بغیر سندھ پبلک سروس کمیشن کے اشتہار ۔ بغیر مقابلے کے امتحان پاس کیے اور سندھ پبلک کمیشن کی تجویز کے بغیر قواعد و ضوابط کے برخلاف براہراست اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر سول کی پوسٹ پر بھرتی کیے جانے والے فسران پر تاحال نوازشات کا سلسلہ جاری ہے

کراچی(اسٹاف رپورٹر) بغیر سندھ پبلک سروس کمیشن کے اشتہار ۔ بغیر مقابلے کے امتحان پاس کیے اور سندھ پبلک کمیشن کی تجویز کے بغیر قواعد و ضوابط کے برخلاف براہراست اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر سول کی پوسٹ پر بھرتی کیے جانے والے فسران پر تاحال نوازشات کا سلسلہ جاری ہے 19 گریڈ کی۔خلاف ضابطہ ایکٹنگ پرموشن حاصل کرنے والے انجینئرز کو کے ایم سی کے محکمہ ہیومن ریسورسز نے گریڈ 20 کے ورک اسائن کردیےکے ایم سی انجینئرنگ کے قریبی ذرائع کے مطابق محکمہ ایچ آر ایم نے 15 مئی 2025 کو جن انجینئرز کو ورک اسائن کیا گیا ہے ان میں ڈائریکٹر ڈیزائن امان اللہ سانگی ایس سی یو جی سروس کنفرم گریڈ 19 کے افسر ہیں اور بی ٹیک آنرز کی ڈگری رکھتے ہیں ذرائع کے مطابق وہ بی ای سول نہیں ہیں جبکہ ڈائریکٹر ڈیزائن انجینئرنگ کا کام پی سی ون چیک کرنا۔ ریٹس کی تصدیق کرنا اور انجینئرنگ آئٹمز کی منظوری دینا ہوتا ہے جو قانون کے مطابق بی ای سول ڈگری ہولڈرز کرسکتا ہے_ ذرائع کے مطابق دیگر 5 انجینئرز 2013 میں بغیر سندھ پبلک سروس کمیشن کے اشتہار اور بغیر مقابلے کا امتحان پاس کئے اور بغیر سندھ پبلک سروس کمیشن کی تجویز کے براہ راست غیر قانونی طور پر اور قواعد و ضوابط کے خلاف نہ صرف گریڈ۔17 میں اسسٹنٹ ایگزیکیٹیو انجینئر سول بھرتی کئے گئے بلکہ گریڈ۔18 میں ایکس سی این سول کے پروموشنز بھی بغیر قواعد و ضوابط حاصل کئے اور اسوقت بھی گریڈ۔19 میں جو پروموشنز دئیے گئے ہیں وہ بھی عارضی بنیادوں پر حاصل کئے ہیں کیونکہ گریڈ۔19سپرنٹنڈنگ انجینئر کی پوسٹ پر ترقی کیلئے 12 سال کی گورنمنٹ سروس کا تجربہ ضروری ہے بلکہ پروموشن کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی انکوائری یا ایف۔آئی۔آر وغیرہ نہ ہو ، اور گریڈ۔20 چیف انجینئر سول کی پوسٹ پر پروموشن کیلئے گورنمنٹ سروس کا تجربہ 17 سال ہونا ضروری ہے_اسائمنٹ حاصل والے انجینئر طارق عزیز بلوچ کے متعلق ذرائع کا دعوی ہے کہ وہ واٹر ینڈ سیوریج کے ملازم ہیں_