
بیلا،کیو سٹی
بلوچستان کی سرزمین فطرت کے انمول مناظر اور تاریخی ورثے کا امتزاج ہے۔ چند ماہ پہلے میں، دوستوں کے ساتھ ایک ایسے ہی مقام کی سیر کا موقع ملا جو اپنے تاریخی غاروں اور پہاڑوں کی وجہ سے مشہور ہے۔
بیلا کے غاروں کو شہر روغاں یعنی روحوں کا شہر ،کیو سٹی یا گوندرانی بھی کہتے ہیں،جو بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے شہر بیلا سے پندرہ کلو میٹر دور ہے۔ شہر روغاں کا کراچی سے فاصلہ دوسو اٹھارہ کلومیٹر ہے۔ یہ کوئی ساڑھے تین گھنٹے کا سفر ہے۔
گلشن اقبال ناظم آباد اور سائٹ ایریا سے ہوتے پراچہ چوک سے RCD آر سی ڈی ہائ وے پر جا پنہچے۔
ہمارا پہلا پڑاؤ حب شہر کے بعد دائیں ہاتھ پہ سلطنت ترکیہ ریسٹورینٹ پہ تھا۔جہاں پہ سب نے سیر ہوکے ناشتہ کیا اور وندر،اوتھل،بیلا سے ہوتے ہوئے ظہر کے وقت یعنی ایک بجے کے قریب کیوسٹی پہنچے۔ یہ جگہ اپنی ویرانی، خوبصورتی، پراسراریت اور قدیم تہذیب کے نشانات کی حامل ہے، جہاں قدم رکھتے ہی ماضی کی گونج سنائی دینے لگتی ہے۔
یہ پہاڑ اپنی خشکی اور بنجر منظر کے باوجود ایک خاص کشش رکھتے ہیں، جیسے بیوہ کی تنہائیاں ہوں۔ ان پہاڑوں کی بے رنگی میں ایک گہرا غم چھپا نظر آتا تھا، جو ماضی کی کہانیاں سناتا تھا۔ ان کے اندر ایک ایسا جذبہ تھا جو انسان کو ان کے راز جاننے کی طرف مائل کرتا تھا۔ ان میں چھپے چھوٹے چھوٹے غاروں کے آثار، جنہیں وقت نے آہستہ آہستہ اپنی گرفت میں لے لیا تھا، ماضی کی کہانیاں سناتے تھے۔
ان غاروں کے آس پاس بلند و بالا پہاڑ تھے، اور ان کے درمیان ایک خوبصورت پہاڑی چشمہ بہہ رہا تھا جو منظر کو مزید حسین بناتا تھا۔
یہ غار کئی صدیوں پرانے معلوم ہوتے ہیں اور یقیناً ان کے پیچھے ایک شاندار تاریخ پوشیدہ ہوگی۔ شاید یہ غار قدیم زمانے میں لوگوں کی رہائش گاہ یا عبادت گاہ کے طور پر استعمال ہوتی ہوں گی۔ چھوٹے چھوٹے سوراخ نما داخلی راستے اور اندر موجود ساخت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر رہی تھی کہ ماضی کے لوگ کیسے ان جگہوں پر رہتے ہوں گے۔
یہ پہاڑ نہ صرف اپنی بلندی اور خاموشی میں پرکشش ہیں، بلکہ انسان کے اندر ایک عجیب خواہش جگا دیتے ہیں – ان کو تسخیر کرنے کی۔ جیسے ہی ہم وہاں پہنچے، میرے اندر یہ جذبہ بیدار ہوا کہ ان پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچ کر ان کی وسعت اور عظمت کو محسوس کروں۔ میں خود کو روک نہ سکا اور اپنے دوستوں سے الگ ہو کر اس پہاڑ پر چڑھنے لگا۔ ہر قدم کے ساتھ دل میں ایک عجیب سی خوشی اور ولولہ تھا، اور جب پہاڑ کے اس مقام پر پہنچا جو سنسان تھا، تو وہاں ایک خاص خاموشی اور سکون پایا۔ لیکن اس سکون میں ماضی کی گونج تھی – وہ بیتے ہوئے وقت کا عکس، جب یہ جگہ رونقوں سے بھری ہوئی ہوگی۔
یہ غار ان پہاڑوں کی دیواروں میں جگہ جگہ تراشے گئے ہیں، اور یہ منظر دیکھنے میں اتنا حیرت انگیز تھا کہ ہم سب دیر تک ان کو دیکھتے رہے۔ غاروں میں داخل ہو کر یوں لگا جیسے ہم وقت کے دھارے میں پیچھے چلے گئے ہوں۔ دیواروں پر وقت کے نشانات، غاروں کی ساخت، اور ان کی گہرائی ہمیں ماضی کے لوگوں کی ذہانت اور ہنر مندی کی کہانی سناتی تھی۔
