جیکب آباد میں مختلف حادثات و واقعات میں ایک شخص جاں بحق، 17 افراد زخمی۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے مختلف علاقوں میں مختلف حادثات و واقعات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 17 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں،

جیکب آباد: رپورٹ ایم ڈی عمرانی
جیکب آباد میں مختلف حادثات و واقعات میں ایک شخص جاں بحق، 17 افراد زخمی۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے مختلف علاقوں میں مختلف حادثات و واقعات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 17 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جیکب آباد کے صدر تھانہ کی حدود جمالی واہ کے قریب چنگچی رکشہ تیز رفتاری کے باعث الٹ گیا جس کے نتیجے میں تین افراد الطاف حسین، راحب علی اور عمران علی زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا، علاوہ ازیں دلمراد تھانہ کی حدود لاہی چاڑھی کے مقام پر لوڈر رکشہ اور موٹر سائیکل کے درمیان تصادم ہوگیا جس کے نتیجے میں تین افراد منصب علی، طاہر حسین جکھرانی اور حسین بخش جکھرانی زخمی ہوگئے زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، ٹھل میں گاڑی اور موٹر سائیکل میں تصادم کی وجہ سے ایک وجہ شخص سینڈھل کنرانی جاں بحق ہوگیا، دریں اثناء جیکب آباد کے مولاداد تھانہ کی حدود ہزارہ شاخ کے قریب معمولی بات پر سولنگی اور ودیا برادری کے درمیان جھگڑا ہوگیا، جھگڑے کے دوران اینٹیں اور ڈنڈے لگنے کی وجہ سے دونوں فریقین کے 9 افراد زخمی ہوگئے، زخمیوں میں مورزادو، فاروق احمد، محمد سچل، محمد رمضان، غلام رسول، وزیر خان، محمد عمر، دیدار علی اور نظیر احمد شامل ہیں، زخمیوں کو علاج کے لیے سول اسپتال منتقل کیا گیا ہے تاہم واقعے کا مقدمہ درج نہیں ہوسکا تھا

جیکب آباد میں خسرہ وباء پھیل گئی، ایک ہی گھر کے دو معصوم بچے فوت، کئی بچے مبتلا، محکمہ صحت نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں خسرہ کی وباء پھیل گئی ہے، خسرہ کی وباء کے باعث جیکب آباد کی تحصیل ٹھل میں کئی بچے زندگی اورموت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، ٹھل کی یونین کونسل دین پور کے گاؤں محمد رحیم جعفری میں ایک ہی گھر کے دو معصوم بچے اسمہ جعفری اور مزمل جعفری خسرہ میں مبتلا ہوکر فوت ہوچکے ہیں جبکہ اسی گھر میں دیگر بچے بھی خسرہ کی لپیٹ میں ہیں، جیکب آباد میں خسرہ کی تباہکاریوں کے باوجود محکمہ صحت کے حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور دو معصوم بچوں کی ہلاکت اور کئی بچوں کے مبتلا ہونے کے باوجود کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ خسرہ کی وباء پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیاد پر اقدامات کرکے معصوم بچوں کی زندگیاں بچائی جائیں۔

جیکب آباد میں بدامنی، بیوپاریوں کا اجلاس، بدامنی پر تشویش کا اظہار، پولیس کو ایک ہفتے کی مہلت، شٹر بند ہڑتال کی دھمکی۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد شہر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر جیکب آباد کے بیوپاری تنظیموں کا مشترکہ اجلاس مقامی ہوٹل میں ہوا جس میں احمد علی بروہی، حاجی دیدار لاشاری، لالچند سیتلانی، حاجی محمد یوسف میمن اور دیگر نے شرکت کی، اجلاس میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اس موقع پر بیوپاری رہنماؤں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر ہوچکی ہے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے پولیس کو ایک ہفتے کی مہلت دی جاتی ہے اگر ایک ہفتے کے اندر شہر کی تمام پولیس پکٹوں کو بحال کرکے اہلکار مقرر نہ کئے گئے اور لوٹی گئی نقدی، موٹر سائیکلیں واپس نہیں کرائی گئی تو شہر بھر میں تین روز کے لیے شٹربند ہڑتال کرکے احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔

جیکب آباد میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، گرمی میں لوڈشیڈنگ کے باعث کاروبار مفلوج، عوام بلبلا اٹھے، شہریوں نے سیپکو کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں سیپکو کی جانب سے بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے جبکہ بجلی کی بندش کی وجہ سے شہر کا کاروبار مفلوج ہوکر رہ گیا ہے، جیکب آباد میں سیپکو حکام کی جانب سے 14 سے 16 گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ ٹرپنگ اس کے علاوہ ہے، جیکب آباد کے شہریوں کا کہنا ہے کہ قیامت خیز گرمی میں پورا پورا دن بجلی بند ہونے کی وجہ سے اذیت میں مبتلا ہوچکے ہیں، انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم نہ کیا گیا تو سیپکو حکام کے احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