انتہائی پڑھے لکھے باپ کے انتہائی دولت مند بیٹے کی کہانی ۔جیوے پاکستان کی زبانی قسط نمبر 2

انتہائی پڑھے لکھے باپ کے انتہائی دولت مند بیٹے کی کہانی ۔جیوے پاکستان کی زبانی قسط نمبر 2

عفیف گروپ کا نام تو کافی عرصے کی محنت سے بنا عفیف 1983 میں پیدا ہوا میں نے اپنے بیٹے کے نام پر ہی اپنی کمپنی شروع کی اس وقت تو کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ کمپنی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اتنی کامیابی اور وسعت اختیار کرے گی کہ اس کمپنی کی جگہ اسے ایک گروپ کا نام ملے گا لیکن میرے ذہن میں بڑے خواب تھے جن کی تکمیل کے لیے دن رات محنت کرتا ابتدا تو عفیف پرنٹنگ پریس سے کی تھی اس سے پہلے 1982 میں جو شاداب پرنٹنگ پریس خریدا تھا وہ پھر بھائیوں کے حوالے کر دیا شروع شروع میں عام مارکیٹ کے کاموں سے ہی ہم نے گزارا کیا پھر کام میں جدت لائے ہم نے اپنے کسٹمرز کی ضرورت کو اسٹڈی کیا کسی بھی کاروبار کو بڑھانے کے لیے ریسرچ ڈیویلپمنٹ کا کام بہت ضروری ہے میں اپنی ذات میں ہی ایک ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا کام کرتا ہوں یہ شروع سے میرا شوق رہا میں نے اپنے کسٹمرز کی ضروریات کو سمجھنے کے لیے ان کے کام کو سٹڈی کیا کس کسٹمر کو کس جگہ مشکل پیش اتی ہے کہاں اس کا وقت ضائع ہوتا ہے کہاں وہ پریشان ہوتا ہے کہاں میں اس کی مدد کر سکتا ہوں

یہ سب کچھ سیکھنے کے لیے پہلے آپ کو مسئلے کی جڑ تک جانا پڑتا ہے اچھی سٹڈی کریں گے تو آپ کو کہ سمجھ میں آئے گا اور اس کے بعد آپ کوئی حل پیش کر سکیں گے ہم نے فارما اور فاسٹ فوڈ کی پیکجنگ سے اپنے کام کو بہت آگے بڑھایا یہ بات طے ہے کہ راتوں رات کامیابی نہیں ملتی اس کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے قابلیت پیدا کرنی پڑتی ہے صلاحیت کا استعمال کرنا پڑتا ہے

میرا شروع سے ماننا تھا کہ پاکستان دنیا میں کاروبار کے لیے ایک بہترین جگہ ہے کیونکہ یہاں باصلاحیت لوگ موجود ہیں ان میں ذہانت ہے قابلیت ہے پاکستان میں دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں لیبر سستی ہے یہ ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ہمارے ملازمین محنت کرتے ہیں اور وفادار ہوتے ہیں پاکستان میں کاروبار کتنا منافع بخش ہے اس کا اندازہ تو آپ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی کارکردگی سے لگا سکتے ہیں اگر 10 سال کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو جتنا منافع ملٹی نیشنل کمپنیوں نے پاکستان سے کمایا ہے دنیا کے کسی اور ملک سے اتنا منافع نہیں کمایا اب پاکستان 24 کروڑ عوام پر مشتمل ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے اس لیے یہاں پر فوکس کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بہت زیادہ گرو کیا ہے ہماری جدوجہد کی کہانی 1975 سے 1978 کے دوران کی ہے شروع کے سال مشکل تھے بہت محنت کرنا پڑی لیکن اس کے بعد قدرت کی جانب سے محنت کا ثمر ملتا ہے اور ہمیں بھی ملا ۔


ہماری اولین کوشش رہی کہ ہم کوالٹی پر کبھی کمپرومائز نہ کریں اور بہترین سروس فراہم کریں ہم نے جس کام میں ہاتھ ڈالا اس میں 100 پرسنٹ پرفیکشن کی ضرورت ہوتی ہے یہ بہت حساس کام ہے پرنٹنگ اور پیکجنگ دونوں ہی بہت ٹیکنیکل کام ہے اور جب ہم کوئی کافی کا کپ بناتے ہیں تو ہمارے ساتھ اس کمپنی کی ساکھ داؤ پر لگ جاتی ہے اگر ہم 100 پرسنٹ پرفیکشن کا خیال نہیں رکھیں گے تو ایک کافی کا کپ لیک ہونے پر اس کمپنی کی پچھلی 100 دنوں کی کسٹمر ریلیشن شپ ضائع ہو سکتی ہے کیونکہ اگر اپ کسی کمپنی کا کافی کپ لے رہے ہیں روزانہ کافی پیتے ہیں اور اگر ایک دن اس کافی کپ میں کافی لیک ہو گئی کپڑے خراب ہو گئے تو اپ کی 100 روز کی جو ریلیشن شپ تھی وہ سب ضائع ہو جاتی ہے اس لیے ہمیں اپنے ہر کپ کو محفوظ رکھنا ہے پائیدار بنانا ہے اور اس میں غلطی کوئی گنجائش نہیں پیپر پیکنگ اور پیپر پرنٹنگ اور پیپر کی بنی ہوئی چیزوں میں نزاکت بھی ہے اور کوالٹی کا بہت زیادہ خیال رکھنا پڑتا ہے ۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ کسٹمرز کی پرابلم کیا ہے وہ کون سی مشکلات فیس کر رہا ہے اس بارے میں ہم نے بہت سٹڈی کی -مثال کے طور پہ ہم نے دیکھا کہ ہمارے کلائنٹ کو ملائشیا سے چیزیں امپورٹ کرنی پڑتی ہیں اس کا پیپر ملائشیا سے آتا ہے تو اس کی شپمنٹ ڈیلے یا تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے کبھی اسے ڈیوٹی بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے تو کبھی ٹیکس بڑھنے کا مسئلہ ہوتا ہے ہم نے ان تمام مسائل کا حل نکالا اور ون ونڈو سروس کے طور پر خود کو پیش کیا سارے مسائل اور سارا درد سر خود اٹھایا اور کسٹمر کے لیے سہولت پیدا کر دی اسی طرح ہم نے دیکھا کہ ایک اور مشہور برانڈ جو ہے وہ پاکستان میں پلاسٹک کے معاملات میں پرابلم کا شکار تھا پلاسٹک کپ نہیں لے رہا تھا ہم نے اس کے لیے اپنی خدمات فراہم کی اور کسٹمر یا ہمارا کلائنٹ جب خوش ہوا ہم سے راضی رہا تو ہمارا کام بڑھتا چلا گیا شروع شروع میں تو ہم نے صرف کراچی اور پاکستان کی مارکیٹ کو ہی ٹارگٹ کیا تھا لیکن ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ ایکسپورٹ میں زیادہ گنجائش ہے دنیا بھر میں اس کام کی مانگ ہے اور پاکستان میں ایسا کام کرنے والی کمپنیاں کم ہیں ہم نے اس میں قدم رکھا اور بڑی محنت کی اور پاکستانی کمپنی کے طور پر جب ہم اپنی پروڈکٹس کو آج 14 ملکوں میں لے جا رہے ہیں وہاں ایکسپورٹ کر رہے ہیں تو یہ ہمارے لیے ہی نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے لیے ایک باعث مسرت بات ہونی چاہیے اور یہ پاکستان کی عزت بڑھاتا ہے کہ ہماری کمپنی یا پاکستان کی کمپنی مختلف ملکوں میں مصنوعات لے کر جاتی ہے اور کامیابی حاصل کرتی ہے پاکستان کی بات کریں تو 90 فیصد پاکستانی مارکیٹ پر جو پیپر کی مارکیٹ ہے یا پلاسٹک گلاسز وغیرہ ہیں آئس کریم کپ ہیں اس میں ہم اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں ہاں یہ بات ٹھیک ہے کہ آپ کو محنت کرنی پڑتی ہے کبھی کبھی آپ کو 24 24 گھنٹے اور کبھی 48 گھنٹے تک گھر نہیں جانا ہوتا بلکہ کام میں مگن اور مصروف رہنا ہوتا ہے ایک بات میں اکثر کہتا ہوں کہ کاروبار


صبح جلدی شروع کرنے میں برکت ہے پاکستان میں کاروبار تاخیر سے شروع ہوتا ہے جو اچھی بات نہیں مجھے تو صبح ساڑھے آٹھ بجے بزنس پر چلے جانے میں ہی مزہ آتا ہے کیریئر کے شروع کے دنوں میں تو میں سات بجے کام پر لگ جاتا تھا اب میں نے وقت میں تھوڑا توازن قائم کیا ہے اور ساڑھے چھ بجے کام بند کر کے اپنے لیے ٹائم نکالتا ہوں اس کے بعد فیملی کو بھی ٹائم دیتا ہوں ٹریولنگ اور بیڈمنٹن اور پبلک ریلیشننگ کو کہا جا سکتا ہے کہ یہ میرے پسندیدہ مشغلے ہیں یا ان باتوں سے میں خوشی محسوس کرتا ہوں اور میں لوگوں کے ساتھ ملتا ہوں اور دوستیاں بناتا ہوں کاروبار کے اندر احتساب بہت ضروری ہوتا ہے جب بھی ہماری کمپنی اور گروپ میں کوئی میٹنگ ہوتی ہے تو سب سے پہلے میں خود کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں اور اپنے لوگوں سے کہتا ہوں کہ مجھ پر تنقید کرو میرے فیصلوں کی غلطیاں بتاؤ ۔اکثر لوگ امریکہ کے بارے میں مختلف خیالات رکھتے ہیں لیکن میرا کہنا ہے کہ امریکہ شروع سے ہی پاکستان کا محسن ہے 1947 سے لے کرآج تک ایکسپورٹ مارکیٹ میں امریکہ نے ہمیں جو جگہ گنجائش دی کسی اور نے نہیں دی امریکہ سے ایکسپورٹ مارکیٹ میں بہت گیپ ہے اس گیپ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے پاکستانی امریکیوں کو بزنس پر فوکس کرنا چاہیے اور پاکستان کے ساتھ امریکہ کی تجارت بڑھانے میں کردار ادا کرنا چاہیے


