
تربت 5 مئی۔ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے محکمہ پاپولیشن ویلفیئر ضلع کیچ کے اسٹاف کو ویری فکیشن کے لیے ڈی سی آفس طلب کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر سید اسلم شاہ سمیت دیگر عملہ بھی موجود تھا۔ ڈی سی کیچ نے کہا کہ سرکاری محکموں میں عملے کی مستقل غیر حاضر ی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں تنخواہوں میں کٹوتی اور ملازمت سے برخاستگی شامل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ غیر حاضر عملے کی رپورٹ تحریری طور پر ڈی سی آفس کو دی جائے۔ بعد ازاں، ڈی سی اور ان کے عملے نے اسٹاف کی انفرادی ویری فکیشن بھی کی۔
خبرنامہ نمبر3159/2025
گوادر 5مئی ۔ بھارت کی آبی جارحیت، ریاستی دہشت گردی، اور نہتے کشمیریوں پر جاری ظلم کے خلاف ضلعی انتظامیہ گوادر کے زیر اہتمام ایک احتجاجی واک کا انعقاد کیا گیا۔ واک کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر گوادر میر جواد احمد زہری نے کی، جس میں شہریوں، سول سوسائٹی، مختلف محکموں کے افسران و عملے، طلباء ، مذہبی ، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور میڈیا سے وابستہ افراد سمیت زندگی کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔یہ واک جاوید کمپلیکس سے شروع ہو کر میرین ڈرائیو پر اختتام پذیر ہوئی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارت کی کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی، انسانی حقوق کی پامالیوں اور مودی سرکار کے فاشسٹ اقدامات کے خلاف شدید مذمتی کلمات درج تھے۔شرکاء نے بھارت مردہ باد اور مودی سرکار کے خلاف شدید نعرے بازی کی جبکہ پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے فضا گونج اٹھی۔ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی واک میں شریک تھی، جنہوں نے اپنی موجودگی سے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔واک کے اختتام پر اسسٹنٹ کمشنر میر جواد احمد زہری نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کے عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور بھارتی مظالم کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم گلگت بلتستان سے گوادر تک متحد ہے اور انڈیا کے ہر جارحانہ اقدام کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔سول سوسائٹی کے صدر محمد جان بلوچ اور سیاسی نمائندے سعید احمد نے بھی خطاب کیا اور بھارت کے غیر انسانی اقدامات کی سخت مذمت کی۔ تقریب کے آخر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے پتلے اور بھارتی پرچم کو نذر آتش کیا گیا، جس کے بعد “انڈیا مردہ باد” اور “پاکستان زندہ باد” کے نعرے ایک بار پھر فضا میں گونج اٹھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3160/2025
نصیر آباد 5مئی ۔ نقل کی روک تھام اولین ترجیح ہے، کمشنر نصیرآباد معین الرحمٰن خان کا امتحانی مراکز کے دورے کے موقع پر منتظمین کو ہدایات کمشنر نصیرآباد ڈویژن معین الرحمٰن خان نے ایف اے سی اور ایف اے کے سالانہ امتحانات کے سلسلے میں مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کیا۔ انہوں نے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ڈیرہ مراد جمالی، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں قائم کردہ مراکز کا معائنہ کیا اور وہاں نقل کی روک تھام کیلئے کئے گئے انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔اس موقع پر کمشنر نے مراکز کے منتظمین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو نقل جیسے ناسور سے بچانا ناگزیر ہے تاکہ انہیں ایک باصلاحیت اور ذمہ دار شہری کے طور پر تیار کیا جا سکے۔ جو مستقبل میں ملک کی قیادت سنبھالیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے نقل کے خلاف سخت احکامات جاری کئے گئے ہیں جن پر عمل درآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔کمشنر نے تمام افسران اور عملے پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض ایمانداری اور سنجیدگی سے انجام دیں اور امتحانی مراکز میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے کو مکمل طور پر روکا جائے کمشنر معین الرحمٰن خان نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف تعلیمی معیار کی بہتری کیلئے اہم ہے بلکہ نوجوان نسل کو دیانت داری قابلیت اور ذمہ داری کا احساس دلانے میں بھی مدد گار ثابت ہو گا اسی دوران انہوں نے سیکیورٹی سمیت دیگر انتظامی امور کا بھی جائزہ لیا اور اطمینان کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3161/2025
تربت 5 مئی۔ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے محکمہ پاپولیشن ویلفیئر ضلع کیچ کے اسٹاف کو ویری فکیشن کے لیے ڈی سی آفس طلب کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر سید اسلم شاہ سمیت دیگر عملہ بھی موجود تھا۔ ڈی سی کیچ نے کہا کہ سرکاری محکموں میں عملے کی مستقل غیر حاضر ی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں تنخواہوں میں کٹوتی اور ملازمت سے برخاستگی شامل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ غیر حاضر عملے کی رپورٹ تحریری طور پر ڈی سی آفس کو دی جائے۔ بعد ازاں، ڈی سی اور ان کے عملے نے اسٹاف کی انفرادی ویری فکیشن بھی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3162/2025
تربت5 مئی۔ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ سے آل بارڈر کمیٹی کیچ کے نمائندہ وفد نے ملاقات کی، جس میں عبدوئی بارڈر کی بندش سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل اور بے روزگاری پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وفد نے نشاندہی کی کہ بارڈر کی بندش سے غریب عوام بھوک و افلاس کا شکار ہو رہے ہیں اور نوجوانوں میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے وفد نے مطالبہ کیا کہ سرحدی تجارت کا فوری بحال ہونا ناگزیر ہے تاکہ عوامی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر کیچ نے وفد کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ انہیں ان مسائل کا مکمل ادراک ہے، تاہم بارڈر کی بندش سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر عارضی اقدام تھا بہت جلدعبدوئی بارڈر کاروباری سرگرمیوں کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر کی یقین دہانی پر آل بارڈر کمیٹی نے ان کا شکریہ ادا کیا عوامی اور کاروباری حلقوں کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کی اس پیشرفت کو سراہا جا رہا ہے، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ سرحدی تجارت کی بحالی سے مقامی معیشت کو سہارا ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔























