
کراچی کا سنہرا ماضی – تصاویر اور تاریخ (1880–1960) | ماضی اور حال
Karachi’s Golden Past | Photos & History (1880–1960) | Past And Present
کراچی کا سنہری ماضی: تصاویر اور تاریخ (1880–1960)
کراچی، جو آج پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، کبھی ایک چھوٹا سا ماہی گیروں کا گاؤں ہوا کرتا تھا۔ برطانوی دور میں اس شہر کو جدید بنیادوں پر استوار کیا گیا، جس کے بعد کراچی دنیا کے بہترین بندرگاہی شہروں میں شمار ہونے لگا۔
1946 کی ایک تصویر میں کراچی کی ایک خوبصورت سڑک نظر آتی ہے، جہاں گھوڑا گاڑیوں کا راج تھا۔ 1910 کی بندر روڈ پر لوگ پیدل سفر کو ترجیح دیتے تھے، جبکہ سڑک کنارے کوئی دانت نکالوا رہا ہوتا، کوئی حجام سے حجامت بنوا رہا ہوتا اور کوئی نجومی سے اپنی قسمت کے بارے میں پوچھ رہا ہوتا۔
اس دور میں کراچی کی سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسیں بھی چلتی تھیں۔ شہر کے ہر کونے میں صفائی اور امن تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ یہ شہر بدل گیا۔ بیرونی لوگوں کی آمد نے آبادی بڑھا دی اور شہر میں رش، ٹریفک کے مسائل اور دیگر پریشانیاں جنم لینے لگیں۔
1920 کی دہائی کی منوڑہ کی تصویر میں لائٹ ہاؤس اور سینٹ پال چرچ دکھائی دیتے ہیں، جو آج بھی موجود ہیں۔ 1950 کی دہائی میں کراچی کی سڑکوں پر ٹرام چلا کرتی تھی، جو 1975 تک شہریوں کی سواری رہی۔ بولٹن مارکیٹ، وکٹوریہ روڈ (اب عبداللہ ہارون روڈ)، اور فریر ہال جیسی تاریخی عمارتیں آج بھی کراچی کی شاندار تاریخ کی گواہ ہیں۔
لیکن افسوس کہ ہم نے اپنی ورثے کی حفاظت نہیں کی۔ کئی عمارتیں، جیسے لی مارکیٹ، اب خستہ حالی کا شکار ہیں۔ ایمپریس مارکیٹ جیسی تاریخی جگہیں بھی غیرقانونی قبضوں کی نذر ہوگئی تھیں، لیکن حال ہی میں انہیں بحال کیا گیا ہے۔
کراچی کا سنہری ماضی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ اور ثقافت کو محفوظ رکھنا چاہیے۔ اگر آپ کراچی کی پرانی تصاویر اور تاریخ دیکھنا چاہتے ہیں، تو یہ ویڈیو ضرور دیکھیں۔
Sindhi News Story:























