
کراچی (رپورٹ: — ابراہیم حیدری کی عمر کالونی میں کے الیکٹرک کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ کے خلاف علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے مرکزی سڑک کو بلاک کر کے ٹائروں کو آگ لگا دی، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
احتجاج کی قیادت کچے علاقے کے نوجوانوں نے کی، جن میں مجید کچی، اسلم کاچھی، چیر قاسم کچی سمیت دیگر شامل تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ روزانہ 8 سے 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ پانی کی شدید قلت سمیت دیگر مسائل جنم لے رہے ہیں، جبکہ رمضان اور گرمیوں کے دوران کے الیکٹرک کا غیر ذمہ دار رویہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔


مظاہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور علاقہ مکینوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، ورنہ احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔اس کو سندھی میں بنا کر دے
صوبائی وزیر سید ریاض حسین شاہ شیرازی کا جھمپیر کا دورہ
آتشزدگی سے متاثرہ دیہاتوں کا جائزہ، حکومت سندھ کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی
کراچی، جھمپیر04 مئی ۔ صوبائی وزیر برائے اوقاف، مذہبی امور، زکوٰۃ و عشر سید ریاض حسین شاہ شیرازی نے جھمپیر کے علاقے کھڈائیں میں آتشزدگی سے متاثرہ گاؤں حاجی علی بخش منچھری اور عباس ماچھی کا دورہ کیا۔ گزشتہ شب تیز طوفان کے نتیجے میں ان دیہاتوں میں آگ بھڑک اٹھی تھی، جس سے مکانات اور قیمتی سامان جل کر خاکستر ہوگیا۔صوبائی وزیر نے موقع پر پہنچ کر متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور ان کے نقصانات کا جائزہ لیا۔موقع پر موجود میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دیہات مچھلی کے شکار سے گزر بسر کرنے والے محنت کش افراد پر مشتمل ہیں، اور ان کے ساتھ پیش آنے والے سانحے پر دل گرفتہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کو متحرک کیا گیا، جنہوں نے بروقت کارروائی کرکے مزید نقصان کو روکا۔سید ریاض حسین شاہ شیرازی نے متاثرین کے لیے سندھ حکومت کی طرف سے ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرائی اور ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ افسران کو متاثرہ خاندانوں کی فوری بحالی و مدد کے لیے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔
ہینڈ آؤٹ نمبر504۔۔۔۔
کراچی 04 مئی ۔ حکومت سندھ کا غیرقانونی چنگچی رکشوں اور موٹر سائیکل رکشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران 311 چنگچی رکشے اور موٹر سائیکل رکشے ضبط کرکے 311 ڈرائیورز کو گرفتار کر لیا۔ سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کراچی کی 11 ماڈل سڑکوں پر غیرقانونی چنگچی رکشوں اور موٹر سائیکل رکشوں کے خلاف 16 اپریل 2025 سے کریک ڈاؤن جاری ہے،غیرقانونی اور غیرمعیاری ٹرانسپورٹ کے خلاف سندھ حکومت کی ہدایات پر 9 اپریل 2025 سے شروع ہونے والا کریک ڈاؤن بھی بھرپور طریقے سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ کریک ڈاؤن کے دوران فینسی نمبر پلیٹس، کالے شیشے اور دیگر غیرقانونی تبدیلیوں پر بھی کارروائیاں کی گئی، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر 515 بھاری اور ہلکی ٹرانسپورٹ گاڑیاں ضبط کی گئیں۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ 2025 تک کی رپورٹ کے مطابق، مختلف خلاف ورزیوں پر 31,677 موٹر سائیکلیں تحویل میں لی گئیں، 25 گاڑیوں کی رجسٹریشن کی منسوخی کی سفارش کی گئی، 491 گاڑیوں کی رجسٹریشن عارضی طور پر معطل کر کے مخصوص شرائط کے تحت چھوڑا گیا۔انہوں نے کہ کہ کریک ڈاؤن میں اب تک پاکستان پینل کوڈکی دفعہ 188 کے تحت حکومتی احکامات کی خلاف ورزی پر 104 ایف آئی آرز درج کی گئیں، تیز رفتاری اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ پر دفعہ 279 کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی گئی، عوامی راستے میں رکاوٹ ڈالنے پر دفعہ 341 پر 33 مقدمات درج کئے گئے۔ 23 غیررجسٹرڈ موٹر سائیکل رکشوں کو بھی قبضے میں لیا گیا۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ 32 غیرقانونی ایل پی جی/سی این جی کٹس ضبط کی گئیں، 7,069 گاڑیون کو چالان جاری کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کریک ڈاؤن کا مقصد شہریوں کو ایک محفوظ، منظم اور قانون کے دائرے میں چلنے والا ٹرانسپورٹ نظام مہیا کرنا ہے، چنگچی رکشے اور بغیر رجسٹریشن موٹر سائیکل رکشے ٹریفک کے بہاؤ میں خلل ڈالنے کے ساتھ ساتھ عوام کی جان و مال کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ غیرقانونی لوازمات اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر کاربند ہیں، کسی کو سڑکوں پر لاقانونیت کی اجازت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ تمام گاڑیاں محکمہ ٹرانسپورٹ سے رجسٹر ہوں، ان کے پاس فٹنس سرٹیفکیٹ ہو اور ڈرائیورز مکمل تربیت یافتہ اور لائسنس یافتہ ہوں، شہری غیرقانونی گاڑیوں میں سفر سے گریز کریں اور حکام کو خلاف ورزیوں کی اطلاع دیں۔























