
تحریر: سہیل دانش
ذرا سوچئے تو سہی کہ انسان بھی کیا چیز ہے۔ وہ زمین پر اپنی رصدگاہوں۔ لیبارٹریوں اور ریسرچ سینٹرز کے ذریعے نظام فلکی کی رگوں میں زندگی کے امکانات تلاش کررہا ہے اور اسی زمین پر وہ ایسے مہلک بیچ بو اور کاٹ رہا ہے جو انسان پر زندگی کا دائرہ مختصر سے مختصر کرتے جارہے ہیں۔ دنیا میں دو عطیم جنگیں ہوئیں جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم، پہلی جنگ پر 4 ہزار پانچ سو بلین ڈالر خرچ ہوئے، دوسری جنگ پر 15 ہزار بلین ڈالر صرف ہوئے۔ 1945 سے 1994تک دنیا میں 107 خوفناک جنگیں ہوئیں جن میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 90 لاکھ 73 ہزار افراد مارے گئے۔ اِن مرنے والوں میں سے 14 لاکھ 77 ہزار کا تعلق لاطینی امریکہ 9 لاکھ 93 ہزار مڈل ایسٹ اور نارتھ افریقہ، 41 لاکھ 25 ہزار افریقہ، ایک لاکھ 35 ہزار یورپ، 28 لاکھ 57 ہزار سینٹرل اور جنوبی ایشیا اور ایک کروڑ 3 لاکھ 56 ہزار مشرقی ایشیا کے رہنے والے تھے اِن 107 جنگوں میں 16 انتہائی غیرمعمولی جنگیں تھیں جن میں کوریا کی جنگ پر 3 سو 40، ویتنام پر 7 سو20، لبنان 77، افغانستان روس کے خلاف 116 ایران عراق ڈیڑھ سو اور خلیج کی جنگ میں 102 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ دنیا نے عراق، لیبیا، شام اور جنوبی ایشیا میں بھی جنگوں کے مناظر دیکھے، کون سا ایسا وقت رہا جب اقوام متحدہ کی امن فوج دنیا کے مختلف حصوں میں اپنا کردار ادا کرتی دکھائی نہ دی۔ اِدھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ دنیا سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کئی سال پہلے افغانستان کے شہر گردیز میں واقعہ ایک گاؤں پر قبضہ لینے کے لئے اتحادی فوجوں نے گیارہ دنوں تک اڑھائی ہزار مہلک بم برسائے جب قبضہ ہوگیا تو معلوم ہوا کہ وہاں القاعدہ اور طالبان کا ایک بھی سپاہی نہیں تھا۔ اسرائیل نے غزہ پر بم مار مارکر اُسے انسانوں کا قبرستان بنادیا۔ پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وہاں کے مکینوں کی مدد کرنے یا اُن کر زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اِس سرزمین کو “رولے کا پلاٹ” سمجھ کر اُسے تفریحی مقام بنانا چاہتا ہے۔ یہ ہے دنیا کی اصل صورتِ حال۔ یہ تماشا پوری دنیا میں ہورہا ہے کہ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس۔ انسانیت کے چیمپین بننے والے ترقی یافتہ ممالک یہ سارا تماشہ دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں اِن جنگوں میں ہزاروں لاکھوں لوگ مارے جاتے ہیں اور ان سے کہیں زیادہ زخمی اور معذور ہوجاتے ہیں اِس دنیا میں 30 ممالک کے پاس پینے کا پانی نہیں ہے، دنیا کے ایک ارب انسان کھلے آسمان تلے پڑے ہیں اور ایک ارب سے زائد افراد کو اقوامِ متحدہ کے ادارے غریب ڈیکلیئر کرچکے ہیں اِس دنیا میں مائیں بچوں کی روٹی کی جگہ زہر کھلاتی ہیں لوگ کھانے کے بدلے آنکھیں اور گردے بیچتے ہیں اِسی زمین، اِسی کرہ ارض پر کروڑوں بچے کچرا گھروں سے رزق نکال نکال کر کھاتے ہیں لیکن ہر روز نیا بم، نئی گولی اور نئی رائفل بنائی اور بیچی جاتی ہے اِسی دنیا کے زمین پر اتنی بارودی سرنگیں بچھ چکی ہیں کہ اگر وہ بیک وقت پھٹ جائیں تو آدھی سے زائد دنیا کی آبادی معذور ہوجائے گی۔ وہ زمین اور وہ دنیا جس پر اب خوف، دہشت، دُکھ، غم موت اور قبروں کے سوا کچھ باقی نہیں۔ لیکن تماشہ دیکھئے کہ خلائی، تحقیقاتی ادارہ ناسا موت کے اِن جزیروں میں بیٹھ کر مریخ پرزندگی کے آثار تلاش کررہا ہے۔ یہ انسان بھی کیا چیز ہے۔ بارودی سرنگ پر گلاب کی قلم لگاتا ہے، پھر اس کے پھلنے پھولنے کے خواب دیکھتا ہے اور پھر سوچتا ہے کہ اِس سے دنیا میں امن ہوجائے گا۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے۔ کیا ایسا ہوگا موت بوکر زندگی کاٹی جائے، انسانی کھوپڑی پر کھڑے ہوکر مریخ پر زندگی ٹٹولی جائے کیا یہ ممکن ہے؟
Load/Hide Comments























