مصطفیٰ عامر قتل کیس میں لڑکیوں کا کیا کردار ہے؟ تفتیش کے دوران ملزم ارمغان کے گھر سے ایک لڑکی کا ڈی این اے سیمپل ملا، کیس میں کئی لڑکیوں کے نام سامنے آئے

کراچی : ایس ایس پی اینٹی والنٹ کرائم سیل انیل حیدر کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ عامر قتل کیس میں لڑکیوں کے کردار سے متعلق تفتیش جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کےعلاقے ڈیفنس میں مصطفیٰ اغوااورقتل کیس میں اینٹی والنٹ کرائم سیل کی تحقیقات جاری ہے اور کیس سے جڑے مزید حقائق سامنے آنے لگے ہیں۔

ایس ایس پی اینٹی والنٹ کرائم سیل انیل حیدر نے بتایا کہ تفتیش کے دوران ملزم ارمغان کے گھر سے ایک لڑکی کا ڈی این اے سیمپل ملا، کیس میں کئی لڑکیوں کے نام سامنے آئے، جس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

انیل حیدر کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات پرقبرکشائی کے بعد مصطفی کی لاش کے 11 نمونے حاصل کیے گئے، رپورٹ آنے کے بعد کیس سے جڑے کئی اہم حقائق سامنےآئیں گے۔

پولیس کے مطابق مرکزی ملزم ارمغان کے پاس دوقومی شناختی کارڈ ملے، جن میں سے ایک جعلی تھا تاہم ارمغال کے گھر سے جتنا سامان تحویل میں لیا تمام کیس پراپرٹی ہے۔

مصطفیٰ عامر قتل کیس میں نیا موڑ ! مارشا کے بعد انجلینا کون ہے؟
یاد رہے اے آر وائی نیوز کے نمائندے نے پروگرام باخبر سویرا میں کیس کے حوالے سے بتایا تھا کہ مصطفیٰ عامر قتل کیس میں پہلے مارشا شاہد نامی لڑکی کا نام لیا جارہا تھا اب انجیلینا نامی لڑکی کا نام سامنے آیا ہے، کہا جارہا ہے کہ انجیلینا ارمغان اور مصطفیٰ دونوں کی دوست تھی۔

نمائندے کا کہنا تھا کہ واقعے سے ایک دن پہلے ارمغان نے انجلینا کو کسی بات پر بہت مارا اور وہ زخمی ہوگئی ، اس کے بعد وہ ڈیفنس کے ایک اسپتال جاتی ہے اور مصطفیٰ کو فون کرکے بتاتی ہے کہ ارمغان نے مارا ہے اور یہی سے سارا جھگڑا شروع ہوتا ہے۔

نمائندے کا کہنا تھا کہ جس کارپٹ سے پولیس نے مصطفیٰ کے ڈی این اے کے لیے خون کا سیمپل لیا ، وہاں سے ایک الگ خون کا سیمپل ملا ہے، اندازہ یہی ہے کہ یہ سیمپل انجلینا کا ہے ، کیونکہ اسے مصطفیٰ کے قتل سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

واضح پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ارمغان نے تفتیش کے دوران مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا جبکہ گھر سے ملے ڈی این اے والی لڑکی کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے۔

تفتیش میں انکشاف ہوا تھا کہ ارمغان وہ خیابان محافظ سے دریجی تک مصطفیٰ عامر کی گاڑی ڈرائیو کر کے پہنچا تھا، پھر مقتول کی گاڑی کو آگ لگائی تو وہ زندہ اور نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا، اس نے مقتول کو ہاتھوں اور پیروں پر مار کر زخمی کیا تھا، رائفل سے تین فائر کیے جو اس کو نہیں لگے، اس پر فائرنگ وارننگ دینے کیلیے کیے تھے۔
https://urdu.arynews.tv/mustafa-amir-murder-case-police-investigate-role-of-girls/
=========================

کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ملزمان ارمغان اور شیراز کے جسمانی ریمانڈ میں 5 دن کی توسیع کر دی۔

کیس کے تفتیشی افسر نے ملزمان کے 14روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ ارمغان کے 2 ملازمین کا 164 کا بیان ریکارڈ کرانا ہے، ملزم ارمغان کے گھر سے ملنے والے اسلحے اور لیپ ٹاپ کا فرانزک کرانا ہے۔

مصطفیٰ عامر قتل کیس، ملزم ارمغان کی میڈیکل رپورٹ، جسم پر سرخ نشانات

دورانِ سماعت ملزم ارمغان کمرۂ عدالت میں گر گیا، اس موقع پر ملزم ارمغان کو بینچ پر بٹھایا اور پانی پلایا گیا۔

عدالت نے ملزم ارمغان سے سوال کیا کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟

ملزم ارمغان کمرۂ عدالت میں رونے لگ گیا جبکہ ملزم ارمغان کو دیکھ کر اس کا والد بھی رونے لگ گیا۔

پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ اور اے ٹی سی کورٹ ٹو میں بھی ملزم ایسے ہی گر گیا تھا، ملزم ارمغان کا میڈیکل کرایا گیا تو بالکل فٹ تھا۔

ملزم ارمغان نے الزام لگایا کہ مجھے کھانا بھی نہیں دیا جا رہا۔

ملزم ارمغان کی والدہ کی جانب سے طاہر رحمٰن تنولی نے وکالت نامہ پیش کر دیا۔

عدالت نے ملزم ارمغان سے سوال کیا کہ کیا یہ آپ کے وکیل ہیں؟

مصطفیٰ عامر قتل کیس: ملزم ارمغان کے ریمانڈ کی چاروں درخواستیں منظور

ملزم ارمغان نے کہا کہ نہیں یہ میرے وکیل نہیں ہیں، پہلے بھی مجھ سے دھوکے سے سائن کرایا گیا ہے۔

ملزم شیراز کے وکیل نے کہا کہ ملزم شیراز کا اس کیس سےتعلق نہیں ہے، بغیر لیڈی پولیس اہلکار کے ملزم کے گھر چھاپہ مارا گیا، شیراز کی بہن کا لیپ ٹاپ بھی پولیس ساتھ لے گئی، مجھے وکالت نامہ دستخط نہیں کرانے دیا گیا۔

دورانِ سماعت عدالت نے ملزم شیراز کا طبی معائنہ کرانے کی بھی ہدایت کر دی۔

عدالت نے ملزم شیراز سے ملاقات کے لیے بہن کی درخواست واپس کر دی۔

ملزم شیراز کی بہن کے وکیل نے ملاقات کی درخواست جمع کروائی تھی۔