
رپورٹ
ماریہ اسماعیل
سندھ حکومت کامحکمہ زراعت میں کسان خواتین کے لئے الگ خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ ،زرعی خصوصی ڈیسک پر خواتین کسان اپنے مسائل اور ضروریات سے متعلق گفتگو کر سکیں گی۔ تا کہ انکے مسائل حل ہوسکیں، یہ کہناتھا وزیر زراعت سردار محمد بخش خان مہرکا جہنوں نے کراچی کی مقامی ہوٹل میں وفاق ، پی پی ایف، انٹرنیشنل ٹرید سینٹر اور یورپی یونین کے تعاون سے دوروزہ کانفرنس کاعنوان خواتین کاروباریوں کے لیے ایک پائیدار ماحولیاتی نظام کی تعمیر” اور “ومن ان ایگریکلچر: لیڈرشپ، انوویشن اینڈ امپیکٹ” میں اپنے خاندان کی کفالت کے لئے کاروبار کرنے والی اور ملکی معیشت میں کرداراداکرنے والی خواتین کاخراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے مزید کہاکہ سندھ حکومت نے بینظیرہاری کارڈ کے تحت کسانوں کو نئے سولر ٹیوب ویلز،، فصلوں کی انشورنس اور واٹر

کورسز کی لائننگ کرکے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ زرعی سیکٹر میں خواتین کا اہم کردار ہے۔جس کے لیے سندھ حکومت خواتین کسانوں کو اب تک 24 ہزار کچن گارڈن کٹس فراہم کر چکی ہے ، 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والے کسانوں کو

کارڈ کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جائے گی،انہوں نے کہا کہ بینظیر ہاری کارڈ کے تحت 14 لاکھ کسانوں کو آن لائن ایپ کے ذریعے رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے سندھ اسمبلی میں وومن ڈیویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی وزیر شاہینہ شیر علی نے کہا کہ ہم بینظیر بھٹو کے وژن کو آگے لے کر چلتے ہوئے ایک تو چھوٹے کاروبار کرنے والی خواتین کو سپورٹ کر رہے ہیں دوسرا جیل میں قید خواتین کی تربیت اور انہیں نئے کاروبار شروع کروانے کے لیئے پلیٹ فارم مہیا کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آنے والے وقت میں وہ خواتین جو جیل یا کسی دار الامان سے نکلتی ہیں انہیں رہنے کے لیئے ہاسٹل کی سہولت بھی مہیا کی جائیگی۔وفاقی وزیرخزانہ اورنگزیب خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواتین کا کام قابل ستائش ہے۔ انہوں نے پسماندہ دیہی علاقوں میں رہتے ہوئے اپنی محنت سے مقام بنایا ۔
پی پی اے ایف کے سی ای او نادر گل بریچ نے نچلی سطح پر بااختیار بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ “انہوں نے کہاکہ ہمارا بنیادی مشن کمیونٹی کی سطح پر خواتین کی صلاحیت کو بڑھانا ہے، اس بات کو
یقینی بنانا کہ وہ نہ صرف شامل ہوں، بلکہ پائیدار ترقی کی رہنمائی کریں۔ ان کی صلاحیت ہمارا سب سے بڑا ناقابل استعمال اثاثہ ہے۔”وزیراعلیٰ سندھ کی خصوصی مشیر محترمہ تنزیلہ ام حبیبہ نے ادارہ میں صف بندی اور پالیسی احتساب کی ضرورت پر زور دیا۔ “خواتین کو بااختیار بنانا اب کوئی الگ تھلگ ایجنڈا نہیں ہے۔ یہ ایک کراس کٹنگ ترجیح ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ صنفی تحفظات کو وزارتوں میں سرایت کیا جائے اور بجٹ اور پروگرامی منصوبہ بندی میں اس کی عکاسی ہو۔سیمینار میں انسانی حقوق کمیشن، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ 

ڈیپارٹمنٹ، وومن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، نیشنل انکیوبیشن سینٹر، موبی لنک مائیکرو فنانس بینک، پاکستان سنگل ونڈو اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز کی بھی موجودتھے ۔ شرکاء نے خواتین کو درپیش ساختی رکاوٹوں کا جائزہ لیا اور صنفی حساس مالیاتی خدمات اور موسمیاتی سمارٹ ایگریکلچر سے لے کر ڈیجیٹل شمولیت، قیادت کی ترقی، اور بلا معاوضہ نگہداشت کے کام کی پہچان تک کے ٹھوس حل پر تبادلہ خیال کیا۔اس کے علاوہ دو روزہ کانفرنس میں مختلف سیشن میں ماہرین نے زراعت اور خواتین کے چھوٹے کاروبار پر معلوماتی گفتگو کی ۔ وفاقی وزیر اورنگزیب خان اور وزیر زراعت سردار محمد بخش خان مہر نے خواتین ہاریوں کی جانب سے لگائے گئے اسٹالز کا وزٹ کیا۔کانفرنس کے اختتام پر اپنی شعبوں میں بہترین کارکردگی دکھانے والوں میں شیلڈز تقسیم کی گئیں۔























