حیدرآباد: جی ڈی اے کے گرفتار رہنما غلام مرتضیٰ جتوئی اسپتال منتقل سینے میں تکلیف اور بلڈ پریشر بڑھا ہوا تھا۔

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے گرفتار رہنما غلام مرتضیٰ جتوئی لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد منتقل کردیے گئے۔

اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ غلام مرتضیٰ جتوئی امراض قلب کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں منتقل کیے گئے ہیں۔

اسپتال کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کاشف شیخ کا کہنا ہے کہ غلام مرتضیٰ جتوئی کے سینے میں تکلیف اور بلڈ پریشر بڑھا ہوا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ غلام مرتضیٰ جتوئی کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں اور انہیں آبزرویشن میں رکھا گیا ہے۔
=================

کوٹ لکھپت جیل میں قید سینیٹر اعجاز چوہدری کی طبیعت ناساز

کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سینیٹر اعجاز چوہدری کی طبیعت ناساز ہونے پر انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

پی ٹی آئی رہنما کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کوٹ لکھپت جیل میں اعجاز چوہدری کی طبیعت ناساز ہوئی جس کے بعد انتظامیہ نے انہیں سخت سیکیورٹی میں اسپتال منتقل کیا۔

ترجمان کے مطابق اعجاز چوہدری کی طبیعت اب قدرے بہتر ہے
======================

قبر سے لیے گئے لاش کے نمونے مصطفیٰ عامر کے ہی ہیں، فارنزک لیب نے رپورٹ پولیس کے حوالے کردی، ذرائع

کراچی کے علاقے ڈیفنس کے نوجوان مصطفیٰ عامر کی قبر سے لیے گئے نمونے مصطفیٰ عامر کے ہی ہیں، سندھ فارنزک لیب نے نمونوں کی رپورٹ تیار کرلی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیل کی گئی رپورٹ پولیس حکام کے حوالے کر دی گئی، لاش سے لیے گئے نمونے مصطفیٰ عامر کے ہی ہیں۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ لیب گزشتہ رات سے کام کر رہی تھی، ایمرجنسی بنیاد پر ایک روز میں رپورٹ تیار کی گئی۔

مصطفیٰ کو جب گھر سے گاڑی میں ڈالا تو وہ زندہ تھا، ملزم شیراز کا انکشاف

خیال رہے کہ دوستوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے اور لاش کو حب میں لے جاکر جلانے والے نوجوان مصطفیٰ عامر کی گزشتہ روز قبر کشائی کی گئی تھی، جس کے بعد اس کی لاش سے نمونے حاصل کیے گئے تھے۔

تفتیشی حکام کا کہنا تھا کہ قبر سے مصطفیٰ عامر کی لاش نکالنے کے بعد نمونے حاصل کر لیے گئے تھے، جس کے بعد لاش کو ایدھی سرد خانے منتقل کیا گیا تھا۔

مصطفیٰ عامر کی قبر کشائی ڈاکٹر سمعیہ سید کی سربراہی اور مجسٹریٹ کی زیرِ نگرانی کی گئی تھی، حکام کا کہنا تھا کہ ڈی این اے رپورٹ کے بعد لاش کو لواحقین کے حوالے کر دیا جائے گا۔

اس موقع پر مصطفیٰ عامر کے والد بھی قبرستان میں موجود تھے۔

مصطفیٰ قتل کیس کے ملزم ارمغان کے منشیات استعمال کا معاملہ سامنے آنے پر متعدد افراد زیر حراست

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ڈی این اے کے لیے نمونے لے لیے گئے ہیں، لاش بہت زیادہ جلی ہوئی ہے وجہ موت کا تعین نہیں ہو سکے گا۔

پولیس سرجن کا کہنا تھا کہ نمونے لینے کے لیے بہت زیادہ مشکل ہوئی، 3 سے 7 دن میں ڈی این اے کی رپورٹ آ جائے گی۔

کیس کا پس منظر:۔
واضح رہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 6 جنوری کو لاپتہ ہونے والے مصطفیٰ کی لاش 14 فروری کے روز پولیس کو مل گئی تھی، مصطفیٰ کو اس کے بچپن کے دوستوں نے تشدد کرنے کے بعد گاڑی میں بٹھا کر جلا دیا تھا۔

کراچی: ڈیفنس کے بنگلے میں چھاپہ، پولیس کو خفیہ کمرے میں خون کے دھبے ملے، تفتیشی ذرائع

8 فروری کو مصطفیٰ کی بازیابی کیلئے ڈیفنس کے ایک بنگلے پر چھاپا مارا گیا تھا، گرفتار ملزم ارمغان کی فائرنگ سے ڈی ایس پی سمیت 2 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

23 سالہ مصطفیٰ عامر کی لاش ملنے کے بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مصطفیٰ عامر کو قتل کیا گیا، مصطفیٰ ارمغان کے گھر گیا تھا وہاں لڑائی جھگڑے کے بعد فائرنگ کرکے اس کو قتل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مقتول کی لاش کو گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر حب لے جایا گیا، لاش کو گاڑی میں جلایا گیا، ملزمان نے لاش کی نشاندہی کی، اب تک کی تحقیقات کے مطابق ارمغان اور شیراز نے گاڑی کو آگ لگائی۔