سیاحتی مقامات کی طرف جانے والے لوگ اکثر چھوٹی گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار کر لیتے ہیں جو حادثات کا ایک سبب ہے

سیاحتی مقامات کی طرف جانے والے لوگ اکثر چھوٹی گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار کر لیتے ہیں جو حادثات کا ایک سبب ہے


راولپنڈی سے گلگت جانے والی آلٹو کار کھائی میں
جاگری جس کے نتیجے میں راولپنڈی کینٹ کے
رہائشی آصف اقبال پوری فیملی سمیت چل بسے ہیں
انا للہ وانا الیہ راجعون
یہ حادثہ لوئر کوہستان کے علاقہ
مُٹہ بانڈہ میں شاہراہ قراقرم پر پیش آیا ہے۔

سیاحت کا موسم شروع ہے۔ شمالی علاقہ جات میں جہاں ہر موڑ پر نئے رنگ سامنے آتے ہیں۔ وہاں ان کی سڑکیں اور راستے بھی انتہائی محتاط رویے کا تقاضا کرتے ہیں۔ اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں۔

ڈرائیونگ کرنے والے کو راستوں کی رنگینیوں میں کھو جانے کے بجائے اس بات کو ہر لمحہ یاد رکھنا چاہیے کہ ڈرائیور کے ہاتھ میں صرف گاڑی کا اسٹیئرنگ ہی نہیں بلکہ سوار افراد کی زندگیاں بھی ہوتی ہیں۔

پولیس کے مطابق حادثے میں ایک مرد ، دو خواتین اور پانچ بچوں سمیت آٹھ افراد جان بحق ہو گئے ہیں۔ کوہستان والنٹیئر فورس کے عبدالقیوم کے مطابق لاشوں کو منتقل کر لیا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ تیزرفتاری کے سبب پیش آیا۔آلٹو گاڑی میں آٹھ افراد سوار تھے ، یقینا سامان بھی ہو گا۔ اس لیے گنجائش سے زیادہ افراد کا موجود ہونا بھی حادثہ کا سبب ہوسکتا ہے