امریکہ میں بہت کامیاب اور بہت مالدار پاکستانی اپنا کاروبار کر رہے ہیں انہیں چاہیے کہ پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ ہاتھ ملائیں اور ان کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں ہماری کمپنی کی شان ہے کہ ہمیں ایک چھت کے نیچے سب سے بڑے مینوفیکچر کے طور پر سامنے آئے ہیں پیپر اور پلاسٹک کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے میں ہماری کمپنی کا اس ملک میں کافی بڑا کردار رہا ہے جس کو سب مانتے بھی ہیں اور دنیا بھر میں ہماری چیزوں کو ہماری مصنوعات کو سراہا جاتا ہے جو ہمارے گروپ کے لیے اعزاز کی بات ہے اور ہم نے اپنے وطن کی خدمت کی ہے ہمیں خوشی ہے کہ ہم پاکستان کا نام 14 ملکوں میں اپنی مصنوعات ایکسپورٹ کر کے روشن کر رہے ہیں ان ملکوں میں کینیڈا امریکہ برطانیہ دبئی کویت قطر بحرین مسقط جیسے ملک شامل ہیں ہمارے پاس ایسے کلائنٹس بھی ہیں جو پاکستان میں کام نہیں کرتے بلکہ دنیا میں ان کا بڑا نام ہے ہم ان کے لیے بھی مصنوعات تیار کر کے بھیجتے ہیں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ دنیا میں کام بہت ہے اور یہ تو بہت بڑی انڈسٹری ہے 9 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ ہے پیکجنگ کے دنیا میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے نوجوانوں کو اس جانب ضرور توجہ دینی چاہیے کام کو سمجھنا چاہیے سیکھنا چاہیے پڑھنا چاہیے اور پڑھ لکھ کر سٹڈی کر کے ریسرچ کر کے کام کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اب دنیا گرین پیکجنگ پر کام کر رہی ہے ہمارا بھی سلسلے میں بہت کام ہے ہم نے بہت ریسرچ بھی کی ہے ریسائیکل پیپر پر کافی کام کر رہے ہیں دنیا بھر میں کاروباری کمپنیاں اپنے ملازمین اور سٹاف کا بہت خیال رکھتی ہیں ہم بھی ان اصولوں کے مطابق

کام کرتے ہیںملازمین کی مدد بچوں کی تعلیم ان کو باہر بھیجنے اور ان کے علاج معالجے کے لیے ہر قسم کی سہولت فراہم کرنا ہمارے لیے باعث اعزاز ہوتا ہے اس لیے ہمارے ملازمین ہمارا سٹاف ہمارے ساتھ جڑا ہوا ہے اور کئی ملازمین تو شروع دن سے ہمارے ساتھ ہیں کوئی بھی کمپنی ہے جب تک اپنے ملازمین کو خوش نہیں رکھے گی ان کا اور ان کے گھر والوں کا خیال نہیں رکھے گی وہ ملازمین اپنی کمپنی کے ساتھ کیسے خوش رہ سکتے ہیں ۔ہمارا گروپ

مختلف این جی اوز کے ساتھ مل کر لوگوں کی مدد کرتا ہے ہمارے یہاں سے راشن بیگز کی فراہمی بھی کی جاتی ہے سرکاری ہسپتالوں میں مفت کھانا کھلانے کا انتظام بھی کیا گیا ہے غریب ورکرز کا زیادہ خیال رکھتے ہیں ان کی امداد کرتے ہیں شادی بیاہ یا دکھ سکھ کے موقع پر ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ۔پاکستان میں جب بھی کوئی مشکل وقت آتا ہے کوئی ناگہانی آفت آتی ہے تو ہمارا گروپ بھی امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے چاہے وہ زلزلہ تھا یا سیلاب یا کوئی اور موقع ۔ کرونا کے مشکل دور میں ہمارے گروپ اور ہماری کمپنیوں نے بہت کچھ سیکھا اور ہم نے ان سے سیکھ کر اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے مواقع سے فائدہ اٹھایا ۔ ہمارا گروپ مختلف ادوار میں چیلنجوں کا سامنا کرنے میں خوشی محسوس کرتا رہا اور چیلنجوں کا پوری کامیابی سے مقابلہ کر کے آگے بڑھا ۔ میرا بیٹا عفیف اس گروپ کا سی ای او ہے اور نئی کمپنی عفیف اینڈ زارا کمپنی کے تحت کام کو مزید آگے بڑھا رہا ہے پاکستان میں کاروبار کو وسعت دینے کے لیے بہت سے مواقع موجود ہیں اگر آپ ہمت ذہانت اور لگن سے کام کرنا چاہتے ہیں تو کبھی یہ مواقع کم نہیں ہوں گے ہمارے سامنے بھی نئی مارکیٹ ہے اور نئے مواقع موجود ہیں جن پر کام کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔جاری ہے