
خطرناک کیمیکل اور ڈٹرجنٹ ملا دودھ: شہر کے چائے خانوں میں 40 سال سے جاری زہریلا کاروبار
شہر کے چائے خانوں میں دودھ میں کیمیکل اور ڈٹرجنٹ ملا کر پیش کیا جا رہا ہے، جو عوام کی صحت کے لیے شدید خطرہ ہے۔ یہ غیر قانونی کاروبار گزشتہ 40 سال سے جاری ہے، لیکن متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ 1980 کی دہائی میں افغان مہاجرین کو روزگار دینے کے لیے شہر میں چائے کی دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اب یہی کاروبار عوام کی صحت سے کھیل رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومتی ادارے اس خطرناک عمل سے لا علم ہیں، یا پھر جان بوجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں؟



صحت کے ماہرین کے مطابق، یہ ملاوٹ شدہ دودھ پیٹ کی بیماریوں، جگر کے مسائل اور یہاں تک کہ کینسر کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ عوام کو فوری طور پر اس معاملے میں احتجاج کرنا چاہیے اور حکام سے سخت کارروائی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
سوال:
کیا محکمہ صحت اور فوڈ اتھارٹی اس معاملے میں غفلت برت رہے ہیں؟
کب تک عوام کو زہریلی چائے پینے پر مجبور کیا جائے گا؟
کیا اس خطرناک کاروبار کے پیچھے کسی مافیا کا ہاتھ ہے؟
===================
سندھ فوڈ اتھارٹی کی ٹی سیمپلنگ مہم، ملاوٹ شدہ چائے کے خلاف کارروائی جاری
سندھ فوڈ اتھارٹی نے اس مہم کے ذریعے چائے میں ہونے والی خطرناک ملاوٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے انسپیکشن کا آغاز کر دیا ہے۔
شہر کے چائے خانوں کی سیمپلنگ مہم کے دوران مختلف علاقوں سے 110 چائے کی پتی اور 127 دودھ کے نمونے حاصل کیے گئے۔
ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی آصف جان صدیقی
جس میں 57 نمونے ایسے پائے گئے جن میں مصنوعی رنگ اور 72 نمونو میں Polyphenols پولی فینولز پائے گئے۔ آصف جان صدیقی
جب کہ 54 دودھ کے نمونوں میں ملاوٹ پائی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی
آصف جان صدیقی
دودھ اور چائے کی پتی کے جمع کیے گئے نمونوں کا معائنہ سندھ فوڈ اتھارٹی اور کراچی یونیورسٹی کی مشترکہ لیبارٹری میں کیا گیا۔ آصف جان صدیقی
ضلع ساؤتھ سے 43 نمونے حاصل کیے گئے، جن میں 27 چائے کی پتی میں مصنوعی رنگ اور 19 دودھ کے نمونوں میں ملاوٹ پائی گئی۔
ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی
کورنگی سے 16 نمونے حاصل کیے گئے، جن میں 6 چائے کے نمونے ملاوٹ شدہ اور 9 دودھ کے نمونے غیر معیاری پائے گئے۔
ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی
ویسٹ سے 7 نمونے حاصل کیے گئے، جن میں 3 دودھ کے نمونوں میں ملاوٹ پائی گئی۔
ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی
کیماڑی سے 13 نمونے حاصل کیے گئے، جن میں 7 میں رنگ کی ملاوٹ جبکہ 6 دودھ کے نمونے غیر معیاری نکلے۔
ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی
ایسٹ سے 16 نمونے لیے گئے، جن میں 5 رنگ آمیزی شدہ اور 5 دودھ کے نمونے ملاوٹ شدہ پائے گئے۔
ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی
ملیر سے بھی 16 نمونے حاصل کیے گئے، جن میں 9 چائے کے نمونے ملاوٹ شدہ اور 10 دودھ کے نمونے ناقص معیار کے نکلے۔
ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی
سینٹرل سے 12 نمونے حاصل کیے گئے، جن میں 3 چائے میں رنگ کی ملاوٹ اور 2 دودھ کے نمونوں میں ملاوٹ پائی گئی۔
ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی
شہریوں کو محفوظ اور معیاری اشیائے خور و نوش کی فراہمی پر کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی آصف جان صدیقی
اتھارٹی کی جانب سے ملاوٹ کرنے والوں کی خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی آصف جان صدیقی























