
سینیٹر ایمل ولی خان اور چیئرمین پی ٹی اے کے درمیان شدید جھڑپ، چرس کے الزامات نے اجلاس میں ہنگامہ کھڑا کردیا
اسلام آباد: اے این پی کے سربراہ اور سینیٹر ایمل ولی خان اور چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان کے درمیان قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شدید تلخی پیدا ہوگئی، جس کے بعد چیئرمین پی ٹی اے کو اجلاس چھوڑ کر جانا پڑا۔ معاملہ اس وقت بھڑکا جب چیئرمین پی ٹی اے نے سینیٹر ایمل ولی خان پر “چرس کا سگریٹ پینے” کا الزام لگایا اور طنزیہ انداز میں کہا، “مجھے بھی چرس کا سگریٹ دیں۔”
“ایک سرکاری ملازم مجھے کیسے کہہ سکتا ہے کہ تم چرس پی کر آئے ہو؟”
سینیٹر ایمل ولی خان چیئرمین پی ٹی اے پر برہم ہوگئے اور غصے سے پوچھا، “آپ کو تکلیف کیا ہے؟” انہوں نے چیئرمین کے رویے کو “بالکل قابل قبول نہیں” قرار دیتے ہوئے کہا، “آپ کو یہ جرات کس نے دی ہے کہ ایسے بات کریں؟”
چیئرمین پی ٹی اے کا اعترافِ غلطی
دباؤ بڑھنے پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا، “مجھ سے غلطی ہوگئی ہے،” اور سینیٹر سے معافی مانگنے لگے۔ تاہم، ایمل ولی خان نے کہا، “اگر آپ چرس اور شراب پیتے ہیں تو ایسی باتیں کیا کریں۔”
قائمہ کمیٹی کا چیئرمین پی ٹی اے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
سینیٹر ایمل ولی خان نے قائمہ کمیٹی سے چیئرمین پی ٹی اے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، “چیئرمین پی ٹی اے اجلاس میں رہے گا یا میں رہوں گا۔” بالآخر، چیئرمین پی ٹی اے کو اجلاس چھوڑنا پڑا۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی کی سخت مذمت
چیئرمین قائمہ کمیٹی آغا شاہزیب درانی نے چیئرمین پی ٹی اے کے رویے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا، “چیئرمین پی ٹی اے نے سینیٹر ایمل ولی کی ہی نہیں، بلکہ پوری قائمہ کمیٹی کی توہین کی ہے۔” انہوں نے اس معاملے کو وزیراعظم کے سامنے اٹھانے اور چیئرمین پی ٹی اے کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔
سیکرٹری آئی ٹی کو نوٹس لینے کی ہدایت
قائمہ کمیٹی نے سیکرٹری آئی ٹی کو بھی معاملہ کی تحقیقات کے لیے نوٹس لینے کی ہدایت کردی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم اس معاملے میں کیا کارروائی کرتے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر حکومتی اداروں کے درمیان تعلقات کی کشیدگی اور سرکاری اجلاسوں میں بدتمیزی کے رویوں کو اجاگر کرتا ہے۔
=========================
چیف سیکریٹری سندھ کی زیرِ صدارت اسٹیوٹا کا اہم اجلاس، صوبے بھر میں 30 ماڈل ادارے قائم کرنے کا فیصلہ
چیف سیکریٹری سندھ کی اسٹیوٹا میں مصنوعی ذہانت سمیت جدید کورسز متعارف کرانے کی ہدایت
کراچی – 21 مئی 2025۔
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا وژن نوجوانوں کو فنی تعلیم اور ہنر کی فراہمی کے ذریعے بااختیار بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے لیے فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ یہ نظام قومی و بین الاقوامی روزگار کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو، یہ بات انہونے آج سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (اسٹیوٹا) کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، اجلاس میں نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانے کے لیے فنی تعلیم کو صنعتوں کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں اسٹیوٹا کے چیئرمین اور وزیر اعلیٰ سندھ کے معاونِ خصوصی جنید بلند، ڈائریکٹر جنرل پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ اسد ضامن، ایم ڈی اسٹیوٹا طارق منظور چانڈیو سمیت اسٹیوٹا کے متعلقہ افسران شریک ہوئے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اسٹیوٹا اس وقت سندھ بھر میں 250 سے زائد فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی ادارے چلا رہا ہے جن میں کراچی ڈویژن میں 56، حیدرآباد میں 65، سکھر میں 31، لاڑکانہ میں 46، میرپور خاص میں 18 اور شہید بے نظیرآباد ڈویژن میں 43 ادارے شامل ہیں۔ ان اداروں میں مکینیکل، الیکٹریکل، سول، کمپیوٹر، ٹیکسٹائل، ہاسپیٹیلٹی اور دیگر پیشہ ورانہ شعبہ جات میں تربیت دی جا رہی ہے۔
چیف سیکریٹری نے اجلاس میں کہا کہ سرکاری اداروں کو مؤثر اور کامیابی سے چلانے کے لیے نجی شعبے کے تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے اداروں کی بہتری، تربیت کے معیار، اور روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے واضح ہدایت دی کہ نجی شراکت داروں کے ساتھ ہر معاہدے میں کلیدی کارکردگی کے اشاریے (KPIs) مقرر کیے جائیں، جن میں فارغ التحصیل 100 فیصد طلبہ کی روزگار میں شمولیت کو اولین ہدف کے طور پر شامل کیا جائے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے اسٹیوٹا کو ہر ممکن مالی اور انسانی وسائل کی فراہمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ فنی تعلیم کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اداروں کی تعمیرِ نو، جدید آلات کی فراہمی، اور صنعتی ضروریات سے مطابقت رکھنے والے کورسز کے اجرا کو ناگزیر قرار دیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا کہ اصلاحاتی حکمتِ عملی کے تحت سندھ کے تمام چھ ڈویژنز سے پانچ پانچ ادارے منتخب کر کے مجموعی طور پر 30 ماڈل ادارے قائم کیے جائیں گے۔ ان اداروں کو جدید انفراسٹرکچر، معیاری نصاب، تربیت یافتہ اساتذہ اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اسناد کی فراہمی کے ذریعے ماڈل اداروں میں تبدیل کیا جائے گا۔
اسٹیوٹا کے چیئرمین اور وزیر اعلیٰ سندھ کے معاونِ خصوصی جنید بلند نے اجلاس میں کہا کہ اسٹیوٹا میں جلد ہی جدید تقاضوں کے مطابق نئے کورسز متعارف کرائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں 30 ماڈل اداروں کے قیام کا مقصد نوجوانوں کو مقامی و بین الاقوامی مارکیٹ کے لیے تیار کرنا ہے تاکہ وہ بہتر روزگار حاصل کر سکیں۔ اجلاس میں اسٹیوٹا کو درپیش چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی گئی، جن میں تدریسی آسامیوں کا خالی ہونا، انفراسٹرکچر، پرانا نصاب، جدید آلات کی کمی اور صنعتوں سے کمزور روابط شامل ہیں۔























