
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہر صوبے میں ایک پارلیمانی نظام ہوتا ہے اور ہم سیاستدان انتخابات میں کامیاب ہوکر حکومتوں میں آتے ہیں اور اپنے اپنے محکموں کے وزیر بنتے ہیں لیکن اس کا یہ مقصد نہیں کہ ہم سب اس حوالے سے پیشہ ورانہ طور پر ہر شعبہ میں مہارت رکھتے ہوں۔ جب تک ہر شعبہ کے ماہر اور حکومتیں مل کر کوئی پلان نہیں بناتی عوام کو سہولیات کی اس طرح سے فراہمی ممکن نہیں جو مل کر فراہم کہ جاسکتی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پاکستان کے آرکیٹیکٹ دنیا کے بہترین آرکیٹیکٹ میں سے ہیں۔ پاکستان کے آرکیٹیکٹ کو اللہ تعالٰی نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ دنیا بھر میں جاکر وہاں کے آرکیٹیکٹ کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز ایکسپو سینٹر کراچی میں 3 روزہ آئیپیکس ایکسپو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیئرپرسن انسٹیٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس پاکستان (کراچی چیپٹر) مس میثال مرچنٹ، کنونئیر آئیپیکس مس افشاں جمشید، کریٹیو ہیڈ ندیم الحسن، کانفرنس کنونئیر حیا قادری و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ انسان کی کچھ بنیادی ضروریات ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پاکستان کے آرکیٹیکٹ دنیا کے بہترین آرکیٹیکٹ میں سے ہیں اور آج دنیا کہ بہت سے ممالک کے مقابلے پاکستان کے آرکیٹیکٹ کے بنائے گئے گھر پاکستان میں بنائے گئے گھروں سے بہتر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے آرکیٹیکٹ کو اللہ تعالٰی نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ دنیا بھر میں جاکر وہاں کے آرکیٹیکٹ کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ میں
حکومت سندھ کی جانب سے آپ لوگوں کو یقین دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اس شعبہ کے حوالے سے مکمل سپورٹ فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ایک پارلیمانی نظام ہوتا ہے اور ہم سیاستدان انتخابات میں کامیاب ہوکر حکومتوں میں آتے ہیں اور اپنے اپنے محکموں کے وزیر بنتے ہیں لیکن اس کا یہ مقصد نہیں کہ ہم سب اس حوالے سے پیشہ ورانہ طور پر ہر شعبہ میں مہارت رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نظام حکومت چلانے کے لئے ہمیں لازمی ہر شعبہ کے ماہرین کی ضرورت پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے شعبہ صحت ہو یا شعبہ تعلیم یا اور کئی اور ایسے محکمہ ہیں جن میں بہت کام کیا ہے، یہ صرف اس محکمہ کے وزیر یا وزیر اعلٰی سندھ نہیں کرسکتے تھے بلکہ ان کے ساتھ بہت بڑے بڑے نام اس ملک اور صوبے کہ جیسا کہ صحت میں ڈاکٹر ادیب رضوی، ڈاکٹر باری ہیں وہ ہمارے ساتھ نہ ہوتے۔ اسی طرح شعبہ تعلیم میں تعلیمی ماہرین اگر ہمارے ساتھ کھڑے نہ ہوتے تو تعلیم کے شعبہ میں جتنی صوبہ سندھ میں اصلاحات ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں وہ اس طرح نہیں ہوسکتی تھی۔ سعید غنی نے کہا کہ آپ کا شعبہ کے حوالے سے بھی جہاں آپ اس صوبے کے لئے حصہ ڈال سکتے ہیں اس میں آپ کے شعبہ کے ماہرین حکومت کے ساتھ مل کر کوئی مشترکہ کاوشیں یا کوئی پلان بنائے جاسکتے ہیں، جس میں آپ لوگوں کی مہارت اور سندھ حکومت کے وسائل کو ملا کر اس صوبے کو ترقی کرسکتے ہیں اور اس سے ہم اس صوبے کے عوام کے معیار زندگی کو جدید خطوط پر استوار کرسکتے ہیں۔ اس موقع پر نمائش کے منتظمین نے کہا کہ 2025 – IAPEX 2025، پاکستان کی سب سے بڑی تعمیراتی مواد کی نمائش ہے، جو گزشتہ 20 برس سے ہر سال ملک کے مختلف شہروں میں منعقد کہ جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکچر کے زیر اہتمام پاکستان، کراچی چیپٹر (IAP-KC)، کے اس ایونٹ میں 250 سے زیادہ عالمی نمائش کنندگان کو اکٹھا کیا گیا ہے، جس میں جدید تعمیراتی مواد، پائیدار ٹیکنالوجی، اور جدید ڈیزائن کی نمائش ایسے حل جو فن تعمیر اور تعمیر کے مستقبل کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ نمائش صرف تعمیراتی مواد کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ تبدیلی کو سمجھنے کے بارے میں ہے۔ اس نمائش میں معروف پاکستانی اور بین الاقوامی آرکیٹیکٹس کو مدعو کیا گیا ہے، جو فن تعمیر کی متحرک ترقی پر بحث کرنے کے لیے باب، اس کی بھرپور تاریخ سے لے کر اس کے مستقبل کی سوچ تک کانفرنس ماضی (Kal) کی بھرپور تعمیراتی میراث پر روشنی ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نمائش اس بات کی عکاسی کرے گی کہ کیسے روایتی ڈیزائن نے جدید طریقوں کو متاثر کیا ہے۔ اس کے بعد یہ موجودہ (آج) میں منتقل ہو جائے گا، اس نمائش کو مقصد آج کے تعمیر شدہ ماحول کو تشکیل دینے والے جدید خیالات اور پائیدار حلوں کا جائزہ لینا ہے۔اس نمائش کا ایک مقصد ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان فرق کو ختم کرنا بھی ہے اور ماحول دوست مواد، جدید ڈیزائن کے طریقوں، اور تکنیکی ترقی میں تعمیرات اور فن تعمیر کی صنعتوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ بعد ازاں صوبائی وزیر سعید غنی نے نمائش کے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا اور تعمیراتی صنعت کے حوالے سے جدید ٹیکنالوجی کے میٹیریل کے حوالے سے معلومات حاصل کی۔
جاری کردہ: زبیر میمن، میڈیا کنسلٹینٹ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی























