سندھ حکومت نے مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کے لئے کنزیومر پروٹیکشن کاؤنسل کو ضلعی سطح پر فعال کرنے کا فیصلہ اور ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں


کراچی
مور خہ21 فروری 2025

کراچی21 فروری۔ سندھ حکومت نے مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کے لئے کنزیومر پروٹیکشن کاؤنسل کو ضلعی سطح پر فعال کرنے کا فیصلہ اور ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں.اس سلسلے میں سندھ حکومت کا ماہ رمضان میں ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت ایکشن لینے,گوداموں کی رجسٹریشن سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس کی صدارت وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے محکمہ رسد و قیمت محمد عثمان غنی ہنگورو نے کی.اجلاس میں ڈی جی ڈاکٹرشاکر قیوم خانزادہ، ڈپٹی و اسسٹنٹ ڈائریکٹرز،پرائز انسپکٹرز اور گڈاؤن انسپکٹرز شریک ہوئے، جبکہ میں معاون خصوصی کو محکمہ رسد و قیمت کی کارکردگی اور رمضان المبارک کے حوالے سے حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی.معاون خصوصی عثمان غنی ہنگورو نے افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مہنگائی پر قابو نہ پانے اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کاروائی نہ کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، ماہ رمضان میں صوبہ سندھ کے شہریوں کی شکایات اور مسائل کو فوری بنیادوں پر حل کیا جائے. عثمان غنی ہنگورو نے افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ضلعی سطح پر قائم صارف تحفظ کونسلوں کو دوبارہ فعال کیا جائے، ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی اور کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے، صوبہ بھر میں افسران کی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں،یہ کمیٹیاں مارکیٹوں کی نگرانی کریں گی اور ناجائز منافع خوری سمیت ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کریں گی.ڈائریکٹر جنرل بیورو آف سپلائی ڈاکٹر شاکر قیوم خانزادہ نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ بھر میں مجموعی طور پر 1425 گوداموں کا رجسٹریشن کے لئے ڈیٹا اکٹھا کرلیا ہے، جبکہ 400 سے زائد گوداموں کی مزید ڈیٹا لیا جارہا ہے، کراچی ڈویژن میں 491 حیدرآباد ڈویژن میں 268، میرپورخاص ڈویژن میں 98،لاڑکانہ ڈویژن میں 210 گوداموں کا ڈیٹا لیا گیا ہے، سکھر ڈویژن میں 191 اور شہید بینظیر آباد ڈویژن میں 167 گوداموں کی تعداد ہے. ڈائریکٹر جنرل نے مزید بریفنگ میں کہا کہ سندھ میں ضروری اشیاء کی خریداری کرنے والے صارفین کے حقوق کے حوالے سے ماہانہ بنیاد پر آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے، شکایات یا تو ضلعی دفاتر کی جانب سے حل کی جاتی ہیں یا پہرانہیں ضلعی صارف تحفظ عدالتوں میں بھیجا جاتا ہے، ضلع جنوبی کراچی میں صارف عدالت میں ناجائز منافع خوروں کے خلاف 7 کیسز چل رہے ہیں.افسران نے اجلاس میں معاون خصوصی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں ناجائز منافع خوروں پر 13 لاکھ 60 ہزار, جبکہ سانگھڑ میں ایک لاکھ 85 ہزار روپے جرمانہ، جبکہ ٹنڈو محمد خان میں 1 لاکھ، مٹیاری 80 ہزار اور جامشورو میں ناجائز منافع خوروں پر 70 ھزار روپے جرمانہ کیا گیا ہے.

ہینڈآؤٹ نمبر 229۔۔آئی ایس
=====================

ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے فلاحی منصوبے بند کرنے کی افواہیں بے بنیاد ہیں، ترجمان ورکرز ویلفیئر بورڈ

مزدوروں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، بدعنوان عناصر پروپیگنڈا کر رہے ہیں، ترجمان ورکرز ویلفیئر بورڈ

مزدوروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، ترجمان ورکرز ویلفیئر بورڈ

کراچی21 فروری ۔ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے فلاحی منصوبے بند کرنے کی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ مزدوروں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ بدعنوان عناصر پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ سیکریٹری/سی ای او ورکرز ویلفیئر بورڈ مزدوروں کے حقوق پامال کر رہے ہیں اور فلاحی منصوبے ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ترجمان ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ نےحالیہ پرنٹ اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبروں کو سراسر گمراہ کن، بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی فلاحی منصوبہ بند نہیں کیا جا رہا بلکہ سندھ حکومت اور ورکرز ویلفیئر بورڈ مزدوروں کی بہتری کے لیے مزید اقدامات کر رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اضافی تصدیقی عمل کسی بھی قسم کی بدعنوانی، جعلی دعووں اور بے ضابطگیوں کے خاتمے کے لیے ضروری ہے تاکہ صرف مستحق مزدوروں کو ہی ویلفیئر گرانٹس دی جا سکیں اور فراڈ کرنے والوں کا راستہ روکا جا سکے۔ یہ عمل ضلعی انتظامیہ کی زیر نگرانی مکمل شفافیت کے ساتھ جاری ہے اور کسی بھی مستحق مزدور کو اس عمل سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ جو عناصر اس شفاف تصدیقی عمل کی مخالفت کر رہے ہیں دراصل وہی لوگ ہیں جو جعلی دعوے کر کے غیر قانونی فوائد حاصل کرتے رہے ہیں اور مزدوروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے میں ملوث رہے ہیں۔ترجمان ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ نے مزید کہا کہ چند مخصوص عناصر اپنے ذاتی مفادات کے لیے جان بوجھ کر غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں تاکہ شفافیت کے اس عمل کو متنازع بنایا جا سکے مگر ان کے یہ مذموم عزائم کامیاب نہیں ہوں گے۔ سندھ حکومت اور ورکرز ویلفیئر بورڈ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور کسی کو بھی مزدوروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عوام سے اپیل ہے کہ کسی بھی جھوٹی خبر یا افواہ پر کان نہ دھریں اور کسی بھی قسم کی تصدیق کے لیے براہ راست ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے دفتر سے رابطہ کریں۔ حکومت سندھ مزدوروں کے مسائل کے حل کے لیے پہلے سے زیادہ پرعزم ہے اور ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ فلاحی اسکیموں سے اصل مستحقین ہی مستفید ہو سکیں۔

