع اور قدرتی وسائل و معدنیات کی کثرت پر روشنی ڈالتے ہوئے صوبے میں موجود منافع بخش سرمایہ کاری کے امکانات پر زور دیا اور حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ ان دستیاب سرمایہ کاری کے مواقعوں سے فائدہ اٹھائیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ان قدرتی وسائل و معدنیات کو بروئے کار لانا ہم پورے خطے کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8337/202
کراچی، 03 نومبر:بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کراچی میں جاری تین روزہ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس (PIMEC 2025) میں بھرپور انداز میں شریک ہے۔ اس شرکت کا مقصد بلوچستان کے وسیع ساحلی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور صوبے میں بڑھتی ہوئی بلیو اکانومی کے مواقع کو اجاگر کرنا ہے۔بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے پویلین پر ملکی و غیر ملکی وفود نے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ اور سی ای او قائم لاشاری سے ملاقاتیں کیں۔ وفود نے بلوچستان کی پوشیدہ سمندری دولت، سرمایہ کاری کے امکانات اور ترقی کے مواقع میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔اس موقع پر بلال خان کاکڑ نے کہا کہ ہم خلیجی ممالک، آسیان ممالک اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ لاجسٹکس، قابلِ تجدید توانائی، جہاز سازی اور ماہی گیری کی پراسیسنگ کے شعبوں میں تعاون کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں جو علاقائی رابطوں اور پاکستان کی میری ٹائم ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی بی او آئی ٹی سمندری تجارت، لاجسٹکس، ماہی گیری اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے سرگرم عمل ہے، تاکہ پائیدار معاشی ترقی کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔PIMEC میں بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کی شرکت اس عزم کا مظہر ہے کہ بلوچستان کو بلیو اکانومی کا علاقائی مرکز بنایا جائے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو صوبے کی سمندری و ساحلی استعداد سے فائدہ اٹھانے کے لیے راغب کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Karachi, November 3: The Balochistan Board of Investment and Trade (BBoIT) is actively participating in the three-day Pakistan International Maritime Expo and Conference (PIMEC 2025) being held in Karachi. The participation aims to highlight Balochistan’s vast coastal resources, its strategic maritime location, and the emerging opportunities within the province’s growing Blue Economy.At the BBoIT pavilion, several local and international delegations met with Mr. Bilal
Khan Kakar, Vice Chairman BBoIT, and Mr. Qaim Lashari, Chief Executive Officer BBoIT. During these meetings, investors and delegates expressed keen interest in exploring Balochistan’s untapped maritime wealth and diverse investment opportunities.Speaking on the occasion, Mr. Bilal Khan Kakar emphasized the province’s commitment to fostering partnerships and sustainable economic growth.He stated that, We welcome cooperation with Gulf nations, ASEAN member states, and development partners in logistics, renewable energy, shipbuilding, and fisheries processing sectors. Balochistan offers immense potential for strategic investments that can enhance regional connectivity and contribute to Pakistan’s overall maritime growth.He further added that BBoIT is actively promoting investments in maritime trade, logistics, fisheries, and renewable energy, aligning with the national agenda for sustainable coastal and economic development.The Board’s participation in PIMEC 2025 demonstrates its dedication to positioning Balochistan as a regional hub for Blue Economy initiatives, aiming to attract both local and international investors toward projects that unlock the province’s coastal and oceanic potential.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8338/202
کوئٹہ، 3 نومبر ۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشیٹو بلوچستان (PPHI-B) کے تحت ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجرز، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن (M&E) آفیسرز اور فنانس آفیسرز کی تقرریوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پورے بھرتی عمل کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے حکومت بلوچستان کو سختی سے ہدایت کی کہ آئندہ تمام محکمے اور ادارے بھرتیوں کے اشتہارات بڑے اخبارات میں شائع کریں تاکہ شفافیت، مساوی مواقع اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ فیصلہ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل عدالتِ عالیہ بلوچستان کے دو رکنی بینچ نے حمیداللہ خان کی دائر کردہ آئینی درخواست پر سنایا۔ درخواست گزار نے مو¿قف اختیار کیا تھا کہ PPHI-B نے چمن، سوراب اور اوستہ محمد میں نئی ضلعی سپورٹ یونٹس کے لیے بھرتیاں تحریری امتحان کے بغیر محض انٹرویوز کی بنیاد پر کیں، جو آئین، قواعد اور میرٹ کے منافی ہیں۔عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ ”بھرتی کا پورا عمل غیر قانونی، کالعدم اور شفافیت سے عاری ہے۔“ فیصلے میں کہا گیا کہ تحریری امتحان کے بغیر کی گئی تقرریاں PPHI-B کے مینول آف آپریشنز کی شق 9.3.3 کی خلاف ورزی ہیں، جس میں تحریری ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ صرف ویب سائٹ پر اشتہار دینا مساوی مواقع کے اصولوں کے برعکس ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ آسامیوں کی تشہیر صرف تنظیم کی ویب سائٹ تک محدود رکھی گئی، جس کے باعث بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے امیدوار محروم رہ گئے۔ یہ عمل آئین کے آرٹیکل 18 اور 25 کی صریح خلاف ورزی قرار پایا۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اشتہار میں ضلعی بنیاد پر بھرتیوں کا وعدہ کیا گیا تھا مگر تقرریاں صوبائی بنیاد پر کی گئیں، جو میرٹ اور شفافیت کے اصولوں سے متصادم ہے۔عدالت نے PPHI-B کے قواعد کی بعض دفعات کو بھی آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے مینوئل آف آپریشنز کی شق 9.3.2/1&2 کو کالعدم کر دیا، جو اشتہارات کو صرف ویب سائٹ تک محدود کرتی تھی۔مزید برآں، عدالت نے PPHI-B کو ہدایت کی کہ وہ بھرتی کا عمل نئے سرے سے شروع کرے، آسامیوں کی تشہیر بڑے اخبارات میں کرے، تحریری امتحان کو لازمی بنائے، اور تقرریاں ضلعی بنیاد پر کی جائیں۔ اگر کسی ضلع میں اہل امیدوار دستیاب نہ ہوں تو اوپن میرٹ کے تحت تقرری کی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ پورا عمل 60 دن کے اندر مکمل کیا جائے۔عدالت نے حکومت بلوچستان، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) اور محکمہ صحت کو بھی ہدایت کی کہ وہ ایک جامع پالیسی نوٹیفکیشن جاری کریں، جس کے تحت صوبے کے تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ بھرتیوں کے اشتہارات بڑے اخبارات میں شائع کریں اور بغیر تشہیر کے کوئی تقرری نہ کریں۔ عدالت نے حکم دیا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان ان احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں اور رجسٹرار ہائی کورٹ کو تعمیلی رپورٹ پیش کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8339/2025
کوئٹہ 3نومبر۔ سیکریٹری صحت بلوچستان داود خلجی کی زیرِ صدارت محکمہ صحت کے افسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسپیشل سیکریٹری صحت شئے حق بلوچ، ایڈیشنل سیکریٹریز، ڈپٹی سیکریٹریز اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے۔ اجلاس کے دوران مختلف شعبہ جات کی کارکردگی، جاری منصوبوں کی پیشرفت اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سیکریٹری صحت بلوچستان نے اس موقع پر افسران کو ہدایت کی کہ صحت کے نظام میں بہتری، شفافیت اور کارکردگی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو معیاری صحت سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے، اس مقصد کے لیے تمام افسران اپنی ذمہ داریاں بھرپور لگن اور دیانتداری سے انجام دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی، عملے کی حاضری کے نظام میں بہتری، اور ڈیجیٹل نظاموں کے موثر استعمال سے صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آ رہی ہے، جس کے ثمرات جلد عوام تک پہنچیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8340/2025
