یوم مئی: کام کا ماحول غیر محفوظ ہونے کے باعث معذور افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، عابد لاشاری

نوابشاہ: عالمی یومِ مزدور کے موقع پر نیشنل ڈس ایبلیٹی اینڈ ڈیولپمنٹ فورم (NDF) کے صدر عابد لاشاری نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں رسمی اور غیر رسمی شعبوں میں محنت کرنے والے مزدوروں کی انتھک محنت کو سراہتے ہیں، مگر اس جشن کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ کام کی خطرناک صورتحال کی وجہ سے پاکستان میں معذور افراد (PWDs) کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور وفاقی و صوبائی حکومتیں ان کے تحفظ اور معاونت میں ناکام رہی ہیں۔
عابد لاشاری نے کہا کہ پاکستان میں روزگار کے مقامات پر ہونے والے حادثات اور زخمی ہونے کے واقعات کو ریکارڈ کرنے کے نظام انتہائی کمزور ہیں، خاص طور پر غیر رسمی شعبے میں، جہاں سب سے زیادہ حادثات، زخمی ہونے اور بعض اوقات اموات کے واقعات ہوتے ہیں، جن کے باعث کئی افراد معذوروں کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر تعمیراتی مقامات، کانوں، کارخانوں، سمندری ماہی گیری، اور زراعت (خصوصاً کپاس چننے اور کیمیکل اسپرے کرنے) کے شعبوں میں سندھ سمیت پورے پاکستان میں متعدد مزدور محفوظ کام کے ماحول کی عدم موجودگی کے باعث شدید زخمی ہو جاتے ہیں۔ ان کے بازو، ٹانگیں، آنکھیں اور دیگر اعضاء ضائع ہو جاتے ہیں، جو نہ صرف فرد کی زندگی کو تباہ کرتے ہیں بلکہ پورے خاندان کو شدید غربت کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ تاہم، ایسے بیشتر واقعات نہ ریکارڈ کیے جاتے ہیں اور نہ ہی ان پر توجہ دی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعمیراتی شعبے میں 90 فیصد سے زائد کام غیر رسمی طریقے سے ہوتا ہے، جہاں ٹھیکیدار روزانہ اجرت پر مزدوروں کو بھرتی کرتے ہیں۔ اکثر یہ مزدور اونچائی سے گر کر، مشینوں یا بجلی کے کرنٹ سے زخمی ہو جاتے ہیں، کیونکہ انہیں بنیادی حفاظتی سامان جیسے ہیلمٹ وغیرہ مہیا نہیں کیا جاتا۔ تعمیراتی شعبے کی طرح کئی دیگر غیر رسمی شعبے بھی ہیں، جیسے کہ کچرا چننا، اسٹریٹ وینڈنگ، ٹرانسپورٹ، گھریلو مزدوری، اور گھروں میں کام، جہاں حفاظتی اصولوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔
عابد لاشاری نے کہا کہ اگرچہ زیادہ تر غیر رسمی شعبوں کے مزدور تحفظ سے محروم ہیں، مگر رسمی شعبوں کے مزدور بھی مکمل تحفظ سے محروم ہیں کیونکہ مزدوروں اور حفاظت سے متعلق موجودہ قوانین پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ یہ نہ صرف قانون اور انصاف کی ناکامی ہے، بلکہ انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ جب مزدور کام کے دوران مستقل معذور ہو جاتے ہیں تو انہیں کئی طرح کی محرومیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسے کہ معاوضہ نہ ملنا، سرکاری صحت کی سہولیات سے محرومی، بحالی کی سہولت کا نہ ہونا، اور کوئی سماجی تحفظ میسر نہ آنا۔ ایسے مزدور پھر معذوروں کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں، اور ایک ایسے نظام میں جینے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو نہ زخمی ہونے سے پہلے ان کی حفاظت کرتا ہے اور نہ ہی بعد میں۔
سماجی تنظیم NDF نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رسمی اور غیر رسمی شعبوں میں مزدوروں کو کام کے دوران معذور ہونے سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مزدوروں کی صحت اور حفاظت سے متعلق قوانین پر عمل کیا جائے اور زخمی مزدوروں کے لیے فوری طبی اور مالی امداد کے نظام قائم کیے جائیں۔