کڈنی ہل پر کھانے کے فضلے کی ڈمپنگ: طیاروں کے لیے خطرہ


رپورٹ- سالک مجید- جیوے پاکستان ڈاٹ کام
کڈنی ہل پر کھانے کے فضلے کا ڈمپنگ: طیاروں کے لیے خطرہ

22 فروری 2025 کی صبح، تقریباً 8 سے 10 بجے کے درمیان، کڈنی ہل، کراچی کے علاقے میں اس رپورٹر نے مشاہدہ کیا کہ کئی طیارے کڈنی ہل کے اوپر سے گزر رہے تھے۔ یہ طیارے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے لیے اپنا رخ کر رہے تھے۔ اسی دوران، کڈنی ہل کے اوپر بڑی تعداد میں پرندے اڑتے ہوئے دیکھے گئے۔ یہ منظر نہ صرف حیران کن تھا بلکہ خطرناک بھی تھا، کیونکہ پرندوں کا طیاروں سے ٹکرانا کسی بھی حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔

خطرے کی وجہ
کڈنی ہل پر کچھ لوگ باقاعدگی سے کھانے کے فضلے اور گوشت کے ٹکڑے پھینکتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ علاقہ پرندوں کے لیے ایک پرکشش جگہ بن گیا ہے۔ فوزیہ وہاب فروٹ گارڈن اور راکاپوشی ٹریل جیسے مقامات پر روزانہ صبح کی سیر کے لیے آنے والے افراد نے بتایا کہ یہاں پرندوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ پرندے نہ صرف ماحول کے لیے خطرہ ہیں، بلکہ ہوائی ٹریفک کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ کڈنی ہل کے اوپر سے گزرنے والے طیاروں کے لیے یہ پرندے کسی بھی حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔

ہوائی حادثات کا خدشہ
ہوائی اڈے کے قریب ہونے کی وجہ سے کڈنی ہل کے اوپر سے گزرنے والے طیاروں کے لیے پرندوں کا اڑنا انتہائی خطرناک ہے۔ طیاروں کے انجنوں میں پرندوں کے داخل ہونے یا ان سے ٹکرانے کے واقعات (برڈ ہٹ) ہوائی حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ نہ صیر گھریلو پروازوں بلکہ بین الاقوامی پروازوں کے لیے بھی خطرناک ہے۔ کسی بھی حادثے سے بچنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

فوری اقدامات کی ضرورت
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکام کو فوری طور پر اقدامات کرنے چاہئیں۔ کڈنی ہل پر کھانے کے فضلے اور گوشت کے ٹکڑے پھینکنے والے افراد کو روکا جائے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ان لوگوں کو یہاں کھانے کا فضلہ پھینکنے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے؟ اس کے علاوہ، کڈنی ہل کے اردگرد مناسب سائن بورڈز لگائے جائیں تاکہ لوگوں کو اس خطرے کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔

عوام کی ذمہ داری
عوام کو بھی اس معاملے میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ کڈنی ہل جیسے خوبصورت مقامات کو صاف ستھرا رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ کھانے کے فضلے کو کھلے عام پھینکنے کے بجائے، اسے مناسب جگہ پر پھینکا جائے تاکہ پرندوں کی تعداد کو کنٹرول کیا جا سکے اور ہوائی حادثات کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

آخری بات
کڈنی ہل کراچی کی خوبصورتی اور تازہ ہوا کا ایک اہم مرکز ہے، لیکن یہاں کھانے کے فضلے کا ڈمپنگ نہ صرف ماحول کے لیے بلکہ ہوائی ٹریفک کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ حکام کو فوری طور پر اس مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں اور کڈنی ہل کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ہم سب کی مشترکہ کوششوں سے ہی اس خوبصورت مقام کو محفوظ اور صاف رکھا جا سکتا ہے۔
==========================

پی آئی اے کے طیارے سے پرندہ ٹکرانے کا واقعہ ، نقصان کی تفصیلات سامنے آگئیں
محمد صلاح الدین
کراچی : پی آئی اے کی لاہور سے دبئی کی پرواز سے پرندہ ٹکرانے سے نقصان کی تفصیلات سامنے آگئیں، انجن کے بلیڈز تبدیل کرنے پر لاکھوں روپے اخراجات آئے۔

تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کی لاہور سے دبئی کی پرواز سے پرندہ ٹکرانے کے معاملے کی تحقیقات کی گئی۔

پی کے203 پرواز کے طیارے سے پرندہ ٹکرانے سے نقصان کی تفصیلات سامنے آگئیں ، ذرائع نے بتایا کہ پرندہ ٹکرانے سے انجن کے 8 بلیڈز کو شدید نقصان ہوا، انجن کے بلیڈز تبدیل کرنے پر لاکھوں روپے اخراجات آئے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ انجینئرنگ ٹیم نے انجن کو بورواسکوپک معائنہ کرکےنقصان کا اندازہ لگایا جبکہ ملک بھر کے ایئرپورٹس پر تاحال برڈ ریپلنٹ سسٹم نصب نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں : پی آئی اے کا طیارہ بڑے حادثے سے بال بال بچ گیا
یاد رہے چند روز قبل دبئی جانے والا پی آئی اے کا طیارہ بڑے حادثے سے بال بال بچ گیا تھا، طیارے میں 150 سے زائد مسافر سوار تھے۔

پی آئی اے کی پرواز 203 سے پرندہ ٹکرایا، جس کے بعد کپتان نے ایئر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ کیا اور طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کی اجازت مانگی ، اجازت ملنے پر کپتان نے طیارہ بحفاظت لینڈ کرایا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ انسپکشن سے طیارے کے انجن کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگایا جائے گا۔