پشین3 نومبر ۔ ڈپٹی کمشنر منصور احمد قاضی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا،اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) عبدالوہاب خان ناصر ضلعی ایجوکیشن آفسر فیض اللہ خان کاکڑ,ضلعی خزانہ آفسر ایمل زیب خان سمیت تمام ضلعی محکمہ جات کے آفسران اور متعلقہ نمائندے شریک تھے،اجلاس میں تمام محکمہ جات کے سربراہان اور نمائندوں نے ڈپٹی کمشنر کو اپنی اپنی کارکردگی اور جاری ترقیاتی منصوبوں اور دیئے گئے اہداف کے حوالےسے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں اجلاس میں ضلع کی مجموعی امن و امان،سیکیورٹی کی صورتحال اور شہر میں ٹریفک جام سمیت افغان باشندوں کی وطن واپسی اور تمام اداروں میں جاری ترقیاتی کاموں پروگریس اور ایمپرومنٹ،تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضریوں اور ہیلتھ یونٹس میں ادویات اور حاضریوں کے حوالےسے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر قاضی منصور نے کہا کہ ضلع کی مجموعی امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہے،اور ضلعی محکمہ جات عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے مستقل بنیادوں پر مصروف عمل ہیں،انہوں نے کہا کہ افغان باشندوں کی احترام عزت و وقار کیساتھ انخلاءکرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داریوں میں شامل ہے،لہذا مسائل اور مشکلات کے حل پر تمام متعلقہ محکموں کو مزید فعال کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ یہاں کے عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کو وقت پر حل کیا جا سکے اور جلد از جلد قابو پایا جا سکے،ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ غیر حاضری کے مرتکب ملازمین کو رعایت دینے سے اجتناب کیا جائے،اور مزید موثر کاروائی عمل میں لائی جائے،ڈپٹی کمشنر قاضی منصور نے اجلاس کے شرکاءکو بتایا کہ ضلعی محکمہ تعلیم نے غیر حاضری کے مرتکب اساتذہ سے 20 لاکھ کی قابل ذکر کٹھوتی کی ہے،اور دیگر 137 غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کے خلاف بھی کاروائی جاری ہے،جو واقعی ایک اچھا اقدام ہے،اس کے علاوہ محکمہ صحت نے غیر حاضر عملے سے 6 لاکھ کی کٹھوتی کی،جبکہ دیگر 65 ملازمین کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جا رہی ہے،انہوں نے مزید بتایا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 153000 کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں،اور مزید اقدامات بھی جاری ہیں،ڈپٹی کمشنر قاضی منصور نے ہدایات جاری کئے کہ تمام ادارے اپنی خدمات اور ذمہ داریوں کو ایمانداری مستقل مزاجی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انجام دیں،کیونکہ تمام اداروں کے درمیان باہمی تعاون اور روابط کی مضبوطی ناگزیر ہے لہٰذا تمام آفسران علاقے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ملکر بھرپور کردار ادا کریں،اور عوامی مسائل و مشکلات کا موثر اور بروقت حل نکالا جائے،تاکہ ضلعی انتظامیہ پر عوامی اعتماد کو مزید تقویت دی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8341/2025
نصیرآباد3نومبر۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد منیر احمد خان کاکڑ کے احکامات کی روشنی میں قومی شاہراہ پر رکشوں، ڈاٹسنوں اور دیگر ریڑھی بانوں کے خلاف بھرپور کارروائی عمل میں لائی گئی۔ کارروائی اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ کی نگرانی میں تحصیلدار معظم علی جتوئی کے ہمراہ ایس پی ٹریفک عبدالعزیز سرپرہ اور چیف افیسر میونسپل کمیٹی سلیم خان ڈومکی کے تعاون سے کی گئی۔ اس موقع پر قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بننے والے درجنوں رکشہ اور ڈاٹسن ڈرائیوروں کو گرفتار کیا گیا جبکہ شاہراہ پر قائم غیر قانونی تجاوزات، ریڑھیاں اور عارضی اسٹالز کو بھی ہٹا دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے کارروائی کے دوران ڈرائیوروں اور ریڑھی بانوں کو سختی سے تنبیہ کی کہ وہ قومی شاہراہ پر غیر ضروری ٹھہرنے اور کاروبار کرنے سے گریز کریں کیونکہ اس عمل سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہ عوامی گزرگاہ ہے جسے صاف، محفوظ اور رواں رکھنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو بھی قانون کی خلاف ورزی یا عوامی سہولت میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد منیر احمد خان کاکڑ نے ہدایت کی ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی بلا امتیاز جاری رکھی جائے تاکہ ٹریفک نظام کو بہتر بنایا جا سکے اور عوام کو ایک محفوظ و منظم سفری ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