


لاہور() آکسفورڈ میں پاکستان آرتھوپیڈک ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ہڈیوں کے امراض اور ان کی تندرستی پر لیکچر اور سیمینار کا اہتمام،ملک کے معروف آرتھو پیڈک سرجن پروفیسر ڈاکٹر کامران بٹ کی شرکت، اس موقع پر ڈاکٹر کامران بٹ نے دیگر فیکلٹی ممبران کے ہمراہ ہڈیوں اور خصوصی طور پر اولڈ ایج مریضوں میں بڑھتے ہوئے امراض پر گفتگو کی اور اس حوالے سے اپنی پریزنٹیشن کو سیمینار کا حصہ بنایا۔اس حوالے بات کرتے ہوئے پروفیسر کامران بٹ کا کہنا تھا کہ بڑھتی عمر کے ساتھ جسمانی اعضاء کی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے، خاص طور پر ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ بزرگ افراد میں سب سے عام ہڈیوں کے امراض میں آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کا بھر بھرا ہو جانا)، جوڑوں کا درد (آرتھرائٹس)، اور ریڑھ کی ہڈی میں درد شامل ہیں۔ان امراض پر کی تشخیص پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہکیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی،
جسمانی سرگرمیوں میں کمی،
ہارمونی تبدیلیاں (خصوصاً خواتین میں مینوپاز کے بعد)،
بڑھتی عمر کے ساتھ میٹابولزم کا سست ہونا،سگریٹ نوشی اور شراب نوشی،کچھ دواؤں کے طویل استعمال کے اثرات ہیں جبکہ ان کی علامات میں
جوڑوں اور ہڈیوں میں مستقل درد،معمولی چوٹ سے ہڈیوں کا ٹوٹ جانا،کمر یا گردن میں اکڑاؤ،چلنے پھرنے میں دشواری۔پریزنٹیشن کے دوران پروفیسر کامران بٹ نے امراض کے تدارک اور احتیاطی تدابیر پر آگاہی دیتے ہوئے بتایا کہ متوازن غذا کے استعمال یعنی
کیلشیم، وٹامن ڈی، میگنیشیئم اور پروٹین سے بھرپور غذا کا استعمال ضروری ہے (دودھ، دہی، مچھلی، انڈے، بادام وغیرہ)۔ سورج کی روشنی میں روزانہ کم از کم 20 منٹ رہنا، وٹامن ڈی حاصل کرنے کا قدرتی ذریعہ ہے۔ہلکی پھلکی ورزش جیسے چہل قدمی، یوگا اور سادہ اسٹریچنگ مشقیں ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں اور
ڈاکٹر کے مشورے سے کیلشیم، وٹامن ڈی یا دیگر سپلیمنٹس کا استعمالکریں جبکہ
ہڈیوں کی کثافت (Bone Density) کا وقتاً فوقتاً ٹیسٹ کروائیں اور
گرنے سے بچاؤ کے لیے گھر میں رکاوٹیں کم کریں، موزے یا چپل پھسلنے والے نہ ہوں، روشنی کا مناسب انتظام ہو۔
=========================

اسماعیلی مسلم کمیونٹی نے ورلڈ ہیلتھ ڈے 2025 کی مناسبت سے آج جیلانی پارک، لاہور میں ایک خصوصی ہیلتھ کیمپ کا انعقاد کیا جس کا عنوان “ہیلتھ گالا 2025” رکھا گیا۔ اس فلاحی تقریب کا مقصد عوام میں صحت کے حوالے سے شعور بیدار کرنا اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا تھا۔
ہیلتھ گالا میں ماہرینِ صحت، ڈاکٹرز، نرسز، اور والنٹیئرز نے شرکت کی اور شہریوں کو مفت طبی معائنہ، بلڈ پریشر، شوگر، بی ایم آئی اور دیگر ضروری ٹیسٹ فراہم کیے۔ اس کے علاوہ ماہرین نے متوازن غذا، ذہنی صحت، جسمانی سرگرمیوں اور بیماریوں سے بچاؤ پر معلوماتی سیشنز بھی منعقد کیے۔
اس موقع پرگورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک تقریب نہیں، بلکہ صحت مند پاکستان کی طرف ایک قدم ہے۔ صحت صرف ایک ذاتی مسئلہ نہیں، یہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ ایک صحت مند قوم ہی ترقی یافتہ قوم بن سکتی ہے جبکہ چیئرمین اسماعیلی سِوک پاکستان نوید علی مانجی کا کہنا تھا کہ اپنی صحت کو اہمیت دیں، کیونکہ تندرستی ہی زندگی کی اصل خوشی ہے اور ہیلتھ گالا ہمیں وہ راہیں دکھاتا ہے جو تندرستی، فلاح اور خوشحالی کی طرف جاتی ہیں۔ شرکاء نے اس اقدام کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رکھے جائیں۔
اس کیمپ میں لاہور کے نامورہسپتال جن میں PKLI, Shaukat Khanum Hospital, Evercare Hospital, Fatima Memorial Hospital, Aas Trust, Manji Dental and Aesthetic Centre, IDC کے علاوہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے طبی ماہرین نے مفت طبی مشورے دیے۔ مختلف لیبارٹری ٹیسٹ پر ڈسکاؤنٹ بھی دستیاب تھا۔ کیمپ میں صحت سے متعلق مختلف عنوانات پر آگاہی فراہم کی گئی اور بچوں کی دلچسپی کے لیے گیمز کا بھی بندوبست کیا گیا تھا۔