دوستوں کے ہمراہ ہم نے غاروں کے اندر کی چھان بین کی، جہاں ٹھنڈک اور پراسرار خاموشی کا راج تھا۔ ہم نے وہاں کے مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں قید کیا، پتھروں کو قریب سے دیکھا، اور پہاڑی چشمے کے پاس وقت گزارا جو اپنے صاف پانی اور پرسکون بہاؤ کے ساتھ دل کو ایک عجب سکون دیتا تھا۔ اس چشمے کے ارد گرد موجود چھوٹے پتھر اور چٹانیں نہایت منفرد تھیں، جن پر قدرت کے انمٹ نقوش تھے۔
پانی کے چشمہ کے قریب ایک پہاڑی ٹیلے پر مائی گوندرانی کا چھوٹا سا مزار بھی ہے۔ میں نے مزار پر فاتحہ پڑھی اور ظہر کی نماز بھی ادا کی۔ ان غاروں کے متعلق یہ کہانی بھی مشہور ہے کہ ایک وقت میں ان غاروں پر بھوتوں اور شیطانی قوتوں نے قبضہ کیا ہوا تھا اور مائی گوندرانی نے ان قوتوں سے لڑ کر ان غاروں کو ان شیطانی قوتوں سے آزاد کرایا۔
یہ جگہ نہ صرف ایک تاریخی مقام تھی بلکہ ایک ایسا تجربہ بھی تھا جو ہم سب کے لیے یادگار بن گیا۔ دوستوں کے ساتھ اس سفر نے ہمیں قدرت کی عظمت اور تاریخ کی اہمیت کا بھرپور احساس دلایا۔
اگر ان جگہوں کی سوشل میڈیا کے ذریعے مناسب تشہیر کی جائے اور ان کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے، تو یہ بلوچستان کے لیے ایک بہترین سیاحتی مقام بن سکتے ہیں۔ یہاں آنے والے سیاح نہ صرف ان تاریخی غاروں اور پہاڑی چشمے کا لطف اٹھا سکتے ہیں بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اگر حکومت ان جگہوں تک رسائی کے لیے بہتر سڑکیں بنائے، رہائش کی سہولتیں فراہم کرے، اور سیاحوں کی ضروریات کے مطابق سہولیات مہیا کرے تو یہ مقام بلوچستان کے لوگوں کی غربت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہاں رہنے والے لوگ اپنی دستکاری، مقامی کھانوں اور رہنمائی کی خدمات کے ذریعے سیاحوں کو بہترین تجربہ فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ سیاحت مقامی معیشت کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، اور ان لوگوں کی زندگیوں میں خوشحالی لا سکتی ہے جو ان پہاڑوں اور غاروں کے آس پاس رہتے ہیں۔
گھومنے کی کوئی بھی جگہ ہو، سیاح اپنی مرضی سے اس کی خوبصورتی نکال ہی لیتا ہے۔ ایک سیاح کے لیے ہر گھومنے کی جگہ خوبصورت ہوتی ہے، اور وہ خوبصورتی دوستوں کی سنگت میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ دوستوں کے ساتھ سفر کرنے کا جو مزہ ہے، وہ ان جگہوں کی اصل خوبصورتی کو اور بھی دلکش بنا دیتا ہے۔
دوستوں کے ساتھ اس مقام کی سیر نے نہ صرف ہمیں قدرت کے حسین مناظر سے آشنا کیا بلکہ تاریخ کے ایک اہم ورثے کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع دیا۔ اگر ان تاریخی مقامات کی مناسب تشہیر کی جائے اور سیاحوں کے لیے سہولتیں فراہم کی جائیں تو یہ بلوچستان کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ایسی جگہوں کو محفوظ رکھنا اور ان کو دنیا کے سامنے پیش کرنا نہ صرف ہماری تاریخ کا احترام ہے بلکہ یہ ہماری آئندہ نسلوں کے لیے ایک عظیم ورثہ چھوڑنے کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ سفر زندگی بھر کے لیے ایک یادگار تجربہ بن گیا، جو ہمیں ہمیشہ ماضی کی حیرت انگیز داستانوں کی یاد دلاتا رہے گا، اور ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہماری زمین کتنے انمول خزانوں سے بھری ہوئی ہے
عبدالباسط خان
credit to Abdul Basit Khan-from his fb wall























