پاگل پن کی انتہا- یہ مٹھائی 1947 سے پہلے کی ہے-بھارت میں میسو پاک مٹھائی سے پاک نکال کر میسو شری کردیا گیا

پاک بھارت کشیدگی کے باعث بھارت میں مٹھائیوں کے نام بدل دیے گئے، میسو پاک اور موتی پاک میں سے ’’پاک‘‘ نکال دیا گیا، میسو اور موتی پاک کا نیام نام میسو شری اور موتی شری رکھ دیا گیا۔
بھارتی ریاست راجھستان کے شہر جے پور میں پاکستان اور بھارت کی کشیدگی کے بعد متعدد دکانوں نے اپنی مشہور مٹھائیوں کے ناموں میں تبدیلی کی ہے، جن میں مشہور مٹھائی’میسو پاک’ بھی شامل ہے۔
15 ہزار کے پاکستانی ڈرونز پر 15 لاکھ کے میزائل داغے گئے؟ کانگریس لیڈر نے مودی حکومت سے وضاحت مانگ لی
دکاندار کا کہنا تھا کہ اس نے تمام مٹھائیوں کے ناموں سے لفظ ‘پاک’ ہٹا کر اس کی جگہ ‘شری’ رکھ دیا ہے، ‘موتی پاک’ کو ‘موتی شری’، ‘گوند پاک’ کو ‘گوند شری’ اور ‘میسو پاک’ کو ‘میسو شری’ کا نام دیا ہے۔
یہ واضح رہے کہ مٹھائیوں میں لفظ ‘پاک’ کا مطلب پاکستان نہیں بلکہ کناڑہ زبان میں ‘میٹھا’ ہوتا ہے۔
مثلاً میسو پاک’ جو کہ دودھ سے بنی ایک خشک مٹھائی ہے اور جس کا نام کرناٹک کے شہر میسور کے نام پر رکھا گیا ہے، اس میں ‘پاک’ کا مطلب چینی کی چاشنی ہے جو اس ترکیب میں استعمال ہوتی ہے۔
کرنل صوفیہ کو دہشتگردوں کی بہن کہنے والا ہندو وزیر آزاد، پروفیسر کو مسلمان ہونے پر پکڑا گیا، ماہوا موئیترا
واضح رہے کہ 22 اپریل کو پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے میں 26 افراد مارے گئے تھے، جس کا الزام بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگایا گیا اور بھارت نے 7 مئی کو پاکستان میں جارحیت کی گئی تھی، جس کا پاکستان کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا اور بھارت کے 6 طیاروں سمیت متعدد ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

کرنل صوفیہ کو دہشتگردوں کی بہن کہنے والا ہندو وزیر آزاد، پروفیسر کو مسلمان ہونے پر پکڑا گیا، ماہوا موئیترا
بھارتی لوک سبھا میں آل انڈیا ترنمول کانگریس پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ماہوا موئیترا نے کہا ہے کہ پروفیسر علی خان محمود آباد کو صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرنل صوفیہ قریشی کو دہشت گردوں کی بہن کہنے والا بی جے پی کا وجے شاہ آزاد گھوم رہا ہے۔
ماہوا موئیترا نے کہا کہ پروفیسر علی اور وجے شاہ دونوں کے خلاف ایک ہی طرح کی ایف آئی آرز کاٹی گئی ہیں، لیکن دونوں کے ساتھ مختلف سلوک اس لیے ہے کہ پروفیسر علی مسلمان ہیں۔ جب پروفیسر علی کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو سوچیں کہ بھارت کے 20 کروڑ مسلمان کس حال میں رہ رہے ہوں گے۔
بھارت: آپریشن سندور پر ٹوئٹ کرنے پر مسلمان پروفیسر گرفتار
دوسری جانب بھارتی سپریم کورٹ آج سوشل میڈیا پوسٹ کرنے پر گرفتار پروفیسر علی خان محمود آباد کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے چکی ہے۔
عدالت نے پروفیسر کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنی زیر تفتیش پوسٹس سے متعلق آن لائن نہ کچھ لکھیں گے نہ بولیں گے۔
خیال رہے کہ بھارتی ریاست ہریانہ کی اشوکا یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سربراہ اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست راجہ صاحب محمود آباد کے پوتے پروفیسر علی خان محمود آباد کو آپریشن سندور پر سوال اٹھانے اور کرنل صوفیہ سے متعلق ٹوئٹ کرنے پر یونیورسٹی کے مسلمان پروفیسر کو گرفتار کیا گیا تھا۔
سابق بھارتی وزیر خزانہ نے پہلگام حملے میں پاکستان کو کلین چٹ دے دی
بھارتی پولیس نے ریاست ہریانہ کی اشوکا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر علی خان محمود آباد کو دہلی میں ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا، انہیں ’آپریشن سندور‘ سے متعلق بیان دینے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ پروفیسر علی خان محمود آباد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی، تحریک پاکستان کے صف اول کے رہنما اور تحریک پاکستان کے لیے بڑے پیمانے پر مالی وسائل فراہم کرنے والے راجہ صاحب محمود آباد (محمد امیر احمد خان) کے پوتے ہیں۔
راجہ صاحب محمود آباد کا اکتوبر 1973 میں لندن میں انتقال ہوا اور وہ مشہد میں امام رضا کے مزار کے قریب مدفون ہیں۔ جبکہ کراچی کا علاقہ محمود آباد انہی کے نام پر رکھا گیا ہے۔























