واٹر بورڈ کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے ۔

واٹر بورڈ کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے ۔

واٹر کارپوریشن کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر غلام عارف نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واٹر بورڈ کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

۔یہ الفاظ بڑے دکھ اور افسوس کے ساتھ ادا کرنا پڑ رہے ہیں کہ واٹر بورڈ اپنی اخری سانسوں کی جانب بڑھ رہا ہے جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اس سے واٹر بورڈ کا دم نکل جائے گا انہوں نے کہا کہ چیف انجینیئر ظفر پلیجو کو جس عہدے سے ہٹا کر کسی کی خواہشات پوری کرنے کے لیے انتہائی جونیئر افسر کو اس عہدے کا چارج دیا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ واٹر بورڈ کو کس انجام تک پہنچانا ہے جب واٹر کارپوریشن میں گریڈ 20 کے اٹھ سینیئر افسران موجود ہیں تو پھر گریڈ 18 کے ایک انتہائی جونیئر نہ تجربہ کار اور غیر مستقل افسر کو اس اہم عہدے کا چارج دینا سمجھ سے بالا تر اقدام ہےیہ بات قابل ذکر ہے کہ جس جونیئر افسر کو اس اہم عہدے کا چارج سونپا گیا ہے وہ افسر سول انجینیئر بھی نہیں ہے بلکہ ڈپلومہ ہولڈر ہے اور جو لوگ یہ کر رہے ہیں وہ کس کی خواہش پر ایسا کر رہے ہیں اور کس کی خواہشات پورا کرنا چاہتے ہیں انہیں میڈیا کو جواب دینا چاہیے عوام کو بتانا چاہیے ۔جب ارڈر بورڈ میں گریڈ پیس کے اٹھ سینیئر اور مستقل افسران موجود ہیں جو تجربے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے کافی قابل اور ذہین اور مہندی افسران ہیں ان میں سے کسی کو جاج کیوں نہیں دیا گیا اور ایک نا تجربہ کار غیر مستقل انتہائی جونئیر افسر کو اس عہدے پر لانے کا مقصد کیا ہے یہ لوگ واٹر بورڈ کو بالکل بند کرنا چاہتے ہیں اس کو تالا لگا دینا چاہتے ہیں یہ شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے بلکہ واٹر بورڈ میں ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لوگوں کو پانی فراہم کرنے میں سب سے اہم کردار رکھتا ہے پھر اس شعبے کے ساتھ ایسا ظلم کیوں ؟ واٹر کارپوریشن میں کسی کو شہریوں کی پرواہ ہے یا نہیں ؟ یہ لوگ کیا شہر کو پانی دینا بھی چاہتے ہیں یا شہریوں کو پیاسا رکھنا چاہتے ہیں ؟ میرے نزدیک جو اقدامات ہو رہے ہیں یہ واٹر بورڈ کو دفن کرنے کے مترادف ہیں اس لیے میں کہتا ہوں واٹر بورڈ کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے ۔