
کشادہ شاہراہوں کے باوجود اذیت ناک حد تک ٹریفک جام شہر و شہریوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی بدنیتی کی دلیل ہے، شہر کی سڑکوں پر جابجا پڑے گڑھے اطراف میں لگے پتھارے اور تجاوزات نے مسترد شدہ جعلی انتخابات کے ذریعے مسلط نام نہاد مقامی حکومت کے دعوؤں کی قلعی کھول دی (شفیق جان درانی )
سترہ سالوں سے چلنے والے منظم سسٹم کے توسط سے عروس البلاد شہر کراچی کسی گاؤں گوٹھ کا منظر پیش کرنے لگا ہے اور کراچی کی سڑکوں چوراہوں پر گاڑیاں تو درکنار پیدل سفر کرنے والوں کا گزرنا محال ہوچکا ہے(عزیر شاہ )
کراچی(اسٹاف رپورٹر ) تحریک جوانان پاکستان کراچی ڈویژن کے صدر شفیق جان درانی اور صدر ھیومن رائیٹس و لیبر ونگ عزیر شاہ نے اپنے جاری مشترکہ بیان میں کراچی میں ٹریفک کی بدترین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی سڑکوں پر جابجا پڑے گڑھے اطراف میں لگے پتھارے اور تجاوزات نے مسترد شدہ جعلی انتخابات کے ذریعے مسلط نام نہاد مقامی حکومت کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے جن پر گاڑیاں تو درکنار پیدل سفر کرنے والوں کا گزرنا محال ہوچکا ہے سترہ سالوں سے چلنے والے منظم سسٹم کے توسط سے عروس البلاد شہر کراچی اب کسی گاؤں گوٹھ کا منظر پیش کرنے لگا ہے،
اپنے بیان میں مزید کہا کہ صوبے اور شہر میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہونے کے باوجود ترقی صرف بیانات تک محدود ہے کشادہ شاہراہوں کے باوجود اذیت ناک حد تک کا ٹریفک جام شہر کے ساتھ روا رکھے جانے والی بدنیتی کی دلیل ہے ہزاروں ارب روپے محصول دینے والے شہر کراچی کو ڈیڑھ دہائی سے زائد بلاشرکت غیرے حکومت کرنے والی جماعت ٹریفک کا منظم و مستحکم نظام دینے تک میں ناکام رہی ہے روٹی کپڑا اور مکان تو بہت دور کی بات بلکہ کسی دیوانے کا خواب بن گیا ہے،
عزیر شاہ کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں کی حالتِ زار پر رحم کیا جائے اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ پیدا کرنے والے عوامل کو دور کیا جائے جن کے باعث لمحوں کا سفر گھنٹوں پر محیط ہو جاتا ہے۔