ہینڈآؤٹ نمبر 230 ۔۔۔۔ایم ڈبلیو
===================

مور خہ21 فروری 2025

ضلع گھوٹکی میں 3 روزہ اسپورٹس میلہ کل ہفتہ کو سجے گا، وزیر کھیل سندھ سردار محمد بخش مہر کل ہفتہ کو دن 12 بجے افتتاح کریں گے

کراچی21 فروری۔ سندھ کی دیہی خواتین پہلی بار کرکٹ، باکسنگ، والی بال، ہاکی اور تھرو بال سمیت دیگر کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوھا منوائیں گی۔سندھ حکومت محکمہ کھیل نے دیہی خواتین کھلاڑیوں کو پروموٹ کرنے کے لئے ضلع گھوٹکی میں 3 روزہ اسپورٹس فیسٹیول کرانے کا اعلان کردیا ہے. ترجمان وزیر کھیل کا کہنا تھا وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر اسپورٹس فیسٹیول کا 22 فروری کو دن 12, بجے اسپورٹس کامپلیکس سردار علی محمد خان مہر گھوٹکی میں افتتاح کریں گے،اسپورٹس فیسٹول کے پہلے روز گھوٹکی میں ٹگ آف وار، وہیل چیئر کرکٹ، ویٹ لفٹنگ، فٹسال کے میچز کرائے جائیں گے،میرپور ماتھیلو میں ملا کھڑا، فٹبال، باکسنگ، گھوٹکی میں کوڈی کوڈی، خانگڑھ میں کرکٹ، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں تھرو بال کے گیمز کرائے جائیں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول گھوٹکی میں گرلز والی بال، تائیکوانڈو کا فائنل اور اسپورٹس کامپلیکس میں رات کومیوزیکل پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے، جبکہ دوسرے روز 23 فروری کو گھوٹکی میں گرلز فٹسال، والی بال،ہاکی، کوڈی کوڈی،بوائز والی بال، فٹسال، کرکٹ کے میچز کرائے جائیں گے،اسپورٹس فیسٹول کے تیسرے روز 24 فروری کو گرلز کرکٹ، فٹسال، والی بال،ہاکی، جبکہ بوائز میں کوڈی کوڈی، فٹسال، اور کرکٹ کے فائنل میچ کھیلے جائیں گے., اس کے علاوہ اسپورٹس فیسٹول کی اختتامی تقریب اور میوزیکل پروگرام 24 فروری کی شام 5 بجے سردار غلام محمد خان مہر اسپورٹس کامپلیکس خانگڑھ میں رکھی گئی ہے اور میوزیکل پروگرام کا بھی انعقاد کیا گیا ہے.

ہینڈآؤٹ نمبر 231 ۔۔۔۔آئی آیس
=========================

مور خہ21 فروری 2025

کراچی 21 فروری ۔سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی ہدایات پر محکمہ ٹرانسپورٹ کی ان فٹ کمرشل گاڑیوں کے خلاف کریک ڈائون کرتے ہوئے 53 گاڑیاں تحویل میں لے لی اور 15 ڈرائیورز کو گرفتار کر لیا۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے کریک ڈاؤن کے دوران مجموعی طور پر 1,115 گاڑیوں کی جانچ کی گئی، 565 کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر چالان کردیا گیا، جبکہ سڑک پر چلنے کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے سات کمرشل گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس منسوخ کر دیئے گئے۔ لاپرواہ اور غفلت برتنے والی ڈرائیونگ کرنے والوں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 279 کے تحت 17 ایف آئی آرز درج کر لی گئی ہیں۔ ہیوی ٹریفک پر عائد وقت کی پابندی کی خلاف ورزی پر دفعہ 188 کے تحت چھ مقدمات درج کر لئے گئے، جبکہ موٹر وہیکل آرڈیننس کی دفعات 99 اور 113 کے تحت 15 ڈرائیوروں کو لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن وسیع تر عوامی مفاد کا حصہ ہے، کریک ڈائون کا مقصد سڑکوں پر نظم و ضبط قائم رکھنا اور لاپرواہی کے باعث ہونے والے حادثات کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی کے لئے محکمہ ٹرانسپورٹ غیر معیاری گاڑیوں اور لاپرواہ ڈرائیوروں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے گا، کارروائیاں باقاعدگی سے کی جائیں گی ۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے خلاف ورزی کرنے والوں کو خبردار کیا کہ وہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں بصورت دیگر سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ہینڈآؤٹ نمبر 232 ۔۔۔۔